شیخوپورہ: توہینِ مذہب کے الزام پر مشتعل ہجوم نے مسیحی شخص کا گھر، دکان جلا دی

پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل نارنگ منڈی کے گاؤں گھڑیال کلاں میں توہین مذہب کے الزام پر مشتعل ہجوم کی جانب سے ایک مسیحی شخص کا گھر اور دکان نذر آتش کیے جانے کے بعد مسیحی برادری میں خوف کا احساس ہے جبکہ پولیس نے ملزم کے خلاف توہین مذہب جبکہ مشتعل ہجوم میں شامل افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت دو مختلف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

اس واقعے کے بعد گھڑیال کلاں گاؤں کے چند مسیحی خاندان جان کے خوف کے باعث نقل مکانی کر کے قریب واقعہ علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے گھر بھی منتقل ہوئے ہیں۔

شیخوپورہ پولیس کے ترجمان نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا کہ نو اکتوبر (جمعہ) کو نارنگ منڈی میں پیش آنے والے واقعات کے دو مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، تاہم سکیورٹی وجوہات اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے فی الوقت ایف آئی آرز شئیرز نہیں کی جا سکتیں۔

اُن کے مطابق مسیحی شخص، جن کا گھر اور دکان نذر آتش کی گئی، کے خلاف درج ایف آئی آر میں توہین مذہب کی دفعہ لگائی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ان کے ایک واٹس ایپ میسج کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق دوسری ایف آئی آر مشتعل ہجوم کی جانب سے ملزم کے گھر اور کلینک (فارمیسی) کو نذر آتش کرنے، خوف و دہشت پھیلانے اور جلاؤ گھیراؤ پر درج کی گئی ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اس ایف آئی آر میں نامزد پانچ ملزمان زیرحراست ہیں جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کےلیے پولیس کی ٹیمیں چھاپہ مار کارروائیاں کر رہی ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے اس حساس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں اور ملزمان کی شناخت سامنے آنے والی ویڈیوز، موبائل فونز کی لوکیشن اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں کی جا رہی ہے۔

پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ علاقے سے مسیحی خاندانوں کی نقل مکانی کرنے کی اطلاعات درست نہیں ہیں کیونکہ ضلعی امن کمیٹی اور مسیحی ارکان اسمبلی اس مقام پر بروقت پہنچ گئے تھے جنھوں نے فریقین کے درمیان معاملات حل کروائے اور کشیدگی کو ختم کروایا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے