[pullquote]چین: کورونا وائرس سے ہلاکتیں پانچ سو کے قریب[/pullquote]
چین میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ہونے والی ہلاکتیں چار سو نوے ہو گئی ہیں۔ بیجنگ سے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید پینسٹھ افراد ہلاک اور چار ہزار کے قریب نئے مریضوں میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس طرح جن مریضوں میں نمونیا کے وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، اُن کی مجموعی تعداد 24324 تک پہنچ گئی ہے۔ ابھی تک چین سے باہر دو افراد اس وائرس کی وجہ سے دم توڑ چکے ہیں۔ چینی شہر ووہان سے دوسرے ممالک اپنے شہریوں کا چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے انخلا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک اس وائرس کے خلاف ویکسین تیار نہیں کی جا سکی ہے۔
[pullquote]مشرقی ترکی میں امدادی ورکر بھی برفانی تودے کی زد میں، گیارہ ہلاک[/pullquote]
مشرقی ترکی میں برف کا تودہ گرنے سے گیارہ امدادی ورکرز ہلاک ہو گئے ہیں۔ درجنوں امدادی ورکرز برفی تودے کے گرنے سے ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ایمرجنسی ریسکیو آپریشن میں پچیس ورکروں کو برف میں سے نکالا جا چکا ہے۔ برف میں سے نکالے گئے افراد کی صحت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ برف کا تودہ گرنے کے بعد ایمرجنسی سروس نے دبے ہوئے افراد کو نکالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پہلے برفانی تودے کے گرنے سے ایک ایمبولنس اور منی بس دب کر رہ گئی تھیں جبکہ دوسرا برفانی تودہ تین سو امدادی ورکروں پر گرا تھا۔
[pullquote]ترک انتباہ نظر انداز، شامی فوج کی پیش قدمی جاری[/pullquote]
شامی فوج نے ملک کے شمال مغرب علاقے ادلب میں اپنی فوجی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کارروائی پر ترکی اور شام کے درمیان پہلے سے پائی جانے والی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن واضح کر چکے ہیں کہ وہ شامی فوج کو شورش زدہ علاقے میں مزید زمین پر قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس فوجی آپریشن میں اب تک پانچ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دوسری امدادی تنظیموں نے شامی فوج کی جنگی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
[pullquote]سعودی عرب کے لیے جاسوسی، ڈنمارک میں تین مشتبہ افراد گرفتار[/pullquote]
ڈنمارک کے حکام نے بتایا ہے کہ تین ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو علیحدگی پسند ایرانی گروپ ’تحریک برائے آزادئ اہواز‘ سے منسلک ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ یہ کسی سعودی خفیہ ادارے کے لیے جاسوسی میں مصروف تھے۔ ان تینوں کو کوپن ہیگن سے ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک مقام سے گرفتار کیا گیا۔ ایک عدالت نے ان افراد کو ستائیس فروری تک پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کی کارروائی بند دروازے کے پیچھے کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
[pullquote]بھارت کو روسی میزائل کی فراہمی اگلے برس کے آخر میں[/pullquote]
روس کی ڈیفنس انڈسٹری کے مطابق دفاعی میزائل نظام ایس فور ہنڈرڈ کی بھارت کو فراہمی سن 2021 کے اختتام میں شروع کر دی جائے گی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی ماہرین کو میزائل کی فراہمی سے قبل باقاعدہ تربیت بھی دی جائے گی۔ سن 2018 میں بھارت نے روسی میزائل نظام ایس فور ہنڈرڈ کی پانچ بیٹریاں خریدنے کی ڈیل طے کی تھی۔ یہ ڈیل پانچ بلین ڈالر سے زائد کی ہے۔ ترکی کو بھی روس نے ایس فور ہنڈرڈ میزائل فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
[pullquote]نیوزی لینڈ مییں سیلاب، سینکڑوں افراد کا انخلا[/pullquote]
جنوبی نیوزی لینڈ میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والی سیلاب نے سینکڑوں افراد کو اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ گور، ماتاؤرا اور وِنڈام کے قصبوں میں سیلابی ریلے داخل ہو گئے ہیں۔ ایک سیاحتی مقام ملفورڈ ساؤنڈ میں کئی سو سیاحوں سیلابی صورتحال میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ ان سیاحوں کی منتقلی کے لیے مقامی انتظامیہ کو ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرنا پڑا۔ کئی پہاڑی اور جنگلاتی راستوں کے ساتھ ساتھ رابطے کی سڑکیں بھی مٹی کے تودے گرنے سے بند ہو گئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں موسمی صورت حال بدھ پانچ فروری سے بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔
[pullquote]دبئی: مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ[/pullquote]
خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات میں شامل دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایک مرتبہ پھر دنیا کا مصروف ترین ایئر پورٹ قرار دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سن 2019 میں اس ہوائی اڈے سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد چھیاسی ملین سے زائد رہی۔ یہ تعداد دوسری پوزیشن پر آنے والے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے سے چھ ملین زیادہ ہے۔ گزشتہ برس دبئی ایئر پورٹ کو استعمال کرنے والے مسافروں میں تین فیصد کمی واقع ہونے کے باوجود اُسے مصروف ترین قرار دیا گیا۔ یہ مسلسل چھٹا برس ہے کہ دبئی کے ہوائی اڈے کو بین الاقوامی سفر کے لیے دنیا کا مصروف ترین ایئر پورٹ قرار دیا گیا۔
[pullquote]ٹرمپ کے مشرقی وسطٰی امن منصوبے پر یورپی یونین کی تنقید[/pullquote]
یورپی یونین نے مشرق وسطی میں قیام امن کے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ یورپی یونین میں خارجہ امور کے سربراہ جوزیف بوریل کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کے حل کے لیے پیش کیا جانے والا یہ منصوبہ بین الاقوامی معاہدوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بوریل نے فریقین کے مابین براہ راست بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تصفیہ طلب مسائل فریقین آپس میں براہ راست مذاکرات سے حل کریں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے یہ منصوبہ پیش کیا تھا۔ اسرائیل نے اس کی تائید کی تھی جبکہ فلسطین حکام نے مسترد کر دیا تھا۔
[pullquote]آئیوا کاوکسز: برنی سینڈرز اور جو بائیڈن پارٹی الیکشن میں ناکام[/pullquote]
امریکی ریاست آئیوا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے پارٹی الیکشن کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہو گئے۔ گنے گئے اکہتر فیصد ووٹوں میں ریاست انڈیانا کے شہر ساؤتھ بینڈ کے سابق میئر پیٹ بوٹے جج کو سبقت حاصل ہے۔ دوسری پوزیشن پر برنی سینڈرز ہیں۔ تیسری پر خاتون امیدوار الزبتھ وارن ہیں اورسابق نائب صدر جو بائیڈن چوتھے مقام پر ہیں۔ بائیڈن کا خیال ہے کہ وہ اگلے پارٹی انتخابات میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ اب اگلی کاؤکسز نیو ہیمپشائر ریاست میں اگلے منگل گیارہ فروری کو ہو گی۔
[pullquote]امریکی صدر کا کانگریس میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب[/pullquote]
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ عظیم امریکا کی واپسی ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ملکی ترقی کی رفتار غیرمعمولی ہے اور اب عظمت کے حصول کے اس سفر میں واپسی کا امکان نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں حاصل کیے گئے مثبت اقتصادی اعشاریے خاص طور پر پیش کیے۔ یہ تقریر ایسے وقت میں کی گئی جب انہیں مواخذے میں سینیٹ سے ممکنہ طور پر بریت حاصل ہو سکتی ہے۔ امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے مواخذے پر حتمی رائے شماری آج بدھ پانچ فروری کو ہونے والی ہے۔ اس تقریر کے دوران کانگریس میں ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کی تقسیم انتہائی واضح دکھائی دی۔
[pullquote]جنگلاتی آگ نے آسٹریلوی معیشت کو متاثر نہیں کیا[/pullquote]
آسٹریلیا کے سینٹرل بینک نے کہا ہے کہ جنگلاتی آگ سے ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر نہیں ہوئی ہے۔ آسٹریلوی مرکزی بینک کے سربراہ نے ملکی اقتصادی صورت حال بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ فی الحال چین میں جنم لینے والے کورونا وائرس کے معاشی اثرات بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے بقول آتشزدگی سے اقتصادی شرح پیداوار 0.2 فیصد سست ضرور ہوئی ہے۔ گزشتہ برس ستمبر سے یہ آگ ابھی بھی کئی مقامات پر لگی ہوئی ہے۔ اب تک اس آگ سے تینتیس افراد جھلس کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنوب مشرقی آسٹریلیا کا انتہائی وسیع رقبہ آگ نے جلا کر خاک کر دیا ہے۔