سنتے تھے کہ میجر صاحب بہت اوپر سے آئے ہیں اور اب وہی پنجاب کو سنبھالیں گےاور انھوں نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے وغیرہ وغیرہ ، لیکن وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قسمت بھی زوروں پر ہےکہ میجر صاحب ابھی بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ نکالے بھی گئے کے مصداق واپس مرکز بلا لیے گئےاور ایک سلجھے ہوئے باوقار اور پروفیشنل بیورو کریٹ جواد رفیق ملک کو پنجاب کا چیف سیکرٹری تعینات کر دیا گیا۔
دسمبر 2017 ء میں جب میں وفاقی وزیر مواصلات کے معتمد کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہا تھا ، تب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چئیرمین شاہد اشرف تارڑر عالمی بنک چلے گئےاور ان کی جگہ نیا چئیرمین مقرر ہونا تھا۔
شاہد اشرف تارڑر بہت فعال اور نہایت ذہین و فطین آدمی تھے، سی پیک کا سارا کام اور موٹرویز میں اضافہ اور بروقت ان کو کھولنے کا سہرا ان کے سر ہے، بلاشبہ انھوں نے جنوں کی طرح کام کیا۔
ایک ایسے بندے کا جانشین بھی نہایت ہونہار اور خرانٹ چاہیئے تھا ، جو نہ صرف جاری کاموں کی تکمیل کرتا بلکہ ان کو اور بہتر کرتا، تب بہت سارے نام سامنے آئے، ہر نام پر کوئی نہ کوئی اعتراض تھا، درمیان میں کچھ وقت بھی لگ گیا کہ اس کو نہیں لانا اس کو نہیں لانا، لیکن بالآخر ایک نام پر اتفاق ہو گیا اور وہ نام تھا جواد رفیق ملک۔
جواد رفیق ملک پاکستان سول سروس کے ایڈ منسٹریٹو سروس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق سیکرٹری ٹو پی ایم فواد حسن فواد ، موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ، رضوان احمد کے بیج میٹ ہیں۔
2017 میں فیڈرل سیکرٹری بنے اور قومی اسمبلی کے سیکرٹری تعینات ہوئے، اس سے قبل پنجاب میں سیکرٹری صحت رہےاور اس سے قبل کمشنر لاہور کے منصب پر بھی فائز رہے۔
دسمبر 2017 سے جولائی 2019 تک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چئیرمین اور جولائی 2019 سے اپریل 2020 تک سیکرٹری مواصلات رہے، جواد رفیق ملک جب این ایچ اے کے چئیرمین تھے تب ان کے ساتھ اچھی رفاقت رہی۔بالعموم وزارت اور اس کے شعبوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہی رہتے ہیں، لیکن ملک صاحب کے ساتھ ایک دن بھی ایسا نہیں ہوا۔
جب چئیرمین بنے تو کہنے لگے کہ یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے۔تب میں نے عرض کیا کہ آپ 342 اراکین قومی اسمبلی پر مشتمل اسمبلی کے سیکرٹری تھے۔کہ جن میں ہر رکن اپنی ادا میں منفرد ہوتا ہے اگر ان کو آپ نے چلا لیا ہے تو یہ جگہ انشاء اللہ زیا دہ اچھی چلے گی اور ملک صاحب نے اس بات کو ثابت کیا اور چند دنوں میں ساری نئی بننے والی سڑکیں ان کو زبانی یاد ہو گئی تھیں، کہاجاتا ہے کہ کسی کے بارے میں آپ کی رائے مصدقہ تب ہو سکتی ہے کہ جب آپ نے کسی کے ساتھ سفر کیا ہو ، کوئی معاملہ کیا ہو یا اس کو غصے کی حالت میں دیکھا ہو۔
ملک صاحب کے ساتھ ہم نے کئی سفر کیے۔جہاں پر غصہ آنا تھا وہ بھی دیکھا۔اور اربوں کے معاملات کے وہ نگران بھی تھے، میں نے انھیں ایک اچھا اور نفیس آدمی پایا، ملتان سکھر موٹر وے کا دورہ کرنے کے لیے جب ہم ملتان گئے ہوئے تھے۔ صبح ہوٹل سے چیک آوٹ کیا۔ہم سب باہر نکلے ۔ملک صاحب کاونٹر پر رک گئے، میں واپس آیا کہ کیا معاملہ ہوا ہے، ملک صاحب اپنا بل دے رہے تھے کہ وہ مقامی محمکہ پر بوجھ نہیں بننا چاہتے تھے۔ ملک صاحب نے کہا کہ یہ بل ان کو ٹی اے ڈی کی صورت میں واپس مل جائے گا اور اپنا بل وہ خود ادا کریں گے۔
اسی طرح ہزارہ موٹر وے ، لیاری ایکسپریس کراچی سمیت دیگر منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کے ان کے افتتاح کروائے۔ اجلاسوں میں این ایچ اے کی اس طرح طرف داری کرتے اور اس کے لیے لڑتے تھے جیسے کوئی فرد اپنے ذاتی کام کے لیے لڑتا ہے۔جب تک ہم سرکار کے کام کو اپنا کام نہیں سمجھیں گے ترقی تو بہت مشکل ہم چل بھی نہیں سکتے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو سرکار کے کام کو اپنا کام سمجھیں ۔اس وقت بیورو کریسی کی حالت یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کا دن کسی طور گزر جائے کل کی کل دیکھیں گے۔اوپر سے نیب کے غیر ذمہ دارانہ کردار نے تو ان کو مکمل بریکیں لگا دی ہیں کہ اگر یہ منصوبہ دستخط کر دیا تو کل نیب پکڑ لے گا ۔
لہذا "نہ ڈھولا ہوسی تے نہ رولا ہوسی ”
کے مصداق وہ جان چھڑانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔
ایک اور گروپ وہ ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو وزیر لوگ ہیں یہ بالکل بیکار ہیں ، ان کو الف ب کا بھی نہیں پتہ اور جو کچھ آتا ہے صرف ان ہی کو آتا ہےاور وہ اپنی ہر نئی پوسٹنگ پر جا کر سب کچھ اکھاڑ دیتے ہیں کہ کام کرنے کا صیحح طریقہ صرف ان ک معلوم ہے، وہاں کا وزیر کچھ اور چاہ رہا ہوتا ہے اور یہ کچھ اور چناچہ اس رسہ کشی میں کشتی ملک کی ڈوب رہی ہوتی ہےاور نیچے کا سارا عملہ تماشہ دیکھتا رہتا ہے اور وہ اسی میں خوش رہتا ہے کہ وزیر اور سیکرٹری آپس میں لڑتے رہیں ۔
ملک صاحب آپ کو نئی ذمہ داری مبارک ہو آپ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جو وزیر اعلی ہے وہ بھی کام کرنا چاہتا ہے، سردار عثمان بزدار چاہتے ہیں کہ عوام کے لیے کچھ کیا جائےاور اتنے بڑے صوبے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔
ان ہی لوگوں سے کام لینا ہے۔لاہور والے کو اگر آپ ساہیوال لگا دیں گے تو کیا وہاں عوام نہیں ہیں اور وہاں اس نے کمانڈ نہیں کرنی ، کیا فرق ہے لاہور اور ساہیوال میں بندوں کو اپنی جگہ رکھ کر ان کے دل تبدیل کریں ان میں خوف خدا پیدا کرین ، سارے کورسز اپنی جگہ لیکن جب تک آخرت کی جواب دہی کا احساس پیدا نہیں ہو گا، کام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔
جواد رفیق ملک صاحب میں نے آپ کو وزیر اعظم ہاؤس میں بھی پوری نماز پڑھتے دیکھا ہے، جہاں اول تو لوگوں کو توفیق ہی نہیں ہوتی اور اگر آ جائیں تو فرض تک محدود کہ کہیں میٹنگ خراب نہ ہو لیکن میم دیکھتا تھا کہ آپ آخری آدمی ہوتے تھے جو مسجد سے نکلتے تھے، خوف خدا ہو تو پنجاب کی چیف سیکرٹری شپ کوئی چیز ہی نہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ یہ احساس پورے صوبے کی بیورو کریسی تک منتقل کر جائیں۔