جمعہ : 18 جنوری 2019 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]چین اور جرمنی کا مالیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ[/pullquote]

جرمنی اور چین نے جمعہ اٹھارہ جنوری کو کئی ایسے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن سے دونوں ملکوں کے بینکاری و مالیاتی شعبوں کی بہتر نگرانی ہو سکے گی۔ یہ معاہدے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب چین اپنے ہاں مالیاتی منڈیوں کو کھول رہا ہے۔ یہ سمجھوتے جرمن وزیر خزانہ اولاف شولس کے بیجنگ کے دو روزہ دورے کے اختتام پر طے پائے۔ اس دورے کے دوران شولس اور چینی نائب وزیراعظم لیو ہی کے مابین مذاکرات بھی ہوئے۔ چینی نائب وزیراعظم اپنے ملک کی بااختیار اقتصادی کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔ شولس کے مطابق چین کے ساتھ سمجھوتوں کے بعد اب جرمن بینکوں اور انشورنس اداروں کی چینی مارکیٹوں میں رسائی آسان ہو گئی ہے۔

[pullquote]الجزائر میں صدارتی الیکشن اٹھارہ اپریل کو ہوں گے[/pullquote]

شمالی افریقی ملک الجزائر میں صدارتی انتخابات رواں برس اٹھارہ جولائی کو ہوں گے۔ صدارتی حکم نامے کے مطابق اگلے پینتالیس ایام کے دوران انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند ملکی دستوری کونسل سے رابطہ کریں تا کہ اُن کے کوائف کی چھان بین کی جا سکے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ موجودہ صدر عبدالعزیز بُوتفلیقہ صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے یا نہیں تاہم حکمران سیاسی اتحاد نے اپنے صدر سے انتخابات میں حصہ لینے کی درخواست کر رکھی ہے۔ اکیاسی سالہ بُوتفلیقہ علیل ہیں اور وہ وہیل چیئر کا استعمال کرتے ہیں۔ سن 2013 میں انہیں فالج کے حملے کا سامنا ہوا تھا۔

[pullquote]ٹرمپ اور اٰن کی میٹنگ کی میزبانی کر سکتے ہیں، ویتنام[/pullquote]

ویتنام کے وزیراعظم نوویین شُوآن فُوک نے کہا ہے کہ اُن کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی لیڈر کِم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی دوسری سمٹ کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ اس سمٹ اور تاریخ کا اعلان جمعہ اٹھارہ دسمبر کو شمالی کوریائی وزیر خارجہ کم یونگ چول کی امریکی صدر سے ممکنہ ملاقات کے بعد کیے جانے کی توقع ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی ملاقات گزشتہ برس بارہ جون کو سنگا پور میں ہوئی تھی۔ بعض اندازوں کے مطابق ٹرمپ اُن سمٹ کے لیے وزیراعظم نوویین شوآن کی حکومت نے دارالحکومت ہنوئی کے علاوہ بندرگاہی شہر دانانگ کو تجویز کیا ہے۔ ویتنامی حکومت کے مطابق اس میٹنگ کے حوالے سے حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

[pullquote]افغان قومی سلامتی کے سابق مشیر صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے[/pullquote]

افغانستان کے قومی سلامتی کے سابق مشیر محمد حنیف اتمار نے رواں برس کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دارالحکومت کابل میں اپنے سینکڑوں ساتھیوں اور حامیوں کے اجتماع میں صدارتی امیدوار بننے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان کرتے ہوئے اتمار نے جو تقریر کی، اُس میں انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امن مذاکرات کا حصہ بن کر ملک میں سترہ سال سے جاری جنگی حالات کا خاتمہ کریں۔ افغانستان میں صدارتی الیکشن رواں برس بیس جولائی کو ہوں گے۔ موجودہ صدر اشرف غنی نے بھی کہا ہے کہ وہ اگلے دو ایام کے دوران اس الیکشن میں حصہ لینے کے کاغذات جمع کرا دیں گے۔

[pullquote]اسٹیفان لووین سویڈن کے وزیراعظم منتخب[/pullquote]

سویڈن کی پارلیمنٹ نے اسٹیفان لووین کو دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب کر لیا ہے۔ یہ انتخاب اُن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والی سیاسی مفاہمت کا نتیجہ ہے۔ اس اتحاد کو گزشتہ ستر برس کا کمزور ترین حکومتی اتحاد قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے پاس 349 رکنی ایوان میں 167 نشستیں ہیں۔ اس طرح لووین ایک اقلیتی حکومت کے سربراہ ہیں۔ حکومت سازی کے لیے 175 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ سویڈن میں گزشتہ برس ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے کوئی مستقل حکومت نہیں تھی۔ لووین کے انتخاب کے بعد تقریباً چار ماہ سے جاری سیاسی بحران بظاہر ختم ہو گیا ہے۔

[pullquote]سنگاپور کی امریکی جنگی طیارے خریدنے میں دلچسپی[/pullquote]

سنگا پور کے وزیر دفاع اَنگ اینگ ہین (Ng Eng Hen) نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کے پرانے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا بہترین متبادل امریکی ایف پینتیس (F-35) جنگی طیارے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں آزمائشی طور پر اس قسم کے چند طیارے خریدے جائیں گے اور مکمل جائزے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اِس آزمائش کے مثبت نتائج کی صورت میں سنگا پور اپنے جنگی طیاروں کو سن 2030 تک تبدیل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس ملک کے ایف سولہ جنگی طیاروں کا دستہ ساٹھ طیاروں پر مشتمل ہے۔ یہ سن 1998 میں خریدے گئے تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ جنوبی مشرقی ایشیا میں سنگا پور کے دفاعی بجٹ کا حجم سب سے بڑا ہے۔

[pullquote]چاول کی درآمد پر یورپی یونین کا اضافی ٹیکس، میانمار اور کمبوڈیا کی مذمت[/pullquote]

کمبوڈیا اور میانمار نے یورپی یونین کے اُس فیصلے کی مذمت کی ہے، جس کے تحت ان ممالک سے چاول کی درآمد پر اضافی محصول کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے ان ممالک سے درآمد کی جانے والے چاول کی مخصوص قسم انڈیکا چاول کے فی ٹن پر 175 یورو یا دو سو ڈالر کا اضافی درآمدی محصول عائد کیا ہے۔ ان ممالک سے چاولوں کی درآمد پر اٹلی اضافی محصول عائد کرنے کا متمنی تھا۔ اٹلی ان ممالک میں انسانی حقوق کی خراب صورت حال پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو ان کی ہر قسم کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

[pullquote]امریکی جنگی بحری جہاز آبنائے تائیوان میں داخل ہو سکتا ہے، امریکی نیوی[/pullquote]

امریکی بحریہ کے مطابق اس بات کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا کہ امریکی طیارہ بردار جنگی بحری جہاز آبنائے تائیوان میں ایک بار پھر داخل ہو جائے۔ یہ بیان امریکی نیول آپریشن کے سربراہ ایڈمرل جان رچرڈسن نے دیا ہے۔ امریکی ایڈمرل نے جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں صحافیوں پر واضح کیا کہ اُن کے نزدیک آبنائے تائیوان بین الاقوامی پانی کی گزرگاہ ہے اور اس میں سے گزرنے کا اختیار سبھی کے پاس ہے۔ گزشتہ برس بھی امریکی جنگی بحری جہاز تین مرتبہ اسٹرٹیجک نوعیت کی اس آبنائے میں داخل ہو چکے ہیں۔ رواں ہفتے کے دوران امریکا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ تائیوانی صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

[pullquote]جرمنی نے بریگزٹ کی تیاریاں شروع کر دیں[/pullquote]

جرمن پارلیمان نے گزشتہ روز بریگزٹ کے تناظر میں ایک نیا قانون پاس کر دیا ہے۔’ بریگزٹ ٹرازیشن لیجسلیشن‘ نامی یہ قانون قریباﹰ مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، سوائے انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ کے جس نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس قانون کا مقصد ایسے لوگوں کے لیے صورتحال کو واضح کرنا ہے جو ممکنہ طور پر بریگزٹ سے متاثر ہوں گے خاص طور پر ایسے برطانوی شہری کو جرمنی میں رہتے ہیں یا پھر برطانیہ میں رہنے والے جرمن شہری۔ اس قانون کے تحت جرمنی میں رہنے والے قریب 120,000 برطانوی شہری بریگزٹ کے عبوری وقت کے دوران جرمن شہریت کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔

[pullquote]امریکی حکومت کی جزوی بندش، ورلڈ اکنامک فورم میں امریکی وفد نہیں جائے گا[/pullquote]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ڈاووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں اس مرتبہ امریکی وفد نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کی وجہ بجٹ کے معاملے پر ملک میں موجود بحران اور حکومت کی جزوی بندش بتائی گئی ہے۔ اس بات کا اعلان وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے کیا۔ ٹرمپ خود بھی چند دن قبل اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک سیاستدان اور ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کا ایک غیر ملکی دورہ بھی حکومتی شٹ ڈاؤن کے تناظر میں معطل کر دیا ہے۔ ٹرمپ کی اہم سیاسی مخالف پلوسی دراصل برسلز، مصر اور افغانستان جانا چاہتی تھیں۔

[pullquote]یمن: متحارب فریقین قیدیوں کے تبادلے کے لیے پرامید[/pullquote]

یمن کے متحارب فریقین نے اپنے اپنے قیدیوں کی حتمی فہرست ایک دوسرے کو فراہم کردی ہے۔ ان قیدیوں کا تبادلہ امکاناً یمنی بندرگاہی شہر حدیدہ میں ہو سکتا ہے۔ یمن میں قیام امن کے لیے مذاکرات کا نیا دور گزشتہ روز عمان میں ہوا۔ اس مذاکراتی دور کے دوران اقوام متحدہ کی یہ کوشش رہی کہ فریقین کو حدیدہ شہر میں سے اپنے اپنے لشکریوں کے انخلا پر راضی کیا جائے۔ جنگی حریف مزید بات چیت جاری رکھنے پر رضامند بتائے گئے ہیں۔ قیدیوں کے تبادلے پر صدر منصور ہادی کی حکومت اور حوثی ملیشیا گزشتہ برس گیارہ دسمبر کو سویڈن میں ہونے والے مذاکرات میں متفق ہوئے تھے۔ یہ تبادلہ اقوام متحدہ کے مبصرین اور ریڈ کراس کی نگرانی میں کیا جائے گا۔

[pullquote]سوڈان میں حکومت مخالف مظاہرے شدید ہوتے ہوئے[/pullquote]

افریقی ملک سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں صدر عمر البشیر کے خلاف جاری مظاہروں میں ایک ڈاکٹر اور ایک بچے کی ہلاکت کے بعد شدت پیدا ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کے ایک گروپ سوڈانی ڈاکٹرز کمیٹی کے مطابق ان دونوں کی ہلاکت پولیس کی گولیاں لگنے سے ہوئی تھی۔ جمعرات سترہ جنوری کو خرطوم کے علاقے بُوری میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہروں کا سلسلہ چھ دوسرے شہروں میں بھی پھیل گیا ہے۔ یہ مظاہرے گزشتہ پانچ ہفتوں سے جاری ہے۔ مظاہرین صدر عمر البشیر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب سوڈانی صدر نے واضح کیا ہے کہ مظاہروں سے اُن کی حکومت کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔

[pullquote]یمنی حکومت میں پائی جانے والی کرپشن امن کے لیے خطرناک ہے، مبصرین[/pullquote]

اقوام متحدہ کے ماہرین نے سلامتی کونسل سے سفارش کی ہے کہ وہ یمنی حکومت میں پائی جانے والی کرپشن پر سنجیدگی سے غور کرے کیونکہ یہ اس ملک میں امن و سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ ان سفارشات میں یہ بھی کہا گیا کہ یمن کے ایران نواز حوثی ملیشیا کو پابند کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی امدادی ورکروں کی آزادی کو محدود کرنے سے گریز کرے۔ ان ماہرین نے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی سفارشات میں بیان کیا کہ یمنی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنے اختیار میں رہنے والے افراد کی ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنائے کیونکہ ایک بڑی یمنی آبادی کو مناسب خوراک کی اشد ضرورت ہے۔

[pullquote]امریکی صدر نے نئی میزائل دفاعی حکمت عملی کا اعلان کر دیا[/pullquote]

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کے لیے نئی میزائل دفاعی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دفاعی حکمت عملی میں شمالی کوریا کو بدستور ایک بڑا اور غیر معمولی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایران، روس اور چین کی عسکری سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس حکمت عملی میں ان ممالک کی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں خلائی ہتھیاروں اور سینسروں کی تیاری کے پروگرام پر بھی نظرثانی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس منصوبے میں واضح طور بیان کیا گیا کہ امریکا کو روس اور چین کے میزائل پروگرام کے مقابلے کے لیے اپنے میزائل پروگرام کی مکمل طور پر نظرثانی اور جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے