کچھ لمحے زندگی کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں اور کچھ سفر انسان کے دل اور روح کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔ میں پچھلے ایک ہفتے سے ایک بار پھر اللہ کے پاک گھر کی زمین پر موجود ہوں۔ یہ میرا اس مبارک جگہ کا پہلا سفر نہیں ہے، اس سے پہلے بھی مجھے اللہ پاک نے دو بار اپنے گھر کی سب سے بڑی سعادت یعنی حج کرنے کا موقع دیا ہے۔
میں نے پہلی بار سال 2018 میں حج کیا تھا اور پھر دوسری بار سال 2024 میں مجھے دوبارہ حج نصیب ہوا۔ اب زندگی میں تیسری بار اس پاک زمین پر آنے کا یہ موقع مجھے عمرہ کرنے کے لیے ملا ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ کی پاک فضاؤں میں پہنچ کر ہر بار کی طرح یوں لگتا ہے جیسے وقت رک گیا ہے اور دنیا کی تمام پریشانیاں، دکھ، درد اور دنیاوی ضرورتیں کہیں بہت پیچھے چھوٹ گئی ہیں۔
اس وقت میرے دل میں صرف ایک ہی لگن ہے اور زبان پر صرف اپنے مالک کی پکار ہے۔ جب میں نے میقات پر پہنچ کر اپنا عام روزمرہ کا لباس اتارا اور دو سفید سیدھی سادی چادروں کا احرام پہنا، تو مجھے یوں لگا جیسے میں نے اپنے اندر کا غرور، انا اور دنیا داری بھی اسی پرانے لباس کے ساتھ وہیں اتار کر پھینک دی ہو۔
احرام کی حالت میں جب میں نے لبیک اللّٰہم لبیک کہنا شروع کیا اور مکہ مکرمہ کی طرف قدم بڑھائے، تو میرا پورا وجود اور دل کی ہر دھڑکن اس احساس سے کانپ رہی تھی کہ میں اپنے گناہوں کا ایک بھاری بوجھ اٹھائے اپنے سچے مالک کے دربار کی طرف جا رہا ہوں۔ ایک کمزور بندہ اپنے سب سے بڑے بادشاہ کے سامنے پیش ہونے جا رہا تھا اور دل میں خوف اور امید کی ایک عجیب حالت تھی۔
اللہ کے پاک حرم کے اندر داخل ہونا اور خانہ کعبہ پر نظر پڑنے کا وہ بڑا لمحہ اب میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔ اگرچہ میں پہلے بھی دو بار یہاں آ چکا ہوں، لیکن جیسے ہی کعبہ شریف اس بار بھی پہلی مرتبہ میری نظروں کے بالکل سامنے آیا، تو مجھ پر ایک سکتہ سا طاری ہو گیا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک نہ رکنے والا سیلاب بہنے لگا۔ اس وقت زبان سے الفاظ نکلنا بند ہو گئے تھے، دماغ بالکل خالی تھا اور بس رونے کی ایک ایسی حالت تھی جو مجھ پر پوری طرح چھا چکی تھی۔ کعبہ کے گرد گھومتے ہوئے (طواف کرتے ہوئے) مجھے بار بار یوں لگ رہا تھا جیسے میں اپنے رب کی رحمت کے گھیرے میں آ گیا ہوں اور اس کے فضل کے سائے میں آرام کرنے کے لیے دنیا سے کٹ چکا ہوں تاکہ اپنے دل کے زخموں کو بھر سکوں۔
حجرِ اسود کے سامنے ہاتھ اٹھانا اور کعبہ کی دیوارسے لپٹ کر رونا ایک ایسا سکون دینے والا تجربہ تھا جس نے میری روح کے تمام پرانے زخموں پر مرہم رکھ دیا۔ طواف کے ہر چکر کے ساتھ مجھے اپنے اندر ایک بڑی تبدیلی محسوس ہو رہی تھی، جیسے میرے گناہ آہستہ آہستہ دھل رہے ہوں۔
طواف پورا کرنے اور مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد میں نے زمزم کا پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا اور پھر صفا و مروہ کی سعی کے لیے قدم بڑھائے۔ ان دو پہاڑیوں کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے اور ہری لائٹس کے بیچ میں تھوڑا تیز دوڑتے ہوئے، مجھے بار بار حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی وہ تگ و دو، اپنے بچے کے لیے تڑپ اور بے بسی یاد آ رہی تھی، جس کی یاد کو اللہ پاک نے قیامت تک کے لیے اس عبادت کا حصہ بنا دیا اور زمزم کا کبھی نہ ختم ہونے والا تحفہ جاری فرمایا۔
یہاں مجھے یہ سبق ملا کہ اللہ کی رحمت کو پانے کے لیے انسان کو اپنی طرف سے سچی کوشش کرنی پڑتی ہے، اور جب بندہ سچے دل سے کوشش کرتا ہے تو مالک بند راستوں میں سے بھی راستے نکال دیتا ہے۔ میرا یہ عمرہ اور اس کا روحانی سفر ابھی پورا نہیں ہوا ہے، بلکہ ابھی جاری ہے اور میں ہر لمحہ اس کی برکتوں کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں۔ مجھے ابھی یہاں مزید کچھ دن رکنا ہے اور ان باقی دنوں میں مجھے اپنے رب کے سامنے مزید جھکنا ہے، رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہے اور اپنے دل کی دنیا کو بدلنا ہے۔
ان تمام اعمال اور اس جاری سفر کے دوران، کعبہ پاک کے نورانی سائے میں گزرنے والے دن اور راتوں نے مجھے ایک الگ ہی دنیا میں پہنچا دیا ہے جہاں صرف اور صرف سکون ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ میں رات کے آخری حصے میں، خاص طور پر تہجد کے وقت کا منظر تو انسان کا دل موہ لیتا ہے۔ جب میں نے ان پرسکون لمحوں میں صحنِ حرم میں بیٹھ کر گڑگڑا کر اپنے رب کے سامنے ہاتھ اٹھائے اور دعائیں مانگیں، تو وہ لمحے میری زندگی کے سب سے انمول لمحے بن گئے۔
میں نے رو رو کر، اپنے ایک ایک گناہ کو مانتے ہوئے اپنے رب کے سامنے اپنا دامن پھیلایا۔ اس رونے اور آہوں کے بیچ مجھے زندگی میں پہلی بار یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں اپنے رب کے بالکل سامنے کھڑا ہوں اور اس کے ساتھ براہِ راست بات چیت کر رہا ہوں۔ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بول رہا تھا، اپنے دل کا حال سنا رہا تھا اور مجھے پورا یقین تھا کہ میرا رب میری بے ترتیب باتوں اور دل کی دھڑکنوں کو خود سن رہا ہے۔ وہ ایک ایسی گفتگو تھی جہاں الفاظ بہت کم تھے لیکن روح کا اپنے پیدا کرنے والے سے رابطہ بہت گہرا تھا۔
اس سفر کے دوران مجھ پر وہ رقت انگیز وقت بھی آیا جب میری روح پر ایک عجیب سی بے خودی چھا گئی۔ ان دنوں کئی بار میرے دل کے اندر اور میری سوچوں میں ایسا سچا احساس جاگا جیسے میرا رب خود مجھ سے بات کر رہا ہو، جیسے وہ میرے بہت ہی قریب ہو کر میرے آنسو پونچھ رہا ہو اور مجھے تسلی دے رہا ہو کہ گھبراؤ مت میں تمہارے ساتھ ہوں۔
اس الٰہی غلبے اور رحمت کی مسلسل بارش میں میری عقل کے سب پردے جیسے اٹھ گئے اور میری دل کی آنکھوں کو بار بار یوں لگا جیسے میں نے اپنے رب کو دیکھ لیا ہو۔ یہ وہ باطنی مشاہدہ، وہ قلبی یقین اور وہ انوکھی روحانی کیفیت تھی جسے دنیا کے کسی بھی لفظ میں پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا، بس میری روح اندر سے جھوم جھوم کر اپنے رب کی عظمت اور اس کے موجود ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔ میں اپنے دل کا سارا غبار، اپنے سارے دکھ، روزمرہ کی تمام پریشانیاں اور اپنے پیارے وطن پاکستان کی امن، سلامتی اور خوشحالی کی دعائیں اپنے رب کے حضور پیش کرتا رہا۔
وہاں سے مجھے وہ چین اور دل کا وہ سکون ملا جو دنیا کی کسی اور چیز میں ہے ہی نہیں۔ یہ سفر میرے لیے صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا نہیں رہا، بلکہ یہ میری روح کے جاگنے، میری زندگی کے سدھرنے اور میرے رب سے میری دوبارہ سچی ملاقات کا ذریعہ بن گیا ہے، اور میری دل سے دعا ہے کہ یہاں گزرنے والے میرے آنے والے مزید دن بھی اسی طرح عبادت اور قبولیت کے ساتھ گزریں۔
فی امان اللہ