موجودہ دور میں پاکستان کی سیاسی بساط پر جو تماشہ سجایا گیا ہے، وہ اب محض اقتدار کی کھینچا تانی نہیں رہا بلکہ عام آدمی کے خلاف ایک مسلسل معاشی اور ذہنی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی آپسی لڑائیاں، ذاتی انا کے ٹکراو¿ اور روزمرہ کے بیانیوں کی جنگ نے ملک کے غریب اور سفید پوش طبقے کو زندہ درگور کر دیا ہے۔
جب حکمران اور سیاست دان ایوانوں اور عدالتوں میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں مصروف ہوتے ہیں، تو دوسری طرف ایک عام شہری بازار میں آٹے، دال اور بجلی کے بل کی قیمت دیکھ کر اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ اس سنگین صورتحال کو جب میں ایک سماجی کارکن اور خود کما کر مڈل کلاس گھرانے کا بوجھ اٹھانے والی عورت کی نظر سے دیکھتی ہوں، تو درد اور شدت سے محسوس ہوتا ہے۔
ایک لکھاری اور سوشل ورکر ہونے کے ناطے، میرا روزانہ کا واسطہ ان زمینی حقائق سے پڑتا ہے جن سے ہمارے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے والے رہنما بالکل بے خبر ہیں۔ جب میں کسی محنت کش ماں کو اپنے بچے کی فیس کے لیے پریشان دیکھتی ہوں، یا کسی نوجوان کو ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے پاتی ہوں، تو یہ سوال ذہن میں ضرور ابھرتا ہے کہ آخر ہماری سیاست عوامی مسائل سے اتنی لاتعلق کیوں ہو چکی ہے؟ ایک خود کمانے والی خاتون کی حیثیت سے میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ موجودہ دور میں جائز طریقے سے حلال رزق کمانا اور خود کو معاشی طور پر مستحکم رکھنا کتنا کٹھن ہو چکا ہے۔
ٹیکسوں کا بوجھ، روزانہ بدلتی قیمتیں اور کاروبار کے سکڑتے ہوئے مواقع نے عام انسان سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی آپسی جنگ نے پورے نظام کو مفلوج کر دیا ہے، جس کا خمیازہ کسی سیاست دان کو نہیں بلکہ اس مڈل کلاس اور غریب طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے جو ملک کا اصل پہیہ چلاتے ہیں۔
لیکن اس مایوسی کے طوفان اور سنگین ترین حالات کے باوجود، میرا قلم اور میری سماجی بصیرت مجھے مایوس ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ تاریخ کا یہ اصول ہے کہ جب اندھیرا اپنی آخری حد کو چھو لیتا ہے، تو وہیں سے سحر کا آغاز ہوتا ہے۔ میں پختہ یقین رکھتی ہوں کہ کہیں نہ کہیں، پسِ پردہ کچھ ایسے عوامل ضرور کام کر رہے ہیں جو جلد یا بدیر اس ملک اور اس کے عوام کے لیے بہتری کے آثار لائیں گے۔ یہ بہتری کسی معجزے کے ذریعے نہیں، بلکہ اس عوامی شعور کے نتیجے میں آئے گی جو اس بدترین بحران کے پیٹ سے جنم لے رہا ہے۔ آج کا پاکستانی اب پہلے جیسا پسماندہ یا خاموش نہیں رہا۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کون اس کے نام پر سیاست کر رہا ہے اور کون واقعی اس کے درد کا درماں بننا چاہتا ہے۔
عوام کو زندہ درگور کرنے والی یہ سیاسی لڑائیاں اب اپنی افادیت کھو رہی ہیں۔ اب نعروں، تقریروں اور کھوکھلے وعدوں کا دور ختم ہو رہا ہے کیونکہ بھوکے پیٹ کو نظریات سے نہیں بہلایا جا سکتا۔ ریاست اور مقتدر حلقے اب اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو معاشی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ یہ اصلاحات اگرچہ اس وقت عوام کے لیے انتہائی کڑوی گولی کی مانند ہیں، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر یہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا واحد راستہ ہیں۔ جب تک نظام دستاویزی نہیں ہوگا اور اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جائے گا، تب تک بہتری ممکن نہیں، اور اب یہ تبدیلیاں وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہیں۔ایک لکھاری اور سماجی کارکن کے طور پر میں کہتی ہوں کہ ہمیں حالات کی سنگینی سے لڑنا ہے، مایوسی کا شکار نہیں ہونا۔
جب ہم جیسے عام لوگ، خواتین اور نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت محنت کرتے ہیں، خود کماتے ہیں اور دوسروں کا سہارا بنتے ہیں، تو ہم اس سست اور بوسیدہ نظام کو شکست دے رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی اصل طاقت اس کی اشرافیہ نہیں، بلکہ وہ محنت کش عوام ہیں جو ہر بحران کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ جمود ٹوٹے گا، سیاست دانوں کو عوامی عدالت کے سامنے جھکنا پڑے گا، اور جلد یا بدیر اس دھرتی پر انصاف اور معاشی استحکام کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔