پٹھانوں کی ہسٹری بمقابلہ آپ کی معلومات

اپ کو پشتو نھیں آتی ۔۔ اردو تو اتی ھے نا ؟

اُردو ایک وسیع مگر آسان اور سادہ زبان ہے اسے سمجھنے کے لیے بابائے اردو ہونے کی ضرورت نہیں

اردو میں کچھ محاورے اور کہاوت نما فقرے ہیں جیسے

بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ٹھیک نہیں ہوتا

شہد کی مکھیوں کے چھتے کو چھیڑنا عقل مندی نہیں

آ بیل مجھے مار

سوئے ہوئے شیر کو جگانا عقل مندی نہیں

سانپ کے بل میں ہاتھ نہیں ڈالتے

اور کسی سیانے نے کہا تھا کہ ہر کسی کے ساتھ پنگا لینا بھی ٹھیک نہیں ہوتا

کیا آپ کو پٹھانوں کی تاریخ کا کچھ پتا بھی ہے یا نہیں؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں

سرحد کے پہاڑوں میں کئی بڑی فوجیں یہ سوچ کر آئیں کہ بس اب سب قابو میں آ جائیں گے پھر پتا چلا کہ نقشے پر لکیر کھینچنا آسان ہے اور زمین پر اپنی بات منوانا ذرا مشکل

1586 میں اکبر کی فوج کو سوات اور بونیر کے علاقے میں یوسفزئیوں نے بڑی شکست دی راجہ بیربل بھی اسی معرکے میں مارا گیا دربار کی حاضر جوابی یہاں فوج کے کام نہ آ سکی

1672 میں علی مسجد کے قریب پشتون قبائل نے مغل فوج کو شدید شکست دی محمد امین خان جان بچا کر نکل گیا اس دن واپسی کا راستہ جاننا ہی سب سے بڑی دانائی ثابت ہوا

1897 میں آفریدیوں اور اورکزئیوں نے برطانوی چوکیوں پر حملے کیے اور خیبر کی کئی چوکیاں قبائل کے قبضے میں آ گئیں انگریزوں کو سمجھ آیا کہ چوکی بنا لینا اور اسے سنبھالے رکھنا دو الگ ہنر ہیں

پھر وزیرستان میں فقیر ایپی سامنے آئے اپریل 1937 میں ان کے ساتھیوں نے شاہپور تنگی میں ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا جس میں برطانوی ہند کی فوج کے 7 افسر اور 45 سپاہی مارے گئے ہزاروں فوجیوں اور فضائی کارروائیوں کے باوجود فقیر ایپی خود برطانوی گرفت سے باہر رہے انگریز تلاش کرتے رہے اور ان کی گرفتاری کی فائل نامکمل ہی رہی

استاد مُندری کا کہنا ہے کہ تاریخ بہت سفاک ہوتی ہے اور جھوٹ بھی نہیں بولتی

اور تاریخ یہ ہے کہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں حکم چلانا مشکل رہا ہے۔

ایسے ہی خیال آیا کہ آپ کو بتاتا چلوں

ایمرجنسی تو لگا دی پل بھر میں آپ نے آگے کیا ہوگا؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے