پختون قوم کی مظلومیت اور خیرخواہی کے دعووں کا عملی جائزہ

آج اسی بات پر غور کر رہا تھا کہ پختون قوم واقعی کئی حوالوں سے مظلوم ہے، اور بعض لوگ اس کی مظلومیت کو اجاگر بھی کرتے ہیں، جو اپنی جگہ ایک بڑا جہاد ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ پختونوں کے مسائل کے حل کے لیے عملی طور پر ایک انچ آگے بڑھنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی نظر آتی ہے۔

کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہمارے ہاں بے روزگاری بڑھ رہی ہے، تو کیوں نہ اپنی مدد آپ کے تحت کوئی ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ پختون آپس میں ایک دوسرے کی زمینوں پر ناجائز قبضے کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں خاندانوں کے خاندان دشمنیوں کی آگ میں جل جاتے ہیں، تو کیوں نہ اس مسئلے کے حل کے لیے ملکی یا صوبائی سطح پر کوئی مؤثر تنظیم قائم کی جائے۔

کسی نے یہ بھی سنجیدگی سے نہیں سوچا کہ ہمارا نوجوان دن بدن اخلاقی مسائل کا شکار ہو رہا ہے، تو اس کی اصلاح اور تربیت کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت کوئی تربیتی نظام بنایا جائے۔ اسی طرح پختون علاقوں میں آئس، چرس اور دیگر منشیات اس طرح فروخت ہو رہی ہیں جیسے عام اشیاء، اور نوجوان تیزی سے نشے کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں، مگر اس کی روک تھام کے لیے بھی اجتماعی سطح پر کوئی مؤثر منصوبہ بندی سامنے نہیں آتی۔

ہمارا نوجوان بڑے شہروں کا رخ کرتا ہے مگر اکثر وہاں جا کر مقصدِ زندگی کھو دیتا ہے، اور والدین کا سہارا بننے کے بجائے ان کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔

لیکن ہم میں سے کسی نے سنجیدگی سے یہ نہیں سوچا کہ کم از کم اپنی استطاعت کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی کوشش کی جاۓ ۔

افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ جو لوگ پختونوں کی مظلومیت کی بات کرتے ہیں، ان میں سب تو نہیں مگر ایسے عناصر کی ایک قابلِ ذکر تعداد موجود ہے جو پختونوں کے ذہن میں مظلومیت کے احساس کو بنیاد بنا کر انہیں مذہب، ملا اور ریاست مخالف بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر پختون قوم میں کوئی انقلابی ذہنیت پیدا بھی ہوتی ہے تو وہ اپنے مسائل کے حل کے بجائے مذہب بیزاری، ملا بیزاری اور ملک بیزاری کی طرف مڑ جاتی ہے۔ یہی رویہ دراصل ان کے لیے مزید مسائل پیدا کر رہا ہے، کیونکہ اس ذہنیت کے ساتھ وہ اپنی قوم کو مثبت سمت میں آگے نہیں لے جا سکتے۔

اس ضمن میں ایک نہایت اہم بات یہ بھی ہے کہ پختون قوم کی مظلومیت کو بنیاد بنا کر ملا، مذہب اور ریاست پر جو تنقید کی جاتی ہے، اسے لازماً ناجائز نہیں کہا جا سکتا، لیکن پختونوں کو استحصالی رویوں سے نکالنے کا درست طریقہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ پختون نوجوان کو قرآن و سنت کے علم سے بہرہ ور کرنے کے لیے نجی سطح پر ایسے ادارے قائم کیے جاتے، جہاں وہ اسلام کو تفصیلی دلائل کے ساتھ سیکھتے، جیسا کہ قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے۔ پھر یہی افراد قرآن و سنت کے علوم سے آراستہ ہو کر عوام کو اسلام کے اصل تصور سے آگاہ کرتے اور اپنے علم و کردار سے وہ عملی نمونہ پیش کرتے جو حقیقی معنوں میں علما کے شایانِ شان ہوتا ہے۔

اسی طرح پختون نوجوان کو دلائل کے ساتھ رعایا کے بارے میں ریاست کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جاتا، اور ایک مثالی ریاست کے تصور کو سمجھانے کے ساتھ نوجوانوں کو عملی میدان میں مثبت کردار ادا کرنے کے راستے دکھائے جاتے۔ مگر افسوس کہ اس سمت میں کوئی سنجیدہ اور منظم کوشش سامنے نہیں آئی۔ حالانکہ موجودہ دور میں قوم کو اسی نہج پر ڈالنا ایک اشد ضرورت ہے۔ جب اتنی بڑی ضرورت کے باوجود اس سمت میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پختون نوجوان کو صحیح سمت دینے کے دعوے کو کس بنیاد پر قبول کیا جائے؟

اس رویے کی وجہ سے پختونوں میں مزید تفریق بھی پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ پختونوں کی اکثریت مذہب سے وابستگی رکھتی ہے، ملک کے بارے میں مثبت سوچ رکھتی ہے اور علما کا احترام کرتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی کی غلطی کی نشاندہی نہ کی جائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ نشاندہی حقائق کے تناظر میں ہو، ایسے انداز میں ہو جو مثبت نتائج کا حامل ہو، اور نوجوانوں میں زیرک و متوازن ذہنیت پیدا کرے، نہ کہ تعصب اور نفرت کے ذریعے ان کے ذہنوں کو آلودہ کرے۔

خصوصاً اس تناظر میں یہ بات نہایت قابلِ غور ہے کہ مذہب بیزاری کے مقابلے میں پختون نوجوان نسل کو کمیونزم، لبرلزم اور سیکولرازم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جو مستقبل قریب میں پختون معاشرے کے اندرونی انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ کیونکہ پختون اگرچہ عملی طور پر کمزور مذہبی ہو سکتے ہیں، مگر ذہنی اور جذباتی طور پر مذہب سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اب جب ایک ہی گھر میں مذہبی اور سیکولر و لبرل ذہنیت پروان چڑھے گی تو اس کے نتائج کیا ہوں گے، اس کا اندازہ ہمیں سوشل میڈیا پر مذہبی رجحان رکھنے والوں اور لبرل و سیکولر ذہنیت کے حامل افراد کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم سے ہو رہا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پختون قوم کے مسائل کے حل کے سلسلے میں ایسے رویوں سے بچا جائے جو انہیں مزید مسائل سے دوچار کریں، اور ساتھ ہی پختون معاشرے میں پائے جانے والے سماجی مسائل اور منفی رویوں کی اصلاح کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق عملی کوشش کی جائے۔

آخر میں عرض ہے کہ پختونوں کے مسائل کے حل اور انہیں مظلومیت سے نکالنے کے لیے محض ان کی مظلومیت اور مسائل بیان کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ پختون معاشرے میں عملی طور پر ایسے مثبت رویے تشکیل دینے کی کوشش کی جائے جو ان کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں اور انہیں مظلومیت کی کیفیت سے باہر نکالنے میں معاون بن سکیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے