پسنی میں نمک سازی کی صنعت: ماضی کا منافع بخش کاروبار زوال کی جانب گامزن

22 سالہ وسیم شاہ داد اپنے والد کے عارضی نمک کے کارخانے میں کام میں مصروف تھا۔ تیار شدہ نمک کے ایک چھوٹے سے ٹیلے کے قریب بیٹھے ہوئے اس نے بتایا کہ دوسروں کے ہاں مزدوری کرنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملنے والے کاروبار کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وسیم کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران سیپی کے وافر شکار کی وجہ سے ان کا کاروبار نسبتاً بہتر رہا ہے۔ ان کی فیکٹری میں ماہانہ تقریباً چار ٹن نمک تیار ہوتا ہے، جس سے گھر کے اخراجات باآسانی پورے ہو جاتے ہیں۔ ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار کو آگے بڑھانے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔

وسیم کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے 70 سالہ والد، ملا شاہ داد، جو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپنے علاقے کے کونسلر بھی منتخب ہوئے، بتاتے ہیں کہ پسنی میں نمک سازی کی صنعت کی بنیاد 1916 میں ان کے آباؤ اجداد نے رکھی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اس ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے آج بھی یہ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملا شاہ داد کے مطابق وہ اپنے تین بیٹوں کے ساتھ مل کر یہ کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی مناسب منافع مل جاتا ہے اور کبھی کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، لیکن چونکہ یہ کاروبار انہیں وراثت میں ملا ہے، اس لیے وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق پسنی میں نمک سازی سے وابستہ زیادہ تر افراد کا تعلق ان ہی کے خاندان سے ہے، اسی نسبت سے اس علاقے کو "واد سر” بھی کہا جاتا ہے۔

نمک سازی کے کاروبار کا سنہرا دور
ملا شاہ داد، جو بچپن ہی سے اس صنعت سے وابستہ ہیں، ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چند دہائیاں قبل یہ صنعت اپنے عروج پر تھی اور اس سے وابستہ افراد اچھی آمدنی حاصل کرتے تھے۔

ان کے مطابق اس دور میں مچھلیوں کو نمک لگا کر خشک کیا جاتا اور پھر سری لنکا سمیت مختلف ممالک کو برآمد کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے مقامی طور پر تیار ہونے والے نمک کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ اس وقت پسنی میں کھلے میدانوں میں تقریباً دو درجن روایتی نمک کے کارخانے موجود تھے۔ سمندر سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کو صاف کرکے ان پر نمک لگایا جاتا، دھوپ میں خشک کیا جاتا اور بعد ازاں بیرونِ ملک بھیج دیا جاتا تھا۔
منافع بخش کاروبار زوال کا شکار کیوں ہوا؟
وقت کے ساتھ دنیا بھر میں تازہ اور منجمد (Frozen) مچھلی کی مانگ میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نمکین خشک مچھلی کی طلب کم ہوگئی۔ اس تبدیلی نے نمک سازی کی صنعت کو بھی شدید متاثر کیا۔

آج پسنی میں صرف آٹھ نمک کے کارخانے باقی رہ گئے ہیں، جبکہ ماضی میں ان کی تعداد دو درجن کے قریب تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق یہاں ماہانہ تقریباً 50 ٹن نمک تیار کیا جاتا ہے، لیکن محدود طلب کے باعث لوگ اس کاروبار کو وسعت دینے سے گریزاں ہیں۔

پسنی میں تیار ہونے والا نمک کہاں استعمال ہوتا ہے؟
پسنی میں روایتی طریقے سے تیار کیا جانے والا نمک مقامی منڈیوں کے علاوہ ضلع کیچ اور گردونواح کے علاقوں میں بھی فروخت کیا جاتا ہے۔

گرمیوں میں جیلی فش کے وافر شکار کے دوران اسے محفوظ کرنے کے لیے ساحل کے قریب کیاریاں بنا کر ان میں نمک ڈالا جاتا ہے۔ بعد ازاں تیار شدہ جیلی فش چین برآمد کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی برف خانوں میں پانی کو منجمد کرکے برف تیار کرنے کے لیے بھی نمک استعمال کیا جاتا ہے۔ اکتوبر سے دسمبر تک سیپی کے شکار کے موسم میں بھی نمک کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

وسیم شاہ داد کے مطابق عام دنوں میں نمک کی کھپت کم رہتی ہے، اس لیے وہ فی کلو تقریباً آٹھ روپے کے حساب سے نمک فروخت کرتے ہیں، جبکہ گھریلو استعمال کے لیے ضرورت مند افراد کو مفت بھی نمک فراہم کیا جاتا ہے۔

نمک کیسے تیار کیا جاتا ہے؟
نمک کی تیاری کے لیے چکنی مٹی سے درجن بھر چھوٹی کیاریاں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے قریب کنواں کھود کر اس کا پانی کیاریوں میں ڈالا جاتا ہے تاکہ مٹی اچھی طرح سخت اور ہموار ہو جائے۔

اس کے بعد زیر زمین نمکین پانی تقریباً تین انچ کی گہرائی تک کیاریوں میں بھرا جاتا ہے اور نمک تیار ہونے تک پانی کی یہی سطح برقرار رکھی جاتی ہے۔ اگر پانی کی سطح کم ہو کر ڈیڑھ انچ رہ جائے تو نمک کے بجائے تیزابیت پیدا ہونے لگتی ہے۔

ملا شاہ داد کے مطابق نمک کی تیاری میں استعمال ہونے والا زیر زمین پانی سمندری پانی کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ نمکین اور گاڑھا ہوتا ہے۔موسم بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شدید گرمی میں نمک تقریباً پندرہ دن میں تیار ہو جاتا ہے، سردیوں میں ایک سے دو ماہ جبکہ معتدل موسم میں تقریباً ایک ماہ درکار ہوتا ہے۔ تیار ہونے کے بعد نمک کو پانی سمیت ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے، پھر صفائی کے بعد الگ کر کے فروخت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سالٹ پین (Salt Pans) قدرتی ارضیاتی ساختیں ہیں، جہاں سورج کی حرارت سے پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے اور نمک باقی رہ جاتا ہے۔

دنیا میں نمک کا استعمال
عالمی سطح پر پیدا ہونے والے نمک کا تقریباً 68 فیصد صنعتی پیداوار میں، 12 فیصد پانی صاف کرنے، 8 فیصد برف ہٹانے، 6 فیصد زراعت اور صرف 6 فیصد خوراک میں استعمال ہوتا ہے۔
سمندری نمک کی غذائی اہمیت

ماہرین کے مطابق پسنی میں روایتی طریقے سے تیار ہونے والا نمک زیادہ دیر تک محفوظ رہتا ہے کیونکہ اس کی تیاری میں کسی قسم کے کیمیکل استعمال نہیں کیے جاتے۔

ان کے مطابق قدرتی سمندری نمک میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور سوڈیم جیسے اہم معدنیات موجود ہوتے ہیں، جو جسم کے میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں موجود کیلشیم زخموں کے جلد بھرنے اور انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات
وسیم شاہ داد شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سمندری طوفانوں اور اونچی لہروں کے باعث اکثر ان کا تیار شدہ نمک ضائع ہو جاتا ہے، کیونکہ ان کی نمک کی کیاریاں ساحل کے قریب واقع ہیں۔ جب سمندری پانی اندر آ جاتا ہے تو تیار شدہ نمک بہہ جاتا ہے، لیکن آج تک حکومت کی جانب سے انہیں کسی قسم کی مالی امداد یا معاوضہ نہیں ملا۔

حکومتی سرپرستی کا فقدان
نمک کے کاروبار سے منسلک مقامی لوگوں کے مطابق پسنی کی نمک سازی ایک اہم اور منافع بخش صنعت بن سکتی ہے کیونکہ یہاں تیار ہونے والا نمک خالص اور معیاری ہے۔

ان کے خیال میں اگر اس صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، نمک کو صاف کرکے معیاری پیکنگ کے ساتھ ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچایا جائے اور جدید مشینری سے آراستہ فیکٹریاں قائم کی جائیں تو نہ صرف سینکڑوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملکی معیشت میں بھی سالانہ کروڑوں روپے کا اضافہ ممکن ہوگا۔
ملا شاہ داد بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں نمک سازی کے لیے موزوں زمین وافر مقدار میں موجود ہے، لیکن وسائل کی کمی کے باعث وہ جدید فیکٹری قائم نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی وہ روایتی طریقوں سے نمک تیار کرنے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس صنعت کی سرپرستی کرے اور جدید سہولیات فراہم کرے تو نہ صرف مقامی لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ پسنی کی یہ تاریخی صنعت دوبارہ اپنے عروج کی طرف لوٹ سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے