کیا ہم واقعی اپنی سوچ رکھتے ہیں ؟

تقلید کی روِش سے تو بہتر ہے خودکُشی
رستہ بھی ڈھونڈخِضر کا سودا بھی چھوڑ دے

ہم اکثر اپنی سوچ، اپنی رائے اور اپنے فیصلوں کو اپنی شخصیت کی پہچان سمجھتے ہیں مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ جن خیالات کو ہم اپنا سمجھتے ہیں وہ واقعی ہمارے اپنے ہیں؟ یا ہم صرف وہی دہرا رہے ہیں جو برسوں سے ہمارے اردگرد کہا اور کیا جا رہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے سوچنے، سمجھنے اور پرکھنے کے بجائے دوسروں کی پیروی کو ہی زندگی کا معمول بنا لیا ہے؟

ہمارے معاشرے میں اندھی تقلید کوئی نئی بات نہیں۔ لوگ جو کرتے ہیں ہم بھی وہی کرنے لگتے ہیں۔ کسی رسم، رویے یا طرزِ زندگی کو صرف اس لیے اپنا لیا جاتا ہے کہ معاشرے کے زیادہ تر لوگ اسے اختیار کر چکے ہیں۔ ہم یہ دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ جو کچھ ہم اپنا رہے ہیں کیا وہ واقعی ہمارے مذہب، ثقافت، روایات، اقدار اور نئی نسل کی ضرورتوں سے مطابقت رکھتا ہے؟ یوں آہستہ آہستہ ہماری اپنی سوچ دوسروں کے رویوں کا عکس بن جاتی ہے۔

اندھی تقلید کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان سے صرف اس کی رائے نہیں چھینتی بلکہ سوال کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی کمزور کر دیتی ہے۔ انسان درست اور غلط کا فیصلہ اپنی عقل و شعور سے کرنے کے بجائے دوسروں کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ زندگی کے کئی اہم فیصلے بھی اس سوال کے تابع ہو جاتے ہیں کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘اور جب ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ ہماری زندگی کا سب سے بڑا معیار بن جائے تو پھر ’’ہم کیا چاہتے ہیں؟‘‘ اور ’’ہم کیا درست سمجھتے ہیں؟‘‘ جیسے سوال کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کی ایک اور بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر سچ مان لیتے ہیں۔ کوئی بات کسی سے سنی اور فوراً اسے آگے پہنچا دیا۔ نہ خبر کی تصدیق کی، نہ حقیقت جاننے کی کوشش کی اور نہ متعلقہ شخص کا مؤقف سننے کی ضرورت محسوس کی۔ایک غیر مصدقہ بات جب ایک زبان سےدوسری زبان تک پہنچتی ہے تو اکثر اپنی اصل شکل کھو دیتی ہے۔ پھر وہ محض ایک بات نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی غلط فہمی بن جاتی ہے جو کسی انسان کی عزت، کردار اور ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔

بعض اوقات ایک غلط خبر پورے معاشرے میں ایسی الجھن پیدا کر دیتی ہے جسے بعد میں درست کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بات کو سننا اور بات کو سچ مان لینا دو الگ چیزیں ہیں۔ تحقیق صرف صحافی یا محقق کی ذمہ داری نہیں ایک ذمہ دار معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ کسی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے۔

ایک اور سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے اگر ہماری رائے اکثریت سے مختلف ہو تو کیا ہم اسے بیان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟اکثر ہم اختلافِ رائے سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ کہیں لوگ ہمیں غلط، ضدی یا عجیب نہ سمجھیں۔ جب اکثریت کسی ایک رائے کے ساتھ کھڑی ہو تو مختلف سوچ رکھنے والا شخص کئی مرتبہ اپنی بات کہنے سے پہلے ہی خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے شعور اور فہم کے بجائے اکثریت کی آواز کو ترجیح دیتا ہے۔
حالانکہ حق اور سچائی کا فیصلہ صرف تعداد سے نہیں کیا جا سکتا۔

قرآنِ مجید میں بھی محض اکثریت کو حق ہونے کی دلیل نہیں بنایا گیا۔ متعدد مقامات پر اکثریت کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ بہت سے لوگ نہیں جانتے، نہیں سمجھتے یا ایمان نہیں لاتے۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ کسی بات کے درست ہونے کا معیار صرف یہ نہیں کہ اسے کتنے لوگ مانتے ہیں۔ تعداد اپنی جگہ ایک حقیقت ہے مگر حق و باطل کا فیصلہ صرف تعداد کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر اقلیتی رائے درست ہوتی ہے یا ہر مقبول بات غلط ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں کسی خیال کو صرف اس لیے قبول نہیں کرنا چاہیے کہ اسے بہت سے لوگ مانتے ہیں اور نہ صرف اس لیے رد کرنا چاہیے کہ اسے کم لوگ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اسے علم، دلیل، تحقیق اور عقل و شعور کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔

آزادانہ سوچ کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہر معاملے میں دوسروں کی مخالفت کو اپنا مقصد بنا لے۔ آزاد ذہن وہ ہے جو سوال کر سکتا ہے، دلیل سن سکتا ہےاپنی رائے پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے اور درست بات سامنے آنے پر اسے قبول کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔

اسی طرح اختلاف کو دشمنی بنانا بھی فکری آزادی نہیں۔ ایک باشعور معاشرے میں لوگوں کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں مگر اختلاف کے باوجود احترام باقی رہتا ہے۔ اگر سب لوگ ایک ہی طرح سوچیں، ایک ہی بات کہیں اور ہر معاملے میں ایک دوسرے کی پیروی کریں تو معاشرہ بظاہر پُرسکون ضرور دکھائی دے سکتا ہے لیکن اس میں فکری زندگی کمزور پڑ جاتی ہے۔

بدقسمتی سے ہم اپنی نئی نسل کو بھی اکثر یہی سبق دیتے ہیں کہ وہ وہی کریں جو سب کر رہے ہیں وہی کہیں جو سب کہہ رہے ہیں اور ایسے سوالات سے بچیں جو روایت یا رائج سوچ کو چیلنج کرتے ہوں۔ ہم بچوں سے کامیابی تو چاہتے ہیں مگر کیا ہم انہیں سوچنے کی آزادی بھی دیتے ہیں؟ کیا ہم انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ اختلاف رکھنا بدتمیزی نہیں بشرطیکہ اختلاف دلیل اور احترام کے ساتھ ہو؟ایسی قوم جو خود اندھی تقلید کی عادی ہووہ اپنے شاہینوں کو آزاد پرواز کا درس کیسے دے گی؟

شاہین صرف بلند پرواز کا نام نہیں، وہ خود اعتمادی، خودی اور اپنی سمت کا شعور بھی رکھتا ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو ہر مختلف سوچ سے روکیں گے، ان کے سوالات کو خاموش کریں گے اور انہیں صرف معاشرتی توقعات کے مطابق چلنے کی تربیت دیں گے تو ہم ان کے اندر تخلیقی صلاحیت، فیصلہ کرنے کی قوت اور فکری آزادی کیسے پیدا کریں گے؟

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا ہے۔ اگر تعلیم کے باوجود ہم ہر سنی سنائی بات پر یقین کریں تحقیق کے بغیر اسے دوسروں تک پہنچائیں اکثریت کے دباؤ میں اپنی رائے بدل دیں اور اپنی عقل استعمال کرنے کے بجائے دوسروں کی سوچ کو اپنا لیں تو پھر ہمیں اپنی تعلیم کے مقصد پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

ایک خوبصورت اور باشعور معاشرہ وہ نہیں جہاں سب لوگ ایک جیسا سوچتے ہوں بلکہ وہ ہے جہاں لوگ سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور احترام کے ساتھ اختلاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

ہمیں دوسروں کی آواز دہرانے سے پہلے اپنی عقل کی آواز سننا ہوگی۔ ہر سنی سنائی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق کرنی ہوگی۔ ہر مقبول خیال کو اپنانے سے پہلے اسے پرکھنا ہوگا۔ اور ہر معاشرتی دباؤ کے سامنے جھکنے سے پہلے اپنے ضمیر سے سوال کرنا ہوگا۔کیونکہ آزادانہ سوچ کا مطلب دوسروں سے مختلف ہونا نہیں بلکہ اپنی سوچ کی بنیاد خود تلاش کرنا ہےاور شاید سب سے اہم سوال یہی ہے.اگر ہم نے خود سوچنا چھوڑ دیا تو ہماری آنے والی نسلیں آزاد ذہن کہاں سے لائیں گی؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے