ہفتہ: 04 جنوری 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]سلیمانی کی آخری رسومات، عراق میں ایک اور فضائی حملہ[/pullquote]

ہفتے کی صبح عراق میں ايک ایران نواز مليشيا کے ایک قافلے پر فضائی حملے کی اطلاعات ہیں۔ تازہ حملہ حشد الشعبی کے ایک طبی قافلے پر کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں تاہم ہلاک شدگان اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں تفصیلات ابھی موصول نہیں ہوئی ہیں۔ عراقی سرکاری ٹيلی وژن پر کہا گيا تھا کہ يہ ايک امريکی حملہ تھا تاہم عراقی فوج نے ايسی خبروں کی ترديد کر دی۔ اتحادی افواج نے بھی ايک بيان ميں کہا ہے کہ تاجی ميں امريکا کی جانب سے ہفتے کو کوئی کارروائی نہيں کی گئی۔ گزشتہ روز امریکا نے عراقی دارالحکومت بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب ایران کی قدس فورسز کے میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ایک فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا تھا۔

[pullquote]سلیمانی کی ہلاکت پر یورپ مددگار ثابت نہیں ہوا، پومپیو[/pullquote]

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی عراق میں ہلاکت کے معاملے میں یورپی اتحادیوں نے امریکا کی اتنی مدد نہیں کی، جتنا ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے دنیا کے مختلف ممالک کے حکام سے بات کی۔ ایک امریکی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں پومپیو نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ دن کے دوران کئی ممالک کے رہنماؤں سے رابطے کیے اور انہیں بتایا کہ یہ کارروائی کیوں کی گئی۔ پومپیو کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کے ساتھ یہ گفت گو بہترین رہی، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے جس تعاون کی توقع کی جا رہی تھی، وہ امریکا کو نہ ملا۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت کے احکامات جنگ روکنے کے لیے دیے گئے، کیوں کہ وہ امریکی مفادات پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔

[pullquote]مشرقی سوڈان میں جھڑپیں، کم از کم نو افراد ہلاک[/pullquote]

سوڈان کے مشرقی حصے میں قبائلی تصادم کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سوڈان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق یہ جھڑپیں گزشتہ دو روز سے جاری ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان تازہ جھڑپوں میں سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق دو قبائل بنی عامر اور نوبا کے درمیان جھڑپیں ماضی میں بھی ہوتی رہیں۔ سوڈان کی عبوری حکومت ہمسایہ ملک جنوبی سوڈان کے ساتھ مل کر گزشتہ برس اکتوبر سے مختلف باغی گروپوں کے درمیان امن قائم کرنے کے حوالے سے مذاکرات میں مصروف ہے۔ ان جھڑپوں کے بعد ان مذاکرات کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

[pullquote]مختلف ممالک کی افواج نے عراقی فورسز کی تربیت کا کام روک دیا[/pullquote]

دہشت گرد گروہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف برسرپيکار بین الاقوامی عسکری اتحاد میں شامل متعدد ممالک نے عراقی فورسز کی تربیت کا عمل روکنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تازہ پیش رفت عراقی دارالحکومت بغداد میں ہوئے ایک امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد کشیدہ صورت حال کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جرمنی، ڈنمارک، ناورے اور سویڈن نے عراقی فورسز کی حربی استعداد بڑھانے کے حوالے سے جاری اپنے اپنے تربیتی پروگرام روک دیے ہيں۔ جرمن فوج کے مطابق یہ اقدام احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد وہاں تعینات جرمن فوجیوں کی سلامتی ہے۔

[pullquote]کمبوڈیا میں منہدم عمارت کے ملبے سے مزید افراد بچا لیے گئے[/pullquote]

کمبوڈیا میں ہفتے کے روز امدادی ٹیموں نے ایک منہدم عمارت کے ملبے تلے دفن مزید پانچ افراد کو زندہ بچا لیا۔ اس طرح اس عمارت سے بہ حفاظت نکالے گئے افراد کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔ جمعے کی دوپہر کمبوڈیا کے صوبے کیپ میں ایک عمارت منہدم ہو گئی تھی۔ مقامی حکام کے مطابق اس واقعے میں اب تک ہلاک ہونے والی کی تعداد سات ہو چکی ہے، جب کہ اب بھی متعدد افراد عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

[pullquote]امریکی نے پاکستانی فوج کی تربیت کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا[/pullquote]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دوبارہ امریکی فوجی تربیت اور عسکری تعلیمی پروگرامز میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایک برس سے زائد عرصے قبل صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے لیے تربیتی پروگرام بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام سے پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ واضح رہے کہ جنوری 2018 میں صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے ساتھ قریب تمام تر عسکری تعاون روکنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا الزام تھا کہ اسلام آباد حکومت اپنے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

[pullquote]لیبیا میں ترک فوجی مداخلت شام جیسی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، ماہرین[/pullquote]

ترکی کی جانب سے لیبیا میں فوجی تعینات کرنے کے فیصلے پر دفاعی ماہرین تنقید کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سے لیبیا بھی شام کی طرح پراکسی طرز کی جنگ کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سن 2011 میں لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا کے مشرق اور مغرب میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں اور مختلف ملیشیا گروہ ايک دوسرے کے خلاف برسرپيکار ہیں۔ ترکی اور قطر اس معاملے پر اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ طرابلس حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ جب کہ دوسری جانب لیبیا کے مشرق میں ٹھکانا کیے ہوئے مضبوط فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر رواں برس اپریل سے طرابلس پر قبضے کی کوششوں میں ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ طرابلس حکومت کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

[pullquote]جرمن حکومت عراق سے فوجی دستے واپس بلا لے، گرین پارٹی[/pullquote]

جرمنی کی گرین پارٹی کی سربراہ انالینا بیربوک نے کہا ہے کہ جرمن حکومت کو عراق سے تمام فوجی دستے واپس بلا لینا چاہیيں۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد صورت حال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ انالینا بیربوک کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں عراق میں تعینات جرمن فوجیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور ایسے میں عراق میں فوجیوں کی موجودگی ایک ’غیرذمہ دارانہ عمل‘ ہو گا۔ واضح رہے کہ جرمنی کے 27 فوجی ماہرین تاجی کے علاقے میں تعینات ہیں، جب کہ دیگر پانچ عراقی دارالحکومت میں ہیں، اس کے علاوہ نوے جرمن فوجی شمالی عراق میں کرد فورسز کی تربیت میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

[pullquote]آسٹریلیا کے مشرق میں جنگلاتی آگ بدترین[/pullquote]

آسٹریلیا کے مشرقی علاقوں میں لگی جنگلاتی آگ خشک موسم اور بلند درجہ حرارت کے باعث مزید بھیانک شکل اختیار کر گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صورت حال نئے سال کے موقع پر درپش حالات سے زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ نئے سال کے آغاز پر جنگلاتی آگ کی وجہ سے ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ حکام ملک کے مشرقی ساحلی علاقوں میں لگی اس بڑی آگ سے متعلق مسلسل انتباہ جاری کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں کے قریب بسنے والے افراد یہ علاقے چھوڑ دیں۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق جنگلاتی آگ سے متاثرہ علاقے کے جنوبی حصے میں بادل گرج چمک رہے ہیں اور اندیشہ ہے کہ آسمانی بجلی گرنے سے مزید آگ بھڑک سکتی ہے۔

[pullquote]اسپین کے مستقبل کا دارومدار آج کی پارلیمانی ووٹنگ پر[/pullquote]

اسپین میں آج قانون ساز سوشلسٹ وزیراعظم پیدرو سانچیز کی وزارت عظمیٰ کی تصدیق کے لیے پارلیمان میں ووٹ دے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں نہایت کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ سانچیز کے بائیں بازو کے اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 155نشستیں ہیں، جو 350 رکنی پارلیمان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ سانچیز کی کامیابی کا دارومدار مختلف چھوٹی علاقائی جماعتوں پر ہے۔ اسپین کے کاتالونیا خطے کی علیحدگی پسند جماعت نے اس شرط پر آج کی ووٹنگ میں حصہ نہ لینے پر اتفاق کیا ہے کہ سانچیز حکومت بننے کے بعد کاتالونیا کے مستقبل پر ان سے مکالمت کریں گے۔

[pullquote]روسی نشریاتی ادارہ اسپُٹنِک کی اسٹونیا کی شاخ بند[/pullquote]

روس کے غیرملکی نیوز چینل اسپُٹنِک نے اسٹونیا میں قائم اپنی شاخ بند کر دی ہے۔ اس نیوز چینل کے سربراہ کے خلاف یورپی یونین نے پابندیوں کا نفاذ کر دیا تھا، جس کے بعد اس کا عملہ مستعفی ہو گیا۔ یہ نشریاتی ادارہ روس کی سرکاری نیوز ایجنسی روسیا سیگودنیا سے منسلک ہے، جس کے سربراہ دیمتری کیسلیوف کو یوکرائن میں روسی اقدامات کے تناظر میں یورپی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دسمبر میں اسٹونیا کے حکام نے اس روسی نیوز چینل کو مطلع کیا تھا کہ اگر وہ روسی خبر رساں ادارے روسیا سیگودنیا کے ساتھ تعلق قائم رکھتا ہے، تو یہ مجرمانہ فعل ہو گا۔ واضح رہے کہ کیسلیوف کو یوکرائن میں حملوں میں روس کے لیے پروپیگنڈا کرنے اور معاونت فراہم کرنے جیسے معاملات کی وجہ سے یورپی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے