مکہ کے مقدس افق پر ثبت ہونے والے تینوں اسلامی ریاستوں کے دستخط بظاہر ایک تحریری معاہدہ ہیں، مگر تزویراتی تاریخ کے نقاد جانتے ہیں کہ لفظوں کے کاغذ پر اترنے اور ان کا میدانِ عمل میں ڈھلنے کا سفر ہمیشہ پرخار ہوتا ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں اور منقسم ہوتی ہوئی طاقت کے اس دور میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا یہ مشترک اقدام محض ایک عسکری دستاویز نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی ماحول میں ایک نیا علاقائی دفاعی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ باہم دستخط شدہ یہ عہد نامہ ایک سکت بخش پیش رفت ضرور ہے، لیکن سیاست کا بنیادی تقاضا یہ طے کرنا ہے کہ آیا یہ اشتراک ایک متحرک، خود مختار عسکری حصار بنے گا یا محض بیانیہ پر مبنی جذباتی منشور بن کر رہ جائے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ معاہدو ں کا اصل امتحان امن کے قالینوں پر نہیں بلکہ بحران کے طوفانوں میں ہوا کرتا ہے۔
دفاعی اشتراک کے اس تکون میں تین مختلف نوعیت کی قوتیں یکجا ہوئی ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی ایٹمی بازداریت، تجربہ کار عسکری افرادی قوت اور منفرد جغرافیائی حیثیت ہے، دوسری طرف ترکیہ کی ابھرتی ہوئی جدید دفاعی انڈسٹری، نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کا عسکری لمس اور مشرقی بحیرہ روم کا تزویراتی وزن ہے، جبکہ تیسری جانب سعودی عرب کے غیر معمولی معاشی و توانائی کے وسائل اور حرمین شریفین کا لازوال تہذیبی و سفارتی مرجع موجود ہے۔ بظاہر یہ تناسب ایک مکمل شیلڈ کی تشکیل کرتا ہے، مگر اصل معمہ یہ ہے کہ یہ صلاحیتیں کس خطرے کے خلاف، کس کی ترجیح پر اور کس کی سیاسی قیمت پر بروئے کار آئیں گی۔ بین الاقوامی قانون کی دفعہ 51 اگرچہ اجتماعی دفاع کا حق فراہم کرتی ہے، لیکن اس حق کو نیٹو طرز کی متحرک اور فعال قوت میں ڈھالنے کے لیے مشترکہ عسکری کمان، انٹیلی جنس کا بے لاگ تبادلہ اور طویل الميعاد باہمی اعتماد درکار ہوتا ہے، جو فی الوقت مرحلہ وار آزمائشوں سے مشروط ہے۔
معاہدے کی عملی تطبیق کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ خطرات کی متضاد اور غیر یکساں نوعیت ہے۔ پاکستان کا بنیادی سلامتی کا چیلنج بھارت کی روایتی و تزویراتی صف بندی اور مشرقی سرحد ہے، ترکیہ کی عملی ترجیح شام، عراق اور کرُد جنگجوؤں سے جڑے مسائل ہیں، جبکہ سعودی عرب کی سلامتی کا محور خلیجی عدم استحکام، بحیرہ احمر کی صورتحال اور ایران کے ساتھ معاشی و سفارتی توازن ہے۔ ایسے میں جو چیلنج ایک ریاست کے لیے وجودی نوعیت کا ہے، دوسری ریاست کے لیے وہ ثانوی حیثیت رکھ سکتا ہے۔ لہٰذا، کسی ایک اتحادی پر آنے والی افتاد کے وقت باہمی التزام کا معیار کیا ہوگا، یہی وہ نازک ترین دائرہ ہے جہاں سیاسی تحریریں اور زمین پر بکھرے حقائق آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ تھری ڈائمینشنل اتحاد موقع سے زیادہ ایک متوازن حکمتِ عملی کا امتحان ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ دونوں کے ساتھ سلامتی اور معیشت کی الگ الگ تاریخ موجود ہے، لیکن اس شراکت داری میں پاکستان کی ترجیح اپنی جغرافیائی سلامتی کو مقدم رکھنا ہے۔ بالخصوص ایران کے ساتھ طویل مشترکہ سرحد، مشترکہ تاریخی، روایتی اور داخلی یکجہتی کے تناظر میں اسلام آباد کے لیے لازم ہے کہ وہ خلیجی خطے کی دفاعی ذمہ داریوں میں اس حد تک شامل ہو جس سے اس کی مغربی سرحد پر نیا عدم استحکام پیدا نہ ہو۔ اسی طرح، اگر جنوبی ایشیا میں خدانخواستہ کوئی بحران جنم لیتا ہے تو کیا یہ اتحاد پاکستان کی پشت پر اسی نوعیت کی عملی عسکری طاقت کے ساتھ کھڑا ہوگا جس کی توقع مشرقِ وسطیٰ میں کسی ناگہانی کے وقت کی جا سکتی ہے؟ سفارتی الفاظ کی خوشنمائی سے ہٹ کر عسکری التزام کی ایک بھاری قیمت ہوتی ہے جو طاقت کے مروجہ معائر پر ادا کی جاتی ہے۔
ترکیہ اور چین کے عوامل اس مساوات کو مزید دلچسپ بناتے ہیں۔ ترکیہ پہلے ہی نیٹو کے نظام کا باضابطہ حصہ ہے، جس کے باعث یہ نیا اتحاد نیٹو کا متبادل بننے کی بجائے متعدد الحاق پر مبنی ایک تزویراتی انشورنس پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے، جہاں انقرہ اپنے توازن کو متعدد دھاروں میں تقسیم رکھ کر زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کا سب سے اہم تزویراتی اور معاشی شراکت دار چین ہے، جس کا سی پیک اور دفاعی ٹیکنالوجی میں اہم کردار ہے۔ پاکستان کو اس نئے اتحاد کو اس انداز سے آگے بڑھانا ہوگا کہ بیجنگ کے ساتھ اس کے پائیدار تعلقات پر کوئی حرف نہ آئے۔ نیز، سب سے حساس امر پاکستان کی جوہری خودمختاری کی حفاظت ہے؛ اتحاد اسی وقت تک سود مند ہوتا ہے جب تک وہ خودمختاری کو تقویت دے، اگر یہ شرکت عالمی و علاقائی دباؤ کے ذریعے پاکستان کے اسٹریٹجک آپشنز یا میزائل پروگرامز پر بیرونی لکیریں کھینچنے کی کوشش کرے تو پائیدار اتحاد حصارِ قید میں بدل سکتا ہے۔
قرآنی حکمتِ عملی "وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ” صرف ہتھیاروں کے ذخائر تک محدود نہیں، بلکہ اس میں معاشی خودکفالتی، فیصلے کی آزادی، سفارتی تدبر اور قومی ہم آہنگی کی صلاحیت یکساں بنیادی عنصر ہیں۔ اگر عسکری استعداد تو موجود ہو لیکن فیصلے کا اختیار دوسروں کے تزویراتی مفادات کی نظر ہو جائے تو طاقت کے باطن میں کمزوری سرایت کر جاتی ہے۔ مکہ کا یہ معاہدہ حقیقت میں پاکستان کی سیاسی و عسکری بصیرت کا ایک بڑا کڑا امتحان ہے۔ بدلتے ہوئے اس دورِ انتقال میں، جہاں طاقت کے مراکز تقسیم ہو رہے ہیں، پاکستان کو طے کرنا ہوگا کہ وہ دیگر ممالک کے تزویراتی اہداف کا پیادہ بننے کی بجائے ایک آزاد، متوازن اور خود مختار ثالث کے طور پر اپنی سمت کا تعیین کرے۔ اس اشتراک کی اصل کامیابی اس میں نہیں ہوگی کہ اس کے ذریعے جنگ کا کوئی نیا میدان فتح کیا جائے، بلکہ اس کا حاصل یہ ہونا چاہیے کہ یہ خود ایک ایسی بازدارانہ قوت بن جائے جو معاشی استحکام اور خطے کے دیرپا امن کی ضمانت دے سکے۔