کیا مصنوعی ذہانت تخلیقی صلاحیتوں کا گلہ گھونٹ رہی ہے؟

کہا جاتا ہے کہ تخلیقی خیالات اکثر تنہائی اور فراغت کے لمحوں میں جنم لیتے ہیں۔ آج تیز موسمی ہواؤں کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنے کا ارادہ نہ بن سکا، تو سوچا وقت کو ایک سوال کے ساتھ گزارا جائے۔ میں نے مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز، خصوصاً چیٹ جی پی ٹی، سے بار بار یہی سوال کیا کہ کیا مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا گلہ گھونٹ رہی ہے؟

ہر بار جواب تقریباً ایک ہی تھا: "نہیں، مصنوعی ذہانت تخلیقی صلاحیتوں کو ختم نہیں کر رہی، بلکہ ان کے اظہار کا انداز بدل رہی ہے۔”

یہ جواب اپنی جگہ منطقی تھا، مگر میرے لیے مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں تھا۔ اس کے بعد میں نے اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے واٹس ایپ کا رخ کیا، کیونکہ آج کل ہماری علمی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کا بڑا حصہ اسی پلیٹ فارم پر منتقل ہو چکا ہے۔
واٹس ایپ پر روزانہ درجنوں پریس ریلیز، بیانات اور مضامین گردش کرتے ہیں۔ سیاسی اور سماجی تنظیمیں اکثر عملی سرگرمیوں سے زیادہ مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی سے تیار کردہ تحریروں پر انحصار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ صحافت سے وابستہ بعض افراد بھی بغیر تحقیق، ترمیم یا ذاتی تجزیے کے مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد کو اپنی تخلیق کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔ اکثر ایسی تحریریں پڑھ کر فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان میں انسانی مشاہدے سے زیادہ مشین کی ساخت جھلک رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ کاغذ اور قلم کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت ایک طاقتور معاون کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ AI موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس مقصد اور کس انداز سے استعمال کرتے ہیں۔
مختلف لوگوں سے گفتگو اور اپنے مشاہدات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مصنوعی ذہانت خود تخلیقی صلاحیتوں کی دشمن نہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان سوچنے، تحقیق کرنے اور مشاہدہ کرنے کے بجائے ہر کام AI کے سپرد کر دیتا ہے۔ وقت کی بچت نے ایسے افراد کو بھی لکھنے والوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جنہیں نہ لکھنے کا سلیقہ آتا ہے اور نہ ہی دو سطریں غور سے پڑھنے کی عادت ہے۔

تخلیق صرف خوبصورت الفاظ کا نام نہیں، بلکہ مشاہدے، تجربے، احساس، تحقیق اور تنقیدی سوچ کا مجموعہ ہے۔ یہ اوصاف کسی مشین میں نہیں، بلکہ انسان میں ہوتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت ایک بہترین معاون ضرور ہو سکتی ہے، مگر وہ انسانی ذہن، احساس اور تخلیقی وجدان کا متبادل نہیں بن سکتی۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ مصنوعی ذہانت تخلیقی صلاحیتوں کا گلہ نہیں گھونٹ رہی، بلکہ یہ فیصلہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے اپنی سوچ کو نکھارنے کے لیے استعمال کرتا ہے یا اپنی سوچ سے دستبردار ہونے کے لیے۔
دوسری جانب، ہم میں سے بیشتر لوگ تخلیق اور تنقیدی سوچ پر توجہ دینے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اس قدر شامل ہو چکے ہیں کہ انہیں اپنی منزلِ مقصود کا بھی درست اندازہ نہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی بھرمار ہے، اور اکثر لوگ حقائق کی جانچ (Fact-checking) کیے بغیر معلومات آگے بڑھا دیتے ہیں۔ یوں مصنوعی ذہانت خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال معاشرے میں غلط معلومات، سطحی سوچ اور تخلیقی جمود کو فروغ دے رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے