دو سال میں تو پی ایچ ڈی ہو جاتی ہے…..

انسان نے ترقی کی اور معاشرے کو پر امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت چلانے کے لیے قانون بنائے . قانون پہلے طاقتور کا ہتھیار تھا. اس کا لکھا قانون اور اس کا فرمایا ہوا مستنند ، معاشرہ مزید انتشار کا شکار ہوتا گیا . انسانوں پھر اکٹھے بیٹھے اور یہ طے ہوا کہ تمام انسان برابر ہیں اور انسانوں کو حق ہے کہ وہ مل جل کر اپنے تمدن اور تہذیب کے مطابق قانون سازی کریں . پارلیمان کا ادارہ وجود میں آیا . ہر علاقے ، زبان ، مذہب ،نسل سے تعلق رکھنے والے چناؤ کے زریعے پارلیمان کے ممبر بنے اور طے پایا کہ شہریوں کی منتخب کردہ یہ پارلیمان قانون سازی کر سکے گی .

قانون سازی میں کسی سقم کو دور کرنے کے لیے مزید ادارے بھی بنائے گئے . اراکین پارلیمان کی تربیت اور رہ نمائی کے لیے بھی ادارے بنائے گئے .
یہ طے پایا کہ کسی بھی ملک کا سب سے معتبر ادارہ پارلیمان ہوگا .
پارلیمان نے کیسے چلنا ہے ، اس کا اختیار شہریوں کے نمائندوں کے پاس ہوگا .
ملک کو کیسے چلانا ہے ، اس کا اختیار بھی پارلیمان کے پاس ہوگا .
ریاست کا عوام کے ساتھ کیا رشتہ ہوگا ، پارلیمان طے کرے گی .
ریاست کے پڑوسی ممالک سمیت دنیا بھر سے تعلقات کن بنیادوں اور اصولوں‌ پو ہوں گے ؟ پارلیمان طے کرے گی .
ریاستی اداروں کے امور ، ان کی حدود و قیود کیا ہوں گی ؟ پارلیمان طے کرے گی .
ریاست مذہبی ہوگی یا سیکولر ، پارلیمان طے کرے گی .
پارلیمان کو کون چلائے گا؟ پارلیمان طے کرے گی .
اپوزیشن لیڈر ، اسپیکر ، قائد ایوان اور ملک کا چیف ایگزیکٹو کون ہوگا ؟ پارلیمان طے کرے گی .
قائد ایوان ، اپوزیشن لیڈر ، اسپیکر اور چیف ایگریکٹو کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کا اختیار کسے ہوگا ، پارلیمان کو
اسمبلیاں توڑنے ، اجلاس بلانے ، اجلاس ختم کرنےسمیت تمام اختیارات پارلیمان کو حاصل ہوں گے .
قانون سپریم ہوگا لیکن قانون پارلیمان بنائے گی .قانون کو ختم کرنے ، نیا قانون لانے ، قانون میں ترمیم یا تحریف کا اختیار بھی فقط پارلیمان کو ہوگا .
قانون کسی پریشر گروپ ، کسی طاقت ور ادارے ، کسی بیرونی مداخلت یا کسی کے ذاتی مفاد کے لیے نہیں بنیں گے .
پارلیمان اپنے اختیارات تفویض یا تقسیم کر سکتی ہے لیکن اختیارات کا منبع پارلیمان ہی رہے گی اور پارلیمان کو اس کا اختیار شہریوں نے دیا ہے.

ریاست کے تین بنیادی ستون ہوتے ہیں مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ، مہذب ممالک میں میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے . پوری دنیا میں جہاں جہاں پارلیمانی نظام قائم ہے ، اس کے بنیادی اصول ، قاعدے اور ضابطے یہی ہیں اور وہ دوسرے کے دائرے میں مداخلت کیے بغیر انہی دائروں میں رہ کر کام کرتا ہے . ملک چلتے رہتے ہیں اور کاروبار زند گی بڑھتا رہتا ہے . معاشرے کا ہر فرد خود محفوظ سمجھتا ہے اور کسی کو سوچنے اور بولنے کی وجہ سے لاپتا ہونے ، مارے جانے اور لاش نہر کے کنارے سے بر آمد ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا . ایسے معاشروں کے لوگوں کو دور دراز کے علاقوں میں ایف آئی آر کے اندراج کا بھی خطرہ نہیں ہوتا . ایسے معاشروں سے غداری کی خبریں بھی نہیں آتیں . ان معاشروں کی طاقت یا قوت اداروں یامخصوص افراد کے پاس نہیں ہوتی بلکہ ایسے معاشروں میں ہر فرد اپنی پوری ذہنی طاقت کے ساتھ سوچتا ہے اور اپنے جگر کی پوری توانائی کے ساتھ گونجتا ہے . تنقید ترقی کا زینہ ہوتی ہے . مطمئن معاشرے تنقید سے گھبراتے نہیں .

اس ساری صورتحال میں ہم اس وقت اپنے گھر کا دروازہ کھٹکٹھاتے ہیں . یہاں دیکھیں کہ میڈیا ، انتظامیہ ، عدلیہ اور مقننہ کہاں کھڑے ہیں . اس وقت میڈیا کی صورتحال آپ کے سامنے ہے . انتظامیہ کی کل کائنات اپنی "چمڑی” بچانا ہے .عدلیہ کے بارے کچھ لکھنا اپنی توہین سی محسوس ہوتی ہے. پارلیمان کی اوقات فقط ایک مشت ” خاک ” سے زیادہ نہیں . بلوچستان اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی "بازوئے قاتل ” کا زور دیکھتے ہی "سرفروشی کی تمنا” میں بہہ گئی تھی . چئیرمین سینیٹ کے انتخاب نے میر حاصل خان بزنجو کی جان لے لی اور قومی اسمبلی تو "یاروں” کی "یار” ہے . یہاں ہر مراد سعادت پاتی ہے . ایکسٹینشن کی ٹینشن ختم ہونے کے بعد ابھی کل ہی کا معاملہ دیکھ لیجیے . اس ساری صورت حال میں ………

انتہائی معذرت ، مجھےیاد آیا کہ پرسوں میرے ایک دوست نے کہا تھا کہ ملائشیا میں پی ایچ ڈی کا کم سے کم دورانیہ دو سال ہے . میرا خیال ہے کہ دو سال ضائع کرنے کے بجائے پی ایچ ڈی کرنا زیادہ مناسب ہے .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے