بھارت میں متنازع قانون کیخلاف مظاہرے، پولیس کی فائرنگ سے مزید 9 افراد ہلاک

بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج جاری ہے اور پولیس کی فائرنگ سے مزید 9 مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق متنازع شہریت بل کے معاملے پر احتجاج کی وجہ سے مارے جانے والوں کی تعداد 17ہو گئی ہے۔

میڈیا رپوٹس کے مطابق میرٹھ میں 3، بجنور میں 2، ورانسی، فیروز آباد،کانپور اور سنبھل میں 4 مظاہرین کو بھارتی پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کیا، متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

چند روز قبل لکھنو میں ایک اور مینگلور میں 2 افراد کو گولی ماری گئی تھی۔ متنازع شہریت بل پر احتجاج کے دوران آسام میں اب تک 5 افرادکو ہلاک کیاجا چکا ہے۔

بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شریک 4 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کرناٹکا کے ہندو انتہا پسند وزیر سیاحت سی ٹی روی نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی بھی دیدی ہے۔

متنازع شہریت قانون کیا ہے؟
متنازع شہریت بل 9 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) سے منظور کروایا گیا تھا اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے بھی اس بل کی منظوری دیدی تھی۔

بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔

تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کو ایوان زیریں (لوک سبھا) میں 12 گھنٹے تک بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔

ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں بھی اس متنازع بل کو کثرت رائے سے منظور کیا جا چکا ہے۔

متنازع شہریت بل بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے