دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بناتی ہیں۔ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی سوچ، کردار اور شعور کو بہتر بناتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہے بلکہ اخلاقی اور سماجی لحاظ سے بھی ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچے تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ کئی علاقوں میں اسکولوں کی کمی، غربت اور وسائل کی کمی بچوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں والدین بچوں کو جلد کام پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھر کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ شرحِ خواندگی میں اضافہ سست روی کا شکار ہے۔
تعلیم نوجوانوں کو شعور دیتی ہے اور انہیں صحیح اور غلط میں فرق سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔ آج کے دور میں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم بھی بے حد ضروری ہو چکی ہے تاکہ نوجوان عملی میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ نصاب اور عملی زندگی کے درمیان بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ طلبہ کو رٹا لگانے کی عادت تو سکھائی جاتی ہے مگر تحقیق اور تخلیقی سوچ پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق تعلیمی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرے اور ہر بچے تک معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے۔ اساتذہ کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر ہم واقعی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو اپنی قومی ترجیح بنانا ہوگا، کیونکہ تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو قوموں کو اندھیروں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔