نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
علامہ محمد اقبال صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک عظیم مفکر، مصلح اور امتِ مسلمہ کے فکری رہنما تھے۔ ان کی شاعری میں زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے رہنمائی موجود ہےلیکن نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام سب سے زیادہ ولولہ انگیز اور انقلابی ہے۔
اقبال نے نوجوان کو "شاہین” کا استعارہ دے کر محض ایک پرندے کی مثال پیش نہیں کی
بلکہ ایک ایسے کردار کا تصور دیا جو بلند ہمت، خوددار، بے خوف، صاحبِ یقین اور مسلسل جدوجہد کرنے والا ہو۔
اقبال کے نزدیک قوموں کی تقدیر ان کے نوجوانوں کے فکر، کردار اور عمل سے وابستہ ہوتی ہے۔آج جب ہم اپنے معاشرے، اپنے تعلیمی نظام اور نوجوان نسل کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا اقبال کا شاہین اپنی اصل پرواز کی تلاش میں ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو ایسا نظامِ تعلیم دیا ہے جس میں ڈگریوں کی اہمیت تو ہے مگر خودی، خودداری، کردار سازی، تحقیق، تخلیقی سوچ اور قیادت کی تربیت کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کی ضرورت تھی۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار کا حصول نہیں بلکہ ایک باکردار، خوداعتماد اور باوقار انسان کی تشکیل بھی ہے۔
اقبال کے فلسفۂ خودی کا بنیادی مقصد انسان کے اندر خود اعتمادی، خودداری، کردار کی پختگی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا پیدا کرنا تھا۔ ان کے نزدیک وہی نوجوان شاہین بن سکتا ہے جو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہو مسلسل محنت کرے، مشکلات سے نہ گھبرائے اور دوسروں کے سہارے کے بجائے اپنی جدوجہد پر اعتماد کرے۔
افسوس کہ آج ہمارا نوجوان ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے جہاں اس کی خودی کو بیدار کرنے کے بجائے اسے آسان راستوں، سفارش، نقل اور دوسروں پر انحصار کا عادی بنایا جا رہا ہے۔ جب خودی کمزور ہو جائے تو بلند پروازی کا جذبہ بھی ماند پڑ جاتا ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب نوجوان امیدوں اور خوابوں کے ساتھ عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے اکثر میرٹ کے بجائے سفارش، اقربا پروری، ناانصافی اور بندربانٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب قابلیت کی قدر نہ ہو اور محنت کا صلہ تعلقات کی نذر ہو جائے تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ ایسے حالات میں نوجوان کی پرواز شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے پر کمزور پڑ جاتے ہیں۔
اقبال کا شاہین تیز ہواؤں سے خوف زدہ نہیں ہوتا بلکہ انہی ہواؤں کو اپنی بلندی کا ذریعہ بناتا ہے لیکن جب حالات اس قدر مشکل ہو جائیں کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کے باوجود خود کو بے بس محسوس کرے تو وہ بہتر مواقع کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس طرح قوم اپنی قیمتی صلاحیتوں سے محروم ہو جاتی ہے جبکہ دوسرے ممالک انہی نوجوانوں کی قابلیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ صرف نوجوانوں کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا المیہ ہے۔
نوجوانوں کے لیے منصوبے تو بنتے ہیں مگر ان کے ثمرات اکثر حقیقی مستحقین تک نہیں پہنچ پاتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو صرف سہولتیں نہیں بلکہ ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ اپنی صلاحیت، محنت اور قابلیت کے ذریعے آگے بڑھ سکیں۔
یقینامسئلہ یہ نہیں کہ اقبال کا شاہین ختم ہو گیا ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسے اپنی پہچان، اپنی خودی اور اپنی قوت کا احساس دلانا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے اس کے پروں پر مایوسی، بے یقینی اور ناانصافی کا بوجھ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی پرواز محدود ہو گئی ہے۔
تاہم اقبال نے کبھی مایوسی کا درس نہیں دیا۔ ان کا یقین تھا کہ نوجوان اگر اپنی خودی کو پہچان لے تو وہ قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہوگا جو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ کردار، تحقیق، قیادت، خودی اور حب الوطنی پیدا کرے۔
اقبال نوجوانوں کو امید، جستجو اور مسلسل جدوجہد کا پیغام دیتے ہیں:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
آپ امید کا چراغ روشن کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
آج بھی اگر ہم اپنے نوجوانوں پر اعتماد کریں، انہیں انصاف، میرٹ اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کریں تو یہی نوجوان اقبال کے شاہین بن کر اس وطن کو ترقی، خودداری اور وقار کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
اقبال کا شاہین کہیں کھویا نہیں بلکہ اپنی حقیقی پرواز کی تلاش میں ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس کی خودی کو بیدار کریں اس کے حوصلے کو مضبوط کریں اور اسے وہ فضا فراہم کریں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کے ساتھ بلند پرواز کر سکے۔