حیدرآباد سندھ کا ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے، جو اپنے اندر صدیوں پرانی تہذیب، ثقافت اور علمی روایات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ شہر تاریخ کے طالب علم کے لیے علم و تحقیق کا ایک بہت بڑا ذخیرہ اور نایاب مواد فراہم کرتا ہے۔ یہاں کا رخ کرنے والے محققین کے لیے پکا قلعہ اور کچا قلعہ گزرے ہوئے کل کی داستانیں سناتے ہیں، جبکہ سند الائجی کا ادارہ سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، ثقافت اور نوادرات کو محفوظ رکھنے والا ایک منفرد اور مستند میوزیم ہے۔
اس شہرِ علم میں علامہ داؤد پوتہ لائبریری، سندھی ادبی بورڈ اور شاہ ولی اللہ اکیڈمی، حسرت موہانی لائبریری وغیرہ جیسے مایہ ناز علمی اور ادبی ادارے موجود ہیں، جو نادر مخطوطات، تاریخی دستاویزات اور علمی جرائد کا گرانقدر خزانہ رکھتے ہیں۔ یہ تمام مقامات تاریخ اور ادب کے پیاسوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں، لیکن ان کی وسعت اور گہرائی کے باعث بسا اوقات کوشش کے باوجود انسان ان سے پوری طرح استفادہ کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ ہم ہر بار یہاں آنے کا پکا ارادہ کرتے، لیکن کسی نہ کسی وجہ سے کامیابی حاصل نہیں ہو پاتی تھی۔
تاہم، اس بار ہماری یہ دیرینہ خواہش مولانا ڈاکٹر لطف اللہ بروہی صاحب کی بدولت پوری ہوئی اور ہم ان جگہوں میں سے حسرت موہانی لائبریری پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ڈاکٹر بروہی صاحب خود ایک انتہائی باذوق اور علم دوست شخصیت ہیں، جن کی رہنمائی نے ہمارے اس سفر کو یادگار بنا دیا۔ ان کی معیت میں جب ہم حیدرآباد کے مرکز میں، تاریخی پکے قلعے کے بالکل متصل واقع علم و ادب کے گہوارے "حسرت موہانی لائبریری” پہنچے، تو اس کی عظمت کا اندازہ اس کی تاریخ دیکھ کر ہی ہو گیا۔
وکٹورین طرزِ تعمیر کا یہ دلکش شاہکار تقریباً ڈیڑھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جس کی عمارت برطانوی دورِ حکومت کی یادگار ہے۔ 1905ء میں یہ عمارت شہر کے ایک معروف برطانوی سول سرجن ڈاکٹر ہوم اسٹیڈ کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی، جس کے باعث اسے طویل عرصے تک "ہوم اسٹیڈ ہال” کے نام سے جانا جاتا رہا۔ تقسیمِ ہند کے بعد، کچھ عرصہ یہاں ریڈیو پاکستان کا علاقائی دفتر بھی قائم رہا۔ بعد ازاں، 1967ء میں اس علمی و ثقافتی مرکز کو تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما، انقلابی سیاست دان اور نامور اردو شاعر مولانا حسرت موہانی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
اس تاریخی لائبریری میں داخل ہوتے ہی ایک پرسکون ماحول نے ہمارا استقبال کیا۔ علم کے اس خزینے میں 20,000 سے زائد کتب کا ایک وسیع اور نایاب ذخیرہ موجود ہے، جس میں تاریخ، ادب، مذہب اور سائنسی موضوعات پر گراں قدر کتب شامل ہیں۔ وقت کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے یہاں ایک ای-لائبریری (E-Library) سیکشن بھی قائم کیا گیا ہے، جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے قارئین کو بین الاقوامی ڈیجیٹل مواد تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، عمارت کی اوپری منزل پر قائم "حیدرآباد گیلری” شہر کی تاریخی و ثقافتی جھلکیاں پیش کرتی ہے، جبکہ ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ طالبات کے لیے یہاں بیٹھنے کا علاحدہ اور محفوظ انتظام بھی موجود ہے۔
ہم نے ڈاکٹر بروہی صاحب کی معیت میں لائبریری میں کافی دیر تک علمی مواد سے استفادہ کیا، اور ہمیں اپنی تحقیق کے لیے بہت سی کام کی چیزیں اور نایاب کتابیں دیکھنے کو ملیں۔ وہاں مطالعہ کرنے والے شائقین اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جو علم کی جستجو میں مگن تھی۔ ان سب میں جو سب سے بڑی اور اچھی بات ہمیں نظر آئی، وہ لائبریری کے اوقاتِ کار تھے، جو ہمیں بے حد پسند آئے۔ حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت کے زیرِ اہتمام چلنے والا یہ کتب خانہ شام اور رات کے وقت بھی کھلا رہتا ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد اپنے دن بھر کے کاموں اور مصروفیات سے فارغ ہو کر، یہاں پرسکون ماحول میں بھرپور اور بہتر انداز میں علم کی پیاس بجھا سکتے ہیں۔
حسرت موہانی لائبریری سے فارغ ہونے کے بعد، ہم نے شہر کے نامور اشاعتی اداروں اور تجارتی کتب فروشوں کا رخ کیا۔ اس سلسلے میں ہم سندھ کے معروف مکتبوں "روشنی پبلیکیشنز” اور "سندھیکا” پہنچے، جہاں کتابوں کی ایک وسیع دنیا آباد تھی۔ ہم نے وہاں موجود متنوع اور گرانقدر کتب کا معائنہ کیا اور اپنے ذوق کے مطابق کچھ مفید کتابیں بھی خریدیں۔
بندہ حیدرآباد آئے اور ربڑی نہ خریدے تو پھر جو اس کا گھر میں حشر ہونا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں، اس لیے ہم ہم نے حیدرآباد کی مشہورِ زمانہ سوغات "ربڑی” خریدنے میں عافیت سمجھی۔ اس کے بعد ہم نے شہر کے نامور اور مصروف ترین تجارتی مرکز "گاڑی کھاتہ” اور اس کے آس پاس کے دیگر مشہور چوکوں اور مقامات کی سیر کی اور وہاں کی گہما گہمی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
آخر میں، حیدرآباد کی معروف و لذیذ بریانی کھائی اور بعد میں اس تاریخی شہر کو الوداع کہتے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس طرح ہمارا یہ سفر اگرچہ بہت مختصر تھا، لیکن علمی، ادبی اور تفریحی لحاظ سے بے حد مفید اور یادگار رہا۔