چاہت فتح علی خان

آپ نے چاہت فتح علی خان کا نام تو سنا ہی ہوگا۔ جی ہاں یہ وہی صاحب ہیں جو گانے کا” وہ "حال کرتے ہیں جو انڈین فلموں میں شکتی کپور، گلشن گروور اور رنجیت ہیروئن کا کیا کرتے تھے۔

موصوف کو لاک ڈاؤن میں گانے کا دورہ پڑا تھا۔ کورونا کے دنوں میں چاہت نے سوچا کہ وہ اب زندگی میں گانے کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں گے۔ کورونا کے دنوں میں ہی وہ شب گھڑی آئی جب چاہت نے باقاعدہ بلکہ بے قاعدہ گانا سیکھنا شروع کیا۔ بزرگوں نے درست ہی کہا ہے کہ مصیبت کبھی کہہ کر نہیں آتی ہے۔لوگ کورونا سے تو پھر بھی بچ گئے مگر چاہت فتح علی خان کے گانوں سے نہ بچ سکے۔

چاہت فتح علی خان نےگانا نہ آتے ہوئے بھی گانا گانے کا چیلنج قبول کیا اور سروں سے بغاوت کرنے کا فیصلہ کیا۔ سر کس چڑیا کا نام ہے یہ اس شخص کی لغت میں شامل ہی نہیں ہے۔ پھر بھی وہ گانے کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ موصوف نے ایک جگہ بتایا کہ ان کے تین استاد ہیں اور وہ روزانہ آٹھ گھنٹے ریاض کرتے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ صاحب خود آٹھ گھنٹے ریاض کرتے ہیں یا پھر ان کے استاد ریاض کرتے ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ ریاض شاید ان کے پھوپھی کے بیٹے کا نام ہے۔ بہر حال اللّٰہ ایسے شاگردوں سے استادوں کو محفوظ رکھے۔

تان سین جیسا عظیم گویا موسیقی کے شعبے میں اپنا نام پیدا کر چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تان سین جب راگ دیپک کی سادھنا کرتا یعنی راگ گاتا تو فضا میں شدید گرمی ہوجاتی اور بجھےہوئےچراغ جل اٹھتے۔

لیکن اگر آپ چاہتے فتح علی خان کا گانا سنیں تو فضا میں ایک خاص قسم کی بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ دم گھٹنے لگتا ہے اور جلتے ہوئے چراغ بھی بھجنے لگتے ہیں۔

عام طور پر لوگوں کی شوگر بڑھ جاتی ہے یا پھر بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے مگر ہمارے چاہت فتح علی خان کا کانفیڈینس بڑھا ہوا ہے۔ یہ بھی ایک خطرناک بیماری ہے۔ اب کسی نے چاہت سے پوچھا کہ راحت فتح علی خان کی گائیکی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے تو موصوف ٹال گئے اور کسی قسم کی رائے قائم کرنے کے بجائے اپنا گانا شروع کردیا۔ یاد رہے کہ چاہت فتح علی خان کا راحت فتح علی خان سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ وہ نہ ان کے دوست ہیں نہ کزن ہیں اور نہ ہی دور پرے کے رشتے دار اور اگر ہوتے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔آگے آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔

چاہت فتح علی خان کا اصل نام کاشف رانا ہے۔گانے سےپہلے وہ لندن میں ٹیکسی چلایا کرتے تھے پھر نہ جانے ان کوکیا سوجھی کہ وہ پاکستان واپس آگئے۔ چاہت کو کھانا کھانے,گانا گانے اور کرکٹ کھیلنے کا شوق ہے، بلکہ اس وقت تو وہ سروں سے ٹکر لے کر کے ہمارے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔

موصوف کے کئی گانے مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ ان کے مشہور گانوں میں ملکہ ترنم نور جہاں کا گایا ہوا گانا بدو بدی بھی شامل ہے۔جس میں چاہت نے کمال مہارت سے ہائے ہائے اوئے ہوئے کا اضافہ کردیا ہے۔ اگر ملکہ ترنم حیات ہوتیں تو اس چھیڑ چھاڑ پر چاہت فتح علی خان کا وہ حال کرتیں کے وہ ہائےہائے اوئے ہوئے کرتے ہوئے نظر آتے۔ اس گانے کو جس طرح سے خراب کیا گیا ہے۔ چاہت فتح علی کو روزمحشر اس کا الگ سے حساب دینا ہوگا۔ میڈم کی روح بھی اس گانے کے بعد پریشان ضرور ہوئی ہوگی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ایک بار اکبر بادشاہ کا ایک نہایت غصیلہ اور جنگلی ہاتھی قابو سے باہر ہو گیا تھا۔ جب تان سین کو معلوم ہوا تو اس نے ہاتھی کے سامنے دھن گائی جس کے اثر میں آ کر وہ ہاتھی پرسکون ہو گیا اور اکبر بادشاہ اس پر سوار ہوگیا۔

اب ذرا سوچیے کہ اس زمانے میں اگر چاہت فتح علی خان کو یہ ٹاسک ملتا اور وہ اپنا راگ الاپنا شروع کرتے تو ہمیں یقین ہے کہ ہاتھی کے پیروں تلے اپنی جان گنوا بیٹھتے اور اکبر بادشاہ کو بھی اپنی جان بچانی پڑتی۔

سنا ہے کہ چاہت ایک فنکشن کے دس سے بارہ لاکھ روپے لیتے ہیں۔ میرے ایک دوست نے سنا تو کہنے لگا کہ میں تو اسے ایک پائی بھی نہ دوں۔ میں نے کہا بھائی جب اللّٰہ اسے نواز رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ چاہت بچوں اور خواتین میں بے حد مقبول ہیں۔ لوگ انھیں دیکھ کر ہنستے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں انہیں چھیڑتے ہیں۔ مگر وہ یہ صورت حال دیکھ کر گھبراتے نہیں ہیں بلکہ مزید عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ جیسے کبھی اداکار رنگیلا کیا کرتا تھا۔ چاہت کو خدا نے اتنا بڑا ماتھا دیا ہے کہ وہ ہاتھا پائی کے بجائے ماتھا پائی بھی کرسکتے ہیں۔ مگر چاہت میں ایک خوبی ہے کہ وہ کسی بات کا برا نہیں مانتے ہیں۔ وہ خود کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر محظوظ ہوں۔ بلاشبہ اس دور میں جہاں رلانے والے بہت ہیں وہاں ہنسانے والوں کی تعداد بہت کم ہے اور لوگوں کو ہنسانے کا ذمہ چاہت فتح علی خان نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہوا ہے جو ایک کار ثواب ہے۔

ایک جگہ انٹرویو دیتے ہوئے چاہت نے سیاست میں آنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی پارٹی بنانا چاہتے ہیں کہ جس کے ذریعے لوگوں کو ریلیف مل سکے یہی نہیں وہ ملک کے وزیراعظم بننے کو بھی تیار ہے۔

ذرا سوچیے کہ اگر ایسا ممکن ہوگیا اور چاہت فتح علی خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کرلیا اور وہ کامیاب بھی ہوگیے اور وزیراعظم کی کرسی پر بھی بیٹھ گیے تو پھر کیا ہوگا۔

ملک ویسے ہی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی بیروزگاری ،ناانصافی اور کرپشن نے لوگوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ اگر خدا نخواستہ چاہت فتح علی خان نے سیاست میں آنے کا عملی قدم اٹھالیا تو قوم کا بچہ بچہ ہائے ہائے اوئے ہوئے کا نعرہ لگاتے ہوا دکھائی دے گا۔ آئیے مل کر اجتماعی دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ ہمیں اس برے وقت سے بچائے آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے