10 اکتوبر پاکستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کے سامنے رکھا ہوا ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب محض تعریفی بیانات اور رسمی خراجِ عقیدت سے نہیں دیا جاسکتا۔ 10 اکتوبر 2021ء کو پاکستان کے ممتاز جوہری سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ 10 اکتوبر 2026ء کو ان کی پانچویں برسی منائی گئی۔ وہ شخصیت جس نے اپنی علمی صلاحیت، شب و روز کی محنت اور غیرمعمولی عزم کے ذریعے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا، آج بھی ہماری قومی تاریخ کا ایسا باب ہے جسے پڑھتے ہوئے فخر کے ساتھ دل میں دکھ بھی جنم لیتا ہے۔
ان کی برسی کے موقع پر دل چاہتا ہے کہ ان کی قبر پر کھڑے ہوکر پوری قوم کی طرف سے عرض کروں:
اے محسنِ پاکستان! ہم آپ کے احسان مند تو رہے، مگر شاید آپ کے احسان کا حق ادا نہ کرسکے۔ ہم نے آپ کے نام کے ساتھ محسنِ پاکستان کا لقب تو جوڑ دیا، لیکن کیا ہم نے آپ کی زندگی کے دکھوں کو بھی اپنا دکھ سمجھا؟ کیا ہم نے اس کرب کو محسوس کیا جو ایک ایسے شخص کے دل پر گزرتا ہوگا جس نے اپنی قوم کے دفاع کے لیے اپنی زندگی کا بڑا حصہ وقف کردیا، مگر اپنی ہی سرزمین پر اسے طویل عرصے تک پابندیوں اور نگرانی کی زندگی گزارنا پڑی؟
یہ مضمون کسی سیاسی جماعت کے خلاف فردِ جرم نہیں، بلکہ اپنے قومی رویوں پر ایک سوال ہے۔ یہ اس احساسِ ندامت کا اظہار ہے جو اس وقت جنم لیتا ہے جب ہم اپنے محسنوں کی عظمت کا اعتراف تو کرتے ہیں، لیکن ان کی زندگی کے تجربات سے سبق سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
وہ شخص جس نے خواب کو حقیقت میں بدلا
ڈاکٹر عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936ء کو بھوپال، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1952ء میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آگئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کی، دھاتوں اور مادی علوم میں مہارت پیدا کی اور یورپ میں تحقیق کے دوران جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق تجربہ حاصل کیا۔
1970ء کی دہائی میں وطن واپس آکر انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام میں اہم کردار ادا کیا۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے ترقی دینے میں ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، وسائل کی قلت اور عالمی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا۔
یہ سفر آسان نہیں تھا۔ اس میں بے شمار پاکستانی سائنس دانوں، انجینئروں، تکنیکی ماہرین اور دیگر کارکنوں نے اپنی صلاحیتیں صرف کیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان شخصیات میں نمایاں مقام رکھتے تھے جنہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
بالآخر 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں پاکستان نے جوہری تجربات کیے۔ پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنی جوہری صلاحیت کا عملی اظہار کیا اور یہ دن ہماری قومی تاریخ میں یومِ تکبیر کے نام سے محفوظ ہوگیا۔
یہ کامیابی پاکستانی قوم کے لیے فخر، دفاعی اعتماد اور قومی عزم کی علامت بن گئی۔ اس کے پیچھے ایک طویل سائنسی سفر تھا، جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت متعدد سائنس دانوں، انجینئروں اور دیگر ماہرین کی محنت شامل تھی۔
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ جس کامیابی پر ہم ہر سال جشن مناتے ہیں، کیا ہم اس کامیابی سے وابستہ انسانوں کی زندگیوں، ان کے مسائل اور ان کے وقار کو بھی اسی طرح یاد رکھتے ہیں؟
ہم 28 مئی کو یاد کرتے ہیں، مگر کیا 10 اکتوبر کو بھی اپنے قومی ضمیر کی عدالت میں حاضر ہوتے ہیں؟
جب محسن کی زندگی سوال بن گئی
قومیں اپنے ہیروز کو صرف کامیابی کے دنوں میں یاد نہیں کرتیں، بلکہ ان کی آزمائش کے وقت بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ افسوس کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کے آخری برسوں میں ان کی شخصیت ایک بڑے سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی تنازع سے وابستہ ہوگئی۔
2004ء میں جوہری پھیلاؤ کے معاملے پر عالمی سطح پر شدید بحث ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹیلی وژن پر اعترافی بیان دیا، جس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں معافی دی۔ تاہم ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں برقرار رہیں۔ فروری 2009ء میں عدالتی فیصلے کے بعد ان کی نظر بندی ختم ہوئی، لیکن اس کے بعد بھی ان کی نقل و حرکت اور ملاقاتوں پر نگرانی کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہیں۔
قومی سلامتی یقیناً ایک اہم معاملہ ہے۔ ریاست کو حساس معلومات، دفاعی رازوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی شخص کی قومی خدمات اسے قانون سے بالاتر نہیں بناتیں۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا قومی سلامتی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کسی شہری کی عزتِ نفس، بنیادی حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا؟
یہ سوال صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نہیں، بلکہ ہمارے پورے ریاستی اور معاشرتی نظام کا ہے۔
حکومتیں بدلتی رہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور جاتی رہیں، مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کے آخری برسوں سے متعلق سوالات برقرار رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بحث آج بھی اس لیے اہم ہے کہ آنے والی نسلیں یہ سمجھ سکیں کہ قومی خدمت، قانون، انصاف اور انسانی احترام ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہونے چاہییں۔
ایک شخص کی زندگی میں تنازعات ہوسکتے ہیں، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھ سکتے ہیں، لیکن اس کی تمام خدمات کو ایک تنازع کے حوالے کردینا بھی انصاف نہیں۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام: پڑوسی ملک کی ایک مختلف مثال
جب ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر غور کرتے ہیں تو بھارت کے ممتاز سائنس دان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا خیال بھی ذہن میں آتا ہے۔
ان کا پورا نام ابوالپکیر جین العابدین عبدالکلام تھا۔ وہ 15 اکتوبر 1931ء کو رامیشورم، تمل ناڈو میں پیدا ہوئے۔ ایرو اسپیس انجینئرنگ، خلائی تحقیق اور میزائل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ان کی خدمات نمایاں تھیں۔ وہ بھارت کے دفاعی و سائنسی منصوبوں سے وابستہ رہے، وزیرِ دفاع کے سائنسی مشیر اور بعدازاں ملک کے پرنسپل سائنسی مشیر کے منصب پر فائز ہوئے۔
2002ء میں وہ بھارت کے گیارہویں صدر منتخب ہوئے۔ انہیں بھارت کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں سے ایک، بھارت رتن، بھی دیا گیا۔ 27 جولائی 2015ء کو ان کا انتقال ہوا تو بھارتی حکومت نے سات روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا اور 30 جولائی کو ان کی آبائی سرزمین رامیشورم میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی۔
یہ حقیقت ہمارے لیے غوروفکر کا ایک پہلو ضرور رکھتی ہے۔ ایک سائنس دان کو اس کی علمی صلاحیت اور قومی خدمات کی بنیاد پر اعلیٰ ترین ریاستی منصب تک پہنچایا گیا اور اس کی وفات پر قومی سطح پر احترام کا اظہار کیا گیا۔
تاہم تاریخی انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم دونوں شخصیات کے سائنسی شعبوں میں فرق کو بھی سمجھیں۔ ڈاکٹر عبدالکلام خلائی، ایرو اسپیس اور میزائل ٹیکنالوجی کے ممتاز سائنس دان تھے، جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت، میں نمایاں کردار ادا کیا۔
دونوں کا تقابل کرتے ہوئے ہمیں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ کیا ہم اپنے سائنس دانوں، دانش وروں اور قومی خدمت گاروں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرسکے ہیں جہاں ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہو، ان کی عزت بھی محفوظ رہے اور اختلاف یا تنازع کی صورت میں قانون کے تقاضے بھی پورے ہوں؟
یہ سوال کسی ملک کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ سنانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے ہے۔
جنازہ فیصل مسجد میں، تدفین ایچ ایٹ میں، مگر ایک سوال باقی
10 اکتوبر 2021ء کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال کی خبر پھیلی تو ملک بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ ان کی نمازِ جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی، جبکہ ان کی تدفین ان کی خواہش کے مطابق سیکٹر ایچ ایٹ کے قبرستان میں ہوئی۔
اس موقع پر قائم مقام صدر صادق سنجرانی، قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر، وفاقی کابینہ کے بعض ارکان اور دیگر سرکاری و عسکری حکام نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ عوام کی بڑی تعداد بھی اپنے محسن کو آخری سلام پیش کرنے پہنچی۔
لیکن اس جنازے سے متعلق ایک حقیقت عوامی بحث کا موضوع بنی: اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ معاصر اخباری رپورٹوں میں ان کی عدم شرکت پر تنقید اور افسوس کا اظہار بھی سامنے آیا۔
یہاں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کسی حکومتی عہدیدار نے شرکت نہیں کی، کیونکہ بعض وزرا اور دیگر حکام موجود تھے۔ تاہم ایک قومی محسن کی آخری رسومات میں وزیراعظم کی عدم شرکت نے جو سوالات پیدا کیے، انہیں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ایک ایسا شخص جس کی خدمات کو خود حکمرانوں نے قومی دفاع کے لیے اہم قرار دیا، اس کے آخری سفر میں ملک کے سربراہِ حکومت کی عدم موجودگی پر عوام کا سوال کرنا ایک فطری امر تھا۔ یہ سوال کسی ایک فرد کے لیے نہیں، بلکہ اس قومی احترام کے تصور کے لیے تھا جس کا ہم اپنی تقاریر میں بار بار ذکر کرتے ہیں۔
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے محسن کو ان کی زندگی میں وہ اطمینان، عزت اور آزادی فراہم کی جس کی وہ توقع رکھتے تھے؟
کسی کی وفات کے بعد سرکاری اعزازات، پھول اور تعزیتی بیانات اہم ہوتے ہیں، مگر زندگی کے آخری برسوں میں اس کی عزتِ نفس اور حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
کسی محسن کی قبر پر پھول چڑھانا آسان ہے، لیکن زندگی میں اس کی عزت کا تحفظ کرنا اصل امتحان ہے۔
یومِ تکبیر پر جشن، مگر محسن کی یاد پر خاموشی؟
ہر سال 28 مئی آتا ہے۔ قومی پرچم بلند ہوتے ہیں، تقریبات منعقد ہوتی ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں اور پاکستان کی جوہری صلاحیت کو قومی دفاع کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے، کیونکہ قوموں کو اپنی تاریخی کامیابیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔
لیکن جب ہم یومِ تکبیر مناتے ہیں تو کیا ہم ان سائنس دانوں، انجینئروں اور کارکنوں کی خدمات کا بھی مطالعہ کرتے ہیں جنہوں نے اس کامیابی کے لیے محنت کی؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ بتاتے ہیں کہ سائنسی ترقی کے لیے کتنی محنت، تحقیق، قربانی اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے؟
ہم 28 مئی کو یاد رکھتے ہیں، لیکن 10 اکتوبر کو کتنی سنجیدگی سے یاد کرتے ہیں؟
ہم جوہری تجربات کی کامیابی پر فخر کرتے ہیں، لیکن اس کامیابی سے وابستہ شخصیات کی زندگیوں کے پیچیدہ پہلوؤں پر کتنی دیانت داری سے گفتگو کرتے ہیں؟
یہ محض ایک برسی کا سوال نہیں، بلکہ ہماری قومی ترجیحات کا معاملہ ہے۔
اگر ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو واقعی محسنِ پاکستان سمجھتے ہیں تو ان کی خدمات کو نصاب، تحقیق، سائنسی اداروں اور قومی مکالمے کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کے نام پر محض تقاریب منعقد کرنا کافی نہیں؛ ان کے علمی سفر اور ان سے وابستہ تاریخی تجربات سے سبق حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
اقبال کا شاہین اور ہماری بے حسی
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے خودی، غیرت، بلند ہمتی اور قومی وقار کا جو درس دیا تھا، کیا ہم نے اسے اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا؟
اقبال فرماتے ہیں:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر ہمیں عزتِ نفس، خود اعتمادی اور بلند کردار کا درس دیتا ہے۔ ایک خوددار قوم اپنے محسنوں کو صرف نعروں میں نہیں سمیٹتی، بلکہ ان کی خدمات کو اپنی قومی تربیت اور اجتماعی شعور کا حصہ بناتی ہے۔
اقبال کا یہ شعر بھی ہماری قومی سوچ کو جھنجھوڑتا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنس دان کسی قوم کی تاریخ میں بار بار پیدا نہیں ہوتے۔ ان کی قدر کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی خدمات کا اعتراف کریں، ان کے کام کے علمی پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور ان کی زندگی کے متنازع ابواب سے بھی دیانت داری کے ساتھ سبق سیکھیں۔
کسی قوم کی بدقسمتی صرف یہ نہیں ہوتی کہ اس کا ایک بڑا محسن دنیا سے رخصت ہوجائے؛ اصل بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی زندگی کے تجربات سے سبق نہ سیکھا جائے۔
اے محسنِ پاکستان! ہم شرمندہ ہیں
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب!
آپ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے پانچ برس گزر چکے ہیں۔ ہر سال 10 اکتوبر کو آپ کی برسی کے موقع پر آپ کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں، آپ کے نام کے ساتھ محسنِ پاکستان لکھا جاتا ہے، آپ کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور آپ کی قومی اہمیت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
مگر میں، اختر گل، ایک پاکستانی اور ایک قلم کار کی حیثیت سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔
ہم آپ سے شرمندہ ہیں کہ شاید ہم نے قومی خدمت کے مفہوم کو صرف کامیابی کے جشن تک محدود کردیا۔ ہم نے 28 مئی کو یاد رکھا، لیکن اس کامیابی سے وابستہ انسان کی زندگی کے آخری برسوں کے تجربات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں سمجھا جتنا سمجھنا چاہیے تھا۔
ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر شخصیات کے نام تو بلند کیے جاتے ہیں، مگر ان کی زندگی کے حقیقی تجربات، ان کی عزتِ نفس اور ان کے حقوق پر مستقل مکالمہ نہیں ہوتا۔
ہمیں اپنے اجتماعی رویوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سائنس دان کی قدر صرف اس کے کارنامے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے علم، محنت، تحقیق اور آنے والی نسلوں کے لیے روشن کیے گئے راستے کی وجہ سے بھی کی جاتی ہے۔
ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں سائنس دانوں کی سوانح پڑھانی ہوں گی۔ تحقیق کے لیے وسائل پیدا کرنا ہوں گے۔ اختلاف کے باوجود احترام کرنا ہوگا۔ اپنے قومی خدمت گاروں کو سیاسی وابستگیوں اور وقتی مفادات سے بلند ہوکر دیکھنا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر، ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں کسی انسان کی خدمات کا اعتراف صرف اس کی وفات کے بعد نہ ہو، بلکہ اس کی زندگی میں بھی اسے وقار، انصاف اور انسانی احترام حاصل ہو۔
ایک چراغ بجھا، مگر روشنی باقی ہے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی زندگی کا تاریخی باب ختم نہیں ہوا۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ علم، محنت اور عزم قوموں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ان کی زندگی یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قومی سلامتی، انسانی حقوق اور ریاستی جواب دہی کے درمیان توازن برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔
ہمیں ان کی خدمات کو یاد رکھنا چاہیے، ان کے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا چاہیے اور ان کی زندگی سے یہ سبق لینا چاہیے کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اس کے علم، کردار، انصاف اور اجتماعی شعور میں بھی ہوتی ہے۔
ہمیں 28 مئی کا جشن ضرور منانا چاہیے، لیکن 10 اکتوبر کو بھی اپنے قومی ضمیر کی عدالت میں حاضر ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنے محسنوں کی زندگیوں سے کیا سیکھا اور آئندہ اپنے اہلِ علم کے لیے کیا بہتر کرسکتے ہیں۔
آخر میں علامہ اقبال کے یہ الفاظ ہماری امید کا چراغ روشن رکھتے ہیں:
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی سرزمین آئندہ بھی بڑے سائنس دان، مفکر، استاد اور محقق پیدا کرے گی۔ لیکن ہماری دعا اور خواہش یہ بھی ہے کہ آنے والی نسلیں اپنے محسنوں کی قدر صرف ان کے کارناموں کے بعد نہیں، بلکہ ان کی زندگی میں بھی کرنا سیکھیں۔
اے محسنِ پاکستان! آپ کی قومی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔ ہم آپ کو یاد رکھتے ہیں، آپ کے لیے دعاگو ہیں اور اپنے اجتماعی رویوں کی اصلاح کا عہد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی نیک خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔