وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین سے وومن جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی ملاقات

وومن جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات 2022 ای وی ایم پہ کرائے کا مطالبہ کر دیا۔ ہر سال انتخابات پہ صحافی برادری شفافیت کو چیلنج کرتی ہے اس سے ادارے کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ سابق جوائنٹ سیکریٹری نیشنل پریس کلب کے امیدواران اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کروائیں اور ٹیکس فائیلر اور نان فائلر ڈیکلیئر کریں ۔

سابق جوائنٹ سیکرٹری نیشنل پریس کلب اور کنوینئر وویمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان نے حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس سال نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے ذریعے کرائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ بات پاکستان ویمن جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی سربراہ اور این پی سی کی سابق جوائنٹ سیکرٹری فوزیہ کلثوم رانا نے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری سے پانچ رکنی وڈیو جرنلسٹ کے وفد کے ہمراہ ملاقات میں کی۔ انہوں نے کہا کہ صحافی جو معاشرے کا سب سے زیادہ باشعور طبقہ ہیں وہ بھی نیشنل پریس کلب سمیت اپنی مختلف یونینوں کے انتخابات کی شفافیت اور آزادی پر ہر سال اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

اس موقع پہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو باور کرایا گیا کہ خبروں اور حالات حاضرہ میں کام کرنے والے الیکٹرانک میڈیا کے فوٹو اور ویڈیو صحافی اور پروڈیوسرز کو پوری دنیا میں صحافی قرار دیا جاتا ہے۔ جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت فوری ترمیم کے زریعے ان صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے بل 2021 میں ہنگامی بنیادوں پر ترمیم کرکے انہیں صحافیوں کے زمرے میں دوبارہ شامل کررہی ہے ۔ فوزیہ رانا نے کہا کہ یہ الیکٹرانک میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور صحافت کا بہت زیادہ انحصار ڈیجیٹل آلات پر ہے اس لیے مستقبل ڈیجیٹل صحافت ہی کا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کے لیے اپنے اثاثوں کا اعلان اور ٹیکس گوشوارے جمع کروانا لازمی قرار دیا جائے۔ فوزیہ رانا نے کہا کہ ان با اثر سیاسی لیڈران کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے جو صحافیوں کو اپنے سیاسی ایجنڈا کے لیے استعمال کررہے ہیں اور دوسری جانب ان کی عزت نفس کو مجروح کرے ہیں جیسا کہ مریم نواز اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کی مبینہ آڈیو لیکس قابل مذمت ہیں جس سے ورکنگ صحافیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈبلیو جے اے کے سربراہ نے مزید کہا کہ اگر مریم نواز اپنی ریاست مخالف بیان بازی پر عمل کرنے کی نیت سے پاکستانی میڈیا کو مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل کی طرز پر چلانا چاہتی ہیں تو اب یہ ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو صحافت کو دبانےاور اس کی آزادی پر حملہ کرنے کے منتر الاپ رہے ہیں وہ خود پریس اور میڈیا کا گلا گھونٹنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں، مفادات کے حامل اس گروہ جو بدعنوانی اور بلیک میلنگ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے NPC کے اعلیٰ عہدوں پر قابض ہیں کی اجارہ داری کے خاتمے اور حساب کا وقت آ گیا ہے۔اس موقع پہ سید شاہین گردیزی سابقہ صدر ویڈیو جرنلسٹس ایسوسی ایشن،محمد جمیل اعوان فنانس سیکٹیری ویڈیو جرنلسٹس ایسوسی ایشن فیصل مسعود خان ،سنئیر نائیب صدر ،عبدالرافع سنئیر ممبر،خالد شاہ سنئیر ممبر ،گل خان سنئیر ممبر اور ماجد خان سنئیر ممبر بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی وزیر اطلاعات کو بریف کیا کہ کن کٹھن حالات میں کیمرہ مین اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے صحت کارڈ کی سہولیات سمیت نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم میں بھی ترجیحی بنیادوں پہ شامل کیا جائے، وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ترامیم کی یقینی دہانی کرائی اور صحت کارڈ سہولت دینے کی بھی ہامی بھری۔

فوزیہ کلثوم رانا نے کہا کہ فوٹو جرنلسٹس، وڈیو جرنلسٹ، اور شعبہ نیوز اور کرنٹ آفئیرز کے پرڈیوسرز میڈیا میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں کوئی بھی گروہ ان کی حقوق غصب نہیں کر سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے