پیر:16 دسمبر 2019 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]امریکی فوج کے لیے ترک فوجی اڈے بند کر دیں گے، صدر ایردوآن کی دھمکی[/pullquote]

صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے انقرہ کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا، تو ترکی میں دو اہم اسٹریٹیجک فوجی اڈوں کو امریکا کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ یہ دونوں فوجی اڈے اِنچرلِک اور کُوریچِک میں واقع ہیں۔ امریکا ان دونوں اڈوں کو اپنے اسٹریٹیجک فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ترک وزیر خارجہ مولود چاؤشولو نے بھی کہا تھا کہ اگر واشنگٹن نے روسی فضائی دفاعی میزائلوں کی خریداری کی وجہ سے ترکی کے خلاف کوئی پابندیاں عائد کیں، تو امریکی افواج کی طرف سے ان دونوں ترک فوجی اڈوں کا استعمال بند کر دیا جائے گا۔

[pullquote]چینی صدر کی ہانگ کانگ کی انتظامی سربراہ کے لیے مکمل حمایت[/pullquote]

چینی صدر شی جن پنگ نے چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ کی حکومتی سربراہ کیری لیم سے پیر سولہ دسمبر کو ایک ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے اس خاتون چیف ایگزیکٹیو کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ صدر شی نے بیجنگ کے گریٹ ہال میں کیری لیم سے ملاقات کے بعد کہا کہ مرکزی حکومت ان کے حوصلے کا احترام کرتی ہے اور ذمہ داریوں سے بھی بخوبی آگاہ رہتے ہوئے انہیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتی ہے۔ چینی صدر کی طرف سے یہ حمایت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب کیری لیم کو ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین کے شدید مظاہروں کا سامنا رہا ہے۔ مظاہرین کیری لیم کے مستعفی ہو جانے کا مطالبہ بھی کرتے آئے ہیں۔

[pullquote]کانگو میں باغیوں کے حملے، چالیس سے زائد افراد ہلاک[/pullquote]

شورش زدہ افریقی ملک کانگو کے مشرقی حصے میں گزشتہ جمعے سے جاری باغیوں کے مسلح حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اب تینتالیس ہو گئی ہے۔ کانگو میں انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق ایسے تازہ ترین حملے میں گیارہ افراد مارے گئے۔ یہ حملے الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز کے باغیوں نے کیے۔ ان حملوں کی وجہ سے ہلیتھ ورکرز کو ایبولا وائرس کے خلاف جاری مہم میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان باغیوں کی کارروائیوں کی وجہ سے مشرقی کانگو میں حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔

[pullquote]فرانس میں پینشن اصلاحات کے خلاف ہڑتال کا بارہواں دن[/pullquote]

فرانس میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ہڑتال بارہویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت ہڑتال کے باوجود اپنے اصلاحاتی پروگرام کا نفاذ چاہتی ہے۔ اس ہڑتال کی وجہ سے پیرس اور گرد و نواح کے علاقوں میں سڑکوں پر ٹریفک رکی ہوئی ہے۔ پیرس شہر میں صرف خود کار میٹرو سروس ہی بحال ہے۔ ڈرائیوروں کے سہارے چلنے والی میٹرو سروس معطل ہے۔ اسی طرح ریل گاڑیوں کے اندرونی اور بیرونی نظام بھی ہڑتال کی وجہ سے غیر فعال ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں نے بھی تنخواہوں میں اضافے اور روزگار کی بہتر شرائط کے لیے آج پیر کو ہڑتال کر رکھی ہے۔ تمام فرانسیسی لیبر یونینیں کرسمس تک یہ ہڑتال جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

[pullquote]ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں رائے شماری اسی ہفتے[/pullquote]

امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ رواں ہفتے ہو گی۔ ایوان کی عدالتی کمیٹی نے جمعہ تیرہ دسمبر کو صدارتی مواخذے کے لیے الزامات سے متعلق دو شقوں کی منظوری دے دی تھی۔ ان میں ایک کا تعلق اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسرے کا کانگریس کے امور میں مداخلت سے ہے۔ ایوان نمائندگان میں یہ رائے شماری بدھ اٹھارہ دسمبر کو ہو سکتی ہے۔ منظوری کی صورت میں امریکی سینیٹ میں اس قرارداد پر بحث اگلے برس کے اوائل میں ممکن ہو سکے گی۔ صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کے اس عمل کو غیر ضروری اور ’وِچ ہنٹ‘ قرار دیتے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کے اراکین کانگریس ٹرمپ کے اس موقف کے حامی ہیں۔

[pullquote]لبنانی دارالحکومت میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسزکے مابین جھڑپیں[/pullquote]

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں مسلسل دوسری رات بھی حکومت مخالف مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ گزشتہ دو راتوں کے دوران ہونے والی ان جھڑپوں میں سکیورٹی دستوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیوں، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پانی کی تیز دھار کا متعدد مرتبہ استعمال کیا۔ ان کارروائیوں میں درجنوں مظاہرین کے زخمی ہونے کی طبی ذرائع نے تصدیق کر دی ہے۔ لبنان میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ سترہ اکتوبر سے جاری ہے اور مظاہرین ملکی اشرافیہ کے مسلسل اقتدار میں رہنے، مالی بےضابطگیوں اور سرکاری خزانے کے بےجا ذاتی استعمال کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم سعد الحریری مستعفی ہو چکے ہیں اور ابھی تک نئی حکومت تشکیل نہیں پا سکی۔

[pullquote]جوہری پروگرام سے متعلق شمالی کوریائی ڈیڈ لائن تسلیم نہیں، امریکا[/pullquote]

ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن حکومت جوہری پروگرام کے حوالے سے رواں برس کے اختتام تک کی شمالی کوریائی ڈیڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتی۔ شمالی کوریا نے امریکا سے کہہ رکھا ہے کہ اکتیس دسمبر تک اس کے خلاف عائد شدہ پابندیوں میں نرمی کی جائے۔ یہ ڈیڈ لائن اس کمیونسٹ ملک کی حکومت نے اپنے طور پر طے کی تھی۔ اس ڈیڈ لائن کو تسلیم نہ کرنے کی اعادہ شمالی کوریا کے لیے خصوصی امریکی مندوب اسٹیفن بنگن نے جنوبی کوریا پہنچنے پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس امکان سے بھی آگاہ ہیں کہ شمالی کوریا اگلے دنوں میں شدید اشتعال انگیزی کی کوشش کر سکتا ہے اور یہ بات جزیرہ نما کوریا میں امن کوششوں کے لیے نقصان دہ ہو گی۔

[pullquote]بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف طلبہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے[/pullquote]

بھارت میں نریندر مودی حکومت کے منظور شدہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آسام کے طالب علموں کی طرح کئی اور ریاستوں کے طلبہ نے بھی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ اتوار کو نئی دہلی کی جامع ملیہ کے طلبہ کی ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں سکیورٹی دستوں کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ ان جھڑپوں میں کم از کم سو طلبہ زخمی ہوئے۔ اسی طرح شمالی ریاست اتر پردیش کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی مودی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ممبئی کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ٹاٹا اسکول آف سوشل سائنسز کے طلبہ نے بھی اتوار اور پیر کی درمیانی رات مظاہرے کیے۔ آج پیر کو ممبئی یونیورسٹی اور جنوبی شہر بنگالورو (سابقہ بنگلور) میں بھی طلبہ نے مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔

[pullquote]افغانستان: ملیشیا کمانڈر کی گرفتاری کے لیے آپریشن میں آٹھ افراد ہلاک[/pullquote]

شمالی افغانستان میں ایک ملیشیا کمانڈر کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن میں کم از کم آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔ سکیورٹی اہکار ایک بدنام ملیشیا کمانڈر، نظام الدین قیصاری کو گرفتار کرنے کی کوشش میں تھے۔ چوبیس گھنٹے دورانیے کی سکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی مزار شریف میں کی گئی۔ صوبائی کونسل کے ایک رکن نے اس آپریشن کے ناکام رہنے کی تصدیق کر دی ہے۔ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کو ملیشیا کمانڈر کے حامی مسلح جنگجوؤں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تمام ہلاک شدگان ملیشیا ارکان بتائے گئے ہیں۔ قیصری کے حامیوں نے کابل حکومت کے دستوں کے خلاف خود کار ہتھیاروں کے علاوہ راکٹ لانچروں کا استعمال بھی کیا۔ نظام الدین قیصاری کے گھر پر فضائی حملے بھی کیے گئے، جو بے نتیجہ رہے۔

[pullquote]فلپائن میں زلزلے میں ہلاک شدگان کی مزید تین نعشیں نکال لی گئیں، کئی افراد تاحال لاپتہ[/pullquote]

جنوبی فلپائن کے شہر ڈاواؤ کی انتظامیہ کے مطابق اتوار کے روز آنے والے زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ امدادی ورکرز نے پیر کو کم از کم تین مزید نعشیں ملبے سے نکال لیں۔ زمین بوس ہو جانے والی عمارات کے ملبے سے فوجی، پولیس اہلکار، فائر فائٹرز اور رضاکار سات لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلپائن کے جنوبی حصوں میں اتوار پندرہ دسمبر کو آنے والے اس زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 6.9 ریکارڈ کی گئی تھی۔ مختلف شہروں اور قصبوں میں کئی عمارات اور مکانات منہدم ہو گئے تھے۔ امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ڈاواؤ شہر سے جنوب مغرب کی سمت چھپن کلومیٹر کی دوری پر زمین میں ترپن کلو میٹر کی گہرائی میں تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے