زبان کی غلامی

زبان کبھی محض ابلاغ کا آلہ نہیں رہی؛ یہ اقتدار، تفاخر اور تسلط کا بھی ایک ہتھیار رہی ہے۔ برصغیر پر انگریز کی حکمرانی محض سیاسی و معاشی استحصال تک محدود نہ تھی، بلکہ اس کا ایک نہایت باریک اور دیرپا وار ہماری زبانوں، ہمارے علم اور ہمارے فکری وقار پر تھا۔ ۱۸۳۵ء میں لارڈ میکالے نے برطانوی پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا کہ ہندوستان اور عرب کے پورے کتب خانوں کی علمی وقعت یورپ کی ایک اچھی لائبریری کی محض ایک شیلف کے برابر بھی نہیں۔ اسی تعصب پر مبنی سوچ نے وہ تعلیمی نظام جنم دیا جس کا مقصد ایک ایسا طبقہ تیار کرنا تھا جو رنگ و نسل میں ہندوستانی رہے مگر ذوق، رائے اور فکر میں انگریز بن جائے۔ فارسی، عربی اور مقامی زبانیں سرکاری، عدالتی اور تعلیمی میدان سے بتدریج نکال باہر کی گئیں، اور انگریزی کو معتبر علم کی واحد زبان بنا دیا گیا۔

اس پالیسی کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تضحیک آمیز تھا۔ جب مقامی لوگوں نے انگریزی سیکھنے کی کوشش کی، تو خود اس کوشش کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں بنگال میں کمپنی کے دفاتر میں بھرتی کیے گئے مقامی کلرکوں کو، جو انگریزی میں دستاویزات مرتب کرتے، طنزاً "بابو” کہا جانے لگا . ایک لفظ جو خود بنگالی میں احترام کی علامت تھا، مگر انگریز کے ہاتھوں طعنے میں ڈھل گیا۔ ان کلرکوں کی انگریزی کو "بابو انگریزی” کہہ کر ایک الگ ہی تضحیکی صنف بنا دیا گیا — ایک ایسا اسلوب جسے حد سے زیادہ آراستہ، تصنع بھرا اور غیر فطری قرار دے کر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا۔ گویا مقامی آدمی دونوں طرف سے ہارا: نہ اپنی زبان کی توقیر باقی رہی، نہ بیگانی زبان میں کبھی برابری کا درجہ ملا۔ یہی وہ نفسیاتی زخم ہے جس نے پوری قوم کو صدیوں تک محکوم اور محتاجِ تصدیق رکھا۔

سب سے تلخ ستم مگر آزادی کے بعد ہوا۔ جس انگریز سے سیاسی آزادی حاصل کی گئی، اسی کی زبان و تہذیب سے قوم آزادی کے بعد بھی چمٹی رہی۔ ہماری موجودہ بیوروکریسی برطانوی امپیریل سول سروس ہی سے ماخوذ ہے، اور قیامِ پاکستان کے فوراً بعد یہی نوآبادیاتی ڈھانچہ "سول سروس آف پاکستان” کی شکل میں اپنی جدید صورت میں ڈھل گیا .نام بدلا، روح وہی رہی۔ ریاستی ادارے، اعلیٰ تعلیم اور اشرافیہ کا طبقہ انگریزی ہی کو ترقی کا زینہ سمجھتے رہے، جبکہ اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، شینا، انڈس کوہستانی جیسی درجنوں مقامی و علاقائی زبانیں پس پشت ڈال دی گئیں۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے: تعلیمی نظام انگریزی میڈیم اور مقامی میڈیم میں بٹ کر طبقاتی تقسیم کی علامت بن گیا؛ زبان کی بنیاد پر امیر و غریب اور شہری و دیہاتی کی خلیج وسیع تر ہوتی گئی؛ اور جو نسل اپنی مادری زبان میں سوچنا، لکھنا اور سیکھنا چھوڑ گئی، اس نے اپنے ساتھ صدیوں کا لوک ادب، دانش اور شناخت بھی خاموشی سے دفن کر دیا۔ ہم برباد تو ہوئے ہی، تعلیم کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔

اور ستم بالائے ستم یہ کہ جو زبان ہم نے اپنے دفتروں میں مقدس نشانی کی طرح تھام رکھی ہے، اس کے اصل وارثوں نے اسے کب کا بدل ڈالا۔ خود انگریز نے اپنی سرکاری اور قانونی زبان کو سادہ بنانے کی طرف رخ کر لیا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں امریکہ میں صارفین کے حقوق کے تحت واضح زبان کی تحریک نے جنم لیا؛ ۱۹۷۳ء میں سٹی بینک نے پہلا سادہ زبان پر مبنی مالیاتی معاہدہ متعارف کروایا؛ ۱۹۷۹ء میں برطانیہ میں کرسی مہر کی قائم کردہ "پلین انگلش کیمپین” نے پیچیدہ سرکاری و مالیاتی زبان کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی؛ اور بالآخر ۱۳ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو امریکی صدر نے "پلین رائٹنگ ایکٹ” پر دستخط کیے، جس کے تحت وفاقی اداروں کے لیے عوام سے متعلق دستاویزات میں واضح اور قابلِ فہم زبان استعمال کرنا قانوناً لازم قرار دیا گیا۔ عرب دنیا میں بھی یہی رجحان دو ہزار کی دہائی کے وسط سے قانونی زبان کو سادہ بنانے کی صورت میں نمودار ہوا، اس اصول پر کہ کسی عام شخص سے ایسی زبان کی پابندی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا جسے وہ سمجھ ہی نہ سکے۔

مگر ہمارے سرکاری دفاتر آج بھی اٹھارہویں صدی کی اسی متروک انگریزی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ "The undersigned is directed” جیسے فقرے آج بھی جوں کے توں نوٹنگ کی زینت بنے ہوئے ہیں، اور ہم ان میں ایک حرف کے تغیر کو بھی برداشت نہیں کر سکتے . ایسے پکے لکیر کے فقیر بن چکے ہیں کہ نوآبادیاتی دور کا زبانی ڈھانچہ ہمارے لیے مقدس ہو گیا ہے، جبکہ خود اس زبان کے مالکوں نے اسے کب کا رخصت کر دیا۔ یہ محض ایک لسانی عادت نہیں، بلکہ ایک ذہنی غلامی کی علامت ہے جو سیاسی آزادی کے باوجود قائم رہی۔

اور یہ معاملہ صرف دفتری نوٹنگ تک محدود نہیں۔ ہمارے سرکاری، تعلیمی اور عدالتی نظام میں گویا ہر جگہ انگریزی ہی انگریزی ہے .سڑکوں، گلیوں، شاہراہوں اور اداروں کے نام تک انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، جبکہ عام آدمی کو اردو ہی بمشکل سمجھ آتی ہے۔ یعنی بولتے اور سمجھتے ہم اردو اور اپنی مقامی زبانیں ہیں، مگر لکھتے انگریزی میں ہیں . کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

اس ساری بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زبان کی سادگی اور زبان کی اپنائیت، دونوں ہی قوموں کی ذہنی آزادی کی شرط ہیں۔ جس طرح جدید قانونی زبان نے پیچیدگی کی بجائے وضاحت کو معیار بنا کر عام آدمی کو اس کے حقوق سے آگاہ کیا، اسی طرح ایک زندہ قوم کو اپنی مادری زبان کی سادگی اور اپنے سرکاری نظام کی زبان کی تجدید، دونوں کی ضرورت ہے۔ سادگی میں ہی راحت ہے . چاہے وہ قانون کی زبان ہو، دفتری نوٹنگ ہو، یا تعلیم کا ذریعہ۔ جو قوم اپنی زبان کی قدر بھول جائے، وہ اپنی یادداشت، اپنی تاریخ اور اپنے مستقبل کی راہ بھی گم کر بیٹھتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے