پارلیمینٹ ہاؤس سے ایک خوشگوار خبر

پارلیمینٹ ہاؤس کی مسجد کے امام اور خطیب مولانا احمد الرحمان کا تعلق دیوبندی مکتب فکر سے ہے اور وہ سیاسی طور پر جمیعت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھتے ہیں۔مولانا احمد الرحمان کا تعلق اٹک سے ہے اور وہ پنجابی زبان بولتے ہیں ۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیرزادہ ڈاکٹرنورالحق قادری کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے ہے جبکہ سیاسی طور وہ تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کا تعلق خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کو تل سے ہے اور وہ پشتو زبان بولتے ہیں ۔

میرا دونوں کے ساتھ پرانا اور محبت و احترام کا تعلق ہے ۔ زمانہ طالب علمی میں اکثر جمعے کے روز میں پشاور یونیورسٹی سے امی کی دوست کے گھر حیات آباد پشاور جاتا تھا ۔آنٹی بہت زبردست کھانا بناتی تھیں اور زبردستی کھلاتی بھی تھیں ۔ ان کی بڑی بیٹی نیشنل پبلک اسکول ایبٹ آباد میں پانچویں کلاس تک میری کلاس فیلو تھیں ۔ جب میرا ناظرہ ختم ہوا تو ابو نے مجھے قرآن حفظ کرنے کے لیے بٹھا دیا . ایک طرف اسکول کا کام اور دوسری طرف حفظ ، کھیلنا تو دور سرکھجانے کا موقع نہیں ملتا تھا . عصر سے مغرب کے درمیان ہم کھیلتے تھے تو اس دوران کئی بار وہ میرا ہوم ورک بھی کر دیتیں تھیں ۔? اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ وہ ہی کرتیں تھیں کبھی کبھی میں خود بھی کرتا تھا تاہم کچھ میری مزید کچھ کلاس فیلوز اور سینئرز بھی یہ خدمت سر انجام دیکر اپنی آخرت سنوارتی تھیں ۔

ان کے ابو نور رحمان صاحب ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ ایبٹ آباد میں ہیڈ ڈرافٹسمین تھے ۔ وہ ابو کے دوست بھی تھے . جب ہم پانچویں کلاس میں تھے تو ان کا پشاور تبادلہ ہو گیا ۔ اس وقت ہمارے گھروں میں فون وغیرہ تو تھا نہیں ، یوں ہمارا تعلق بھی ختم ہو گیا ۔ 12 اکتو بر 1999 کو جب میں پشاور گیا تو دو تین دن لگا کر بالآخر آٹھ برس بعد انہیں ڈھونڈ ہی لیا ۔

بات ہو رہی تھی جمعے کی ، تو اکثر جمعے کی نماز کے لیے میں ، عطاء الرحمان ، سعید ، عدنان اور بلال کے ساتھ حیات آباد کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد الزرغونی مسجد جایا کرتے تھے . الزرغونی مسجد کے امام اور خطیب موجودہ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری صاحب تھے ۔ قادری صاحب کا خطبہ اور قرات سن کر لگتا تھا جیسے آپ حرم میں نماز پڑھ رہے ہوں ۔ بعد میں قادری صاحب سیاست میں آگئے . وہ الیکشن جیتے تو میں اس وقت میں شیخ زید اسلامک سنٹر پشاور یونیورسٹی میں بی اے آنرز کے ساتھ روزنامہ ڈان اور روزنامہ ایکسپریس پشاور میں انٹرن شپ کر رہا تھا . ایکسپریس اور ڈان کے دفاتر پشاور صدر میں ساتھ ساتھ تھے ۔ ریاض خان صاحب ڈان میں ہوتے تھے ، انہوں نے اس وقت ڈان میں ہماری کئی اسٹوریز بھی شائع کی تھیں . پیپلز پارٹی کے دور میں انہیں ایسوسی ایٹڈ پریس اے پی پی کا ایم ڈی بنا دیا گیا تھا۔

شیخ زید اسلامک سنٹر میں ویسے تو کافی اچھے اور بہترین دوست تھے تاہم ڈاکٹر اسد علی صافی ، ڈاکٹر عبید اللہ قریشی ،ناصر فرید ، عصمت زہرا اور نیلو فر پر مشتمل ہمارا ایک گروپ تھا . ایک روز میں اور ناصر فرید (ناصر فرید اس وقت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں میڈیا اینڈ پروٹوکول سیکشن کے ہیڈ ہیں) ایکسپریس اخبار کے دفتر گئے . ایکسپریس اخبار نیا نیا شروع ہوا تھا . سلطان لاکھانی صاحب اس اخبار کے مالک تھے . ان کے تمباکو سمیت مختلف کاروبار تھے . اس وقت جنگ اخبار کا ایک تحقیقاتی سیل ہوتا تھا جس کے سربراہ کامران خان صاحب تھے ۔ جیو نیوز پر جب "آج کامران خان کے ساتھ ” کا پرومو چلتا تھا تو بتیس سو یا بتیس ہزار تحقیقاتی خبروں کا حوالہ ضرور دیا جاتا تھا ۔ انہی بتیس ہزار خبروں میں سے ایک خبر ایسی بھی تھی جو ایکسپریس اخبار کے قیام کا سبب بنی ۔

سلطان لاکھانی جنگ اخبار کو کافی اشتہارات دیتے تھے ۔ جب جنگ اخبار میں ان کے خلاف تحقیقاتی سیل کی خبر شائع ہوئی تو انہوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت اپنا اخبار نکالنے کا فیصلہ کر لیا ۔ انہیں شکایت تھی کہ ان کے خلاف اکثر اسی طرح خبریں شائع کی جاتی ہیں . انہوں نے ملک کے گیارہ شہروں سے بیک وقت ایکسپریس اخبار شروع کیا اور اخبار میں جن لوگوں کو ملازمتیں ، عہدے اور کالم دیے گئے ان میں سے اکثریت کا تعلق جنگ اخبار سے تھا ۔ پاکستانی میڈیا میں غالبا یہ پہلا موقع تھا کہ صحافیوں کو بڑی تنخواہوں اور مراعات پر ایکسپریس اخبار نے ملازمتیں دی تھیں ۔ بیوروچیفس اور ریزیڈنٹ ایڈیٹرز کو گاڑیاں اور ڈرائیور دیے گئے .

سہیل قلندر صاحب روزنامہ ایکسپریس پشاور کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے ۔ میں اور ناصر فرید صاحب جب انٹرن شپ کے لیے ان سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ تم صحافی بننا چاہتے ہو ؟
میں نے کہا جی ،
تو انہوں نے کہا کہ آج یونیورسٹی میں جو سب سے اہم واقعہ ہوا ہے اس کی خبر بنا کردو ۔
اس روز پشاور یونیورسٹی کے داخلی گیٹ کے ساتھ واقع ارنم اسپتال کے عقب میں کویت کے تعاون سے تعمیر ہونے والی مسجد کو منہدم کر دیا گیا تھا ۔ یہ مسجد اسپین جماعت (پشتو میں اسپین سفید کو کہتے ہیں اور اس مسجد کا رنگ سفید تھا )سے ایک کلومیٹر سے بھی کم مسافت پر واقع تھی ۔سپین جماعت وہ مسجد ہے جہاں اسامہ بن لادن کے استاد ڈاکٹر عبداللہ بن عزام کو گاڑی میں نصب کنٹرول بم سے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ جمعے کی نماز پڑھ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے ۔ یہ بات پشاور میں مشہور ہے تاہم The Caravan Abdallah Azzam and the Rise of Global Jihad by Thomas Hegghammer نے لکھا ہے کہ عبداللہ عزام پشاور میں ارباب روڈ چوک کے قریب مسجد السبیل میں امامت کرواتے تھے اور وہاں جمعہ پڑھوانے کے لے جارہے تھے کہ مارے گئے . سپین جماعت کے گرد و نواح میں اس وقت افغان مجاہدین بڑی تعداد میں رہائش پزیرتھے ۔ اسامہ بن لادن ، ڈاکٹر ایمن الظواہری سمیت افغان مجاہدین اور القاعدہ کے اہم رہ نما انہی علاقوں میں رہتے تھے . اس کے علاوہ وارسک ڈیم روڈ پر بھی ان کے ٹھکانے تھا جہاں 2014 میں دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا ۔

میں نے مسجد کے انہدام کی خبر بنا کر د ی تو سہیل قلندر صاحب نے پڑھنے کے بعد شاباش دی اور جمشید باغوان صاحب سے کہا کہ وہ اسے شائع کریں ۔میری صحافتی زندگی کی سب سی پہلی خبر کو بغیر کسی ایڈیٹنگ کے، میرے نام کے ساتھ اگلے روز روزنامہ ایکسپریس پشاور کے فرنٹ پیج کے اپر ہاف میں شائع کیا گیا تھا۔ سہیل قلندر صاحب ، ناصر مہمند صاحب اور جمشید باغوان صاحب نے ہمیشہ کام میں مدد اور حوصلہ افزائی کی ۔ سہیل قلندر صاحب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر اور پشاور پریس کلب کے دوبار صدر اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر بھی رہے . ان کا برس پہلے انتقال ہو گیا ہے ۔ ناصر مہمند صاحب اور جمشید باغوان صاحب تو بالکل بڑے بھائیوں جیسے ہیں . ناصر مہمند صاحب چینل 24 نیوز میں ڈائریکٹر ہیں اور جمشید باغوان صاحب ، سہیل قلندر صاحب کی وفات کے بعد ایکسپریس پشاور کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بن گئے تھے . آج کل پشاور پریس کلب کے صدارتی امیدوار ہیں ۔

بات نورالحق قادری صاحب کی سیاست میں انٹری کی ہو رہی تھی اور میں نے اپنی صحافت میں انٹری کی کہانی ڈال دی ۔ قادری صاحب 2002 میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 45 سے تقریبا نو ہزار سے زائد ووٹ لیکر قومی اسمبلی کے رکن بن گئے جبکہ ان کے بھائی عبد المالک قادری صاحب سینیٹر بن گئے ۔ قادری صاحب بعد میں وزیر مملکت بھی رہے ۔ وہ آزاد حیثیت میں 2002 اور 2008 کا الیکشن جیتے . 2013 میں وہ الیکشن نہ جیت سکے . 2017 میں وہ تحریک انصاف میں شامل ہو ئے اور 2018 کا الیکشن جیت کر مذہبی امور کے وفاقی وزیر بن گئے . نور الحق قادری صاحب 2002 کا الیکشن جیتنے کے بعد مٹھائی لیکر ایکسپریس پشاور کے دفتر میں آئے تو سہیل قلندر صاحب نے مجھے نور الحق قادری صاحب کے انٹرویو کا کہا ۔ یہ شاید کسی ملکی سطح کے اخبار میں ان کا پہلا سیاسی انٹرویو تھا ۔ نور الحق قادری صاحب کے والد لنڈی کوتل کی معروف روحانی شخصیت تھے ۔ کئی بار لنڈی کوتل میں ان سے ملاقات ہوئی ۔ بہت زیادہ محبت کرنے والی شخصیت تھے . خدا انہیں رحمتوں کے حصار میں رکھے . نور الحق قادری صاحب نے درس نظامی کے بعد پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی کی ۔ ان کے سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب تھے جو ہمارے بھی استاد ہیں ۔ اب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین ہیں .

میں نے نومبر 2004 میں جیونیوز جوائن کیا ۔ حامد میر صاحب جیو نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف تھے ۔ یہ آٹھ اکتوبر 2005 کی بات ہے کہ حامد میر صاحب نے مجھے اور راشدہ کیانی سے کہا کہ کل سے آپ لوگوں نے بھی پارلیمینٹ کی کوریج کرنی ہے . اس سے پہلے پارلیمان کی کوریج عاصمہ شیرازی ، مدثر سعید ، اشرف ملخم اور ارشد وحید چوہدری ( ارشد بھائی کو اب مرحوم کیسے لکھوں ) ہی کرتے تھے ۔ ہم دونوں نے صبح دس بجے سینیٹ کا اجلاس کور کرنا تھا . یہ دوسرا روزہ تھا، میں جی ایٹ مرکز میں حامد میر صاحب کے فلیٹ میں شفٹ ہوا تھا لیکن میں اور ناصر رات مظہر طفیل صاحب کے ساتھ رہے تھے کیونکہ ابھی ہم نے سامان نہیں خریدا تھا . مظہر طفیل اس وقت سمیع ابراہیم صاحب کے فلیٹ میں رہتے تھے ۔ صبح میں اخبار پڑھ رہا تھا ، مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ میں روزنامہ جنگ میں احمدیوں کے قتل کی خبر پڑھ رہا تھا ، سیالکوٹ میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر اس وقت نامعلوم افراد حملہ کر کے آٹھ احمدیوں کو قتل کر دیا تھا کہ اچانک فلیٹ دائیں سے بائیں جھولا کھانا شروع ہو گیا۔ بھاگتے دوڑتے نیچے پہنچے تو علم ہوا کہ میڈیا کے اکثر لوگ یہیں رہائش پزیر ہیں . فوزیہ شاہد صاحبہ اور طاہر اے خان صاحب سے وہیں ملاقات ہوئی ۔ بہر حال یہ آٹھ اکتوبر 2005 کا خوفناک زلزلہ تھا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔

اب بندہ کیا کرے ، بات کہاں کی کہاں نکل جاتی ہے ۔ بات مولانا احمد الرحمان صاحب اور قادری صاحب کی ہو رہی تھی ۔ میں نے زلزلے کے بعد پارلیمان کی باقاعدہ کوریج کرنی شروع کر دی ۔ جب پارلیمان کا اجلاس ہوتا تو ہم جمعہ پارلیمان کی مسجد میں ادا کرتے ، اجلاس نہ ہو تو پھر ایم این اے ہاسٹل کی مسجد میں اور جب کوئی مظاہرہ ہوتا جمعہ لال مسجد میں کیونکہ اکثر مظاہرے لال مسجد سے ہی شروع ہوتے تھے .

مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا فضل الرحمان ، قاضی حسین احمد ، حافظ حسین احمد ، مولانا محمد خان شیرانی ، سمیت سینیٹ اور قومی اسمبلی میں موجود اکثر اراکین بھی جمعہ پارلیمان یا ایم این اے ہاسٹل کی مسجد میں پڑھتے تھے . جب یہ دونوں مسجدیں نہیں ہوتی تھیں تو اس وقت اراکین پارلیمینٹ اور مسلم ممالک کے سفراء جمعے کی نماز لال مسجد میں پڑھتے تھے . لال مسجد کے خطیب مولانا عبد اللہ تھے جنہیں 17 اکتوبر 1997 کو لال مسجد کے احاطے میں قتل کر دیا گیا تھا ، جمعے کے روز حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے ۔ ایک روز تو مولانا عبداللہ نے بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی لسٹ جمعے کے خطبے میں بیان کر کے حکومت کو خوب لتاڑا . حکومتی وزراء پہلی صف میں بیٹھے ہوتے تھے ۔ مشہور ہے کہ اسی وجہ سے ایک بار انہیں اسلام آباد پولیس اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر لے گئی اور ایک جنگل میں چھوڑ آئی ۔ غالبا اراکین اسمبلی کو اسی ” کوفت ” سے بچانے کے لیے پارلیمان ، ایم این ایز ہاسٹل ، ڈپلومیٹک ایونیو اور منسٹرز انکلیو میں مسجدیں بنا دی گئی ہیں، نہ اراکین اسمبلی عام جگہوں پر جائیں اور ناہی انہیں عوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑے ۔

پارلیمان کی مسجد میں جب جمعے کے روز مولانا فضل الرحمان آتے تو مولانا احمد الرحمان صاحب انہیں منبر پیش کرتے تھے ۔ مولانا خطاب کرتے اور نماز بھی پڑھاتے . نماز کے بعد مولانا فضل الرحمان مسجد سے ملحق مولانا احمد الرحمان کے کمرے میں دو تین گھنٹے بیٹھتے اور صحافیوں سے گپ شپ لگاتے تھے ۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان اور شہریار آفریدی بھی سیاسی اختلاف کے باوجود جمعے کے بعد کبھی کبھار آ جاتے تھے .یہ بڑی مزے دار نشست ہوتی تھی جس میں آف دی ریکارڈ اور آن دی ریکارڈ گفتگو ہوتی . علمی لطائف ، تاریخی واقعات ، دلچسب کہانیاں ، ان نشستوں میں کیا کیا نہیں ہوتا تھا ۔ خوب قہقہے گونجتے . اگر مولانا کبھی اجازت دیں تو اس گفتگو کو احاطہ تحریر میں لاؤں ۔ ایک ایسا ہی جمعے کا دن تھا، حکومت پاکستان نے جب پاکستانی طالبان کے ساتھ مزاکرات کا فیصلہ کیا تو امریکا نے طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملے میں قتل کر دیا . مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ حکیم اللہ محسود ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمان کے مدرسے میں طالب علم بھی رہے ہیں . میں نے مولانا فضل الرحمان صاحب سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک حکیم اللہ محسود شہید ہے یا ہلاک تو مولانا نے کہا کہ امریکا کے خلاف لڑتے ہوئے اگر کتا بھی مارا جائے گا تو میرے نزدیک وہ شہید ہے ۔ مولانا یہ کہہ کر نماز پڑھانے چلے گئے لیکن ہم نے پیچھے جیو نیوز پر مولانا کے بیان سے اسکرین سرخ کر دی تھی . جمعہ ختم ہوا تو مولانا کو اس آگ کی خبر ملی جو ان کے بیان سے لگ چکی تھی ۔ مولانا احمد الرحمان صاحب پارلیمان کے گیٹ پر جہاں صحافی کھڑے ہوتے ہیں ، مجھے ڈھونڈ رہے تھے . جب میں نظر آیا تو ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ اندر مولانا یاد کر رہے ہیں . میں نے کہا کہ آج تو مو لانا مجھے پوری استقامت کے ساتھ مجھے یاد کر رہے ہوں گے . خیر میں اندر چلا گیا . وہاں مولانا شیرانی ، مولانا عبدالواسع صاحب سمیت کچھ صحافی دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ مولانا نے مجھے دیکھتے ہی ایک جملہ کہا اور میں نے اس جملے کا جواب دیا تو سب کے قہقہے بلند ہو گئے ۔ دونوں جملے مجلس کی امانت ہیں ۔ خیر مولانا نے مجھے اپنے پاس بٹھا دیا ۔ اب مولانا قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں اور میں بھی کافی عرصہ ہوا، پارلیمان کا رخ نہیں کیا لیکن آج ایک خوشگوار خبر صحافی دوستوں نے شئیر کی تو سوچا آپ سب کے ساتھ بھی شئیر کردوں ۔

پارلیمینٹ ہاؤس کی مسجد کے امام اور خطیب مولانا احمد الرحمان کا تعلق دیوبندی مکتب فکر ہے اور وہ سیاسی طور پر جمیعت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھتے ہیں۔مولانا احمد الرحمان کا تعلق اٹک سے ہے اور وہ پنجابی زبان بولتے ہیں ۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیرزادہ ڈاکٹرنورالحق قادری کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے جبکہ سیاسی طور وہ تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کا تعلق خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کو تل سے ہے اور وہ پشتو زبان بولتے ہیں ۔

آج جب مولانا احمد الرحمان صاحب پارلیمینٹ ہاؤس کی مسجد میں جمعے کا خطبہ دے رہے تھے تو اسی دوران پیر زادہ نور الحق قادری صاحب مسجد میں نماز پڑھنے آئے ۔ نماز کا وقت ہوا تو مولانا احمد الرحمان صاحب نے پیر زادہ نور الحق قادری صاحب کو ہاتھوں سے پکڑ کر نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دیا اور نماز کے بعد نور الحق قادری صاحب نے مولانا احمد الرحمان صاحب سے کہا کہ آپ دُعا کروائیں تو مولانا احمد الرحمان صاحب نے قادری صاحب سے کہا کہ دُعا بھی آپ ہی کروائیں ۔

تو میرے پیارے دوستو ، بھائیو ، بزرگو ، بات یہ ہے کہ ساری بات یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں بلکہ ایک دوسرے کو قبول کریں ۔ ایک دوسرے سے محبت کریں ۔ ایک دوسرے کا احترام کریں۔

ہم اکثر فرقہ وارانہ نفرتوں کی خبریں تو شئیر کرتے ہیں . لسانی اور علاقائی مخالفتوں کی خبریں بھی چسکے لگا کر شئیر کرتے ہیں لیکن ہم باہمی احترام ، رواداری اور محبت کی خبریں شئیر نہیں کرتے کیونکہ ہمیں ایسی خبریں مزا ہی نہیں دیتیں ۔

نوٹ : لکھ تو میں مزید بھی سکتا ہوں لیکن فی الحال ایک مثل مشہور ہے کہ تھوڑے کو بہت سمجھنا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے