گلگت بلتستان میں بھی کورونا اور اس سے منسلک افواہوں کے وار

26فروری 2019 کو پاکستان میں سامنے آنے والے کرونا کے پہلے مریض کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔ کرونا وباء کے مرکزی ملک چین کا ہمسایہ ہونے، دیگر ممالک سے واپس آنے والے افراد کی بڑی تعداد اور ملک سے کٹا ہوا علاقہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان میں کرونا کا خوف بہت زیادہ رہا۔ ابتدائی مشکلات کے باوجود اب تک اس گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں 2 لاکھ سے زائد کرونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں جو کہ مجموعی آبادی کا 10 فیصد سے زیادہ بنتا ہے، مذکورہ 2 لاکھ میں 15 ہزار سے زائد وہ لوگ بھی شامل تھے جو سیاحت کے غرض سے ان علاقوں کا رخ کررہے تھے جبکہ 50 ہزار سے زائد ٹیسٹ تعلیمی اداروں میں کئے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں کرونا کے 187 شکار ایسے تھے جو صحتیاب نہیں ہوسکے اور لقمہ اجل بن گئے۔ کرونا کے آغاز سے اب تک 10 ہزار سے زائد افراد کرونا وباء کا شکار ہوگئے جن میں 300 سے زائد سیاح جبکہ 1 ہزار سے زائد تعلیمی اداروں سے حاصل کئے گئے نمونے شامل تھے۔

کرونا وباء سے بچنے کےلئے جب ویکسین کا آغاز ہوا تو یہ علاقہ بھی شکوک وشبہات میں گھرا رہا جن کے باعث کئی لوگوں نے کرونا ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ محسوس کی یا انکار کردیا۔ لیکن کرونا کے بے رحم وار دیکھنے یا خود اس میں مبتلا ہونے کے بعد کرونا کی ویکسین لگوائی۔

مبشر حسین گلگت جوٹیال کے رہائشی ہیں۔ گزشتہ 10سالوں سے وہ فارما کے شعبے سے منسلک ہیں۔ فارما کے شعبے سے مسنلک ہونے کی بنیاد پر انہیں بیماریوں اور ادویات کی سمجھ بوجھ اچھی ہے ۔ کرونا وائرس کی وباءاور ویکسین دریافت ہونے کے دوران بھی مبشر حسین معمول کے مطابق اپنی زمہ داریاں سرانجام دیتا رہا، تاہم کرونا ویکسین کے متعلق افواہوں کا اثر اس قدر زیادہ تھا کہ فارما کے شعبے سے منسلک ہونے کے باوجود مبشر حسین ان افواہوں کی زد میں آگیا۔ مبشر حسین کہتے ہیں کہ بعض افواہوں کا خود سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور اپنے دوستوں کو سمجھانے کی بھی کوشش کی تاہم وہ کہتے ہیں کہ افواہوں کی ایک بوچھاڑ شروع ہوگئی کہ اچھی صحت کے حامل لوگ بھی کرونا ویکسین لگوانے کے بعد مرجاتے ہیں، خصوصی طور پر یہ افواہ کہ کرونا ویکسین لگوانے والا شخص دو سال کے اندر اندر مر جاتا ہے، اس افواہ کے بعد غیر ارادی طور پر زہن میں خوف کا ایک عنصر بیٹھ گیا اور لوگوں کے افواہوں کے درمیان خود کو ویکسین لگوانے کی ہمت نہیں ہوئی ۔

مبشر حسین انہی دنوں میں ایک شادی کی تقریب میں گئے جہاں سے واپسی پر انہیں بخار کی شکایت محسوس ہوگئی جسے اس نے معمولی سمجھ لیا تاہم اس کا اثر کچھ دنوں تک جاری رہا جس کے بعد ہسپتال کا رخ کیاجہاں پر انہیں کرونا ٹیسٹ تجویز کی گئی جو کہ مثبت نکلا۔ مبشر حسین کہتے ہیں کہ کرونا کے بارے میں صرف سنا تھا اور افواہوں کی وجہ سے بے اعتبار ہوا تھا لیکن جب خود کرونا کا شکار ہوگیا تو اندازہ ہوا کہ یہ کتنی خطرناک بیماری ہے۔ گھر کے اندر ہی دو چار قدم چلنے کے بعد سانس کی تکلیف شروع ہوتی تھی، زائقہ اور بو کی حس مکمل ختم ہوچکی تھی جسم میں چلنے کی طاقت باقی نہیں رہی تھی جس کی وجہ سے کئی دنوں تک گھر میں ہی تنہائی اختیار کرلی اور بستر پر پڑا رہا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اگر افواہوں پر یقین کرنے کی بجائے میں بروقت کرونا کی ویکسین لگواتا تو شاید میں اس خطرناک بیماری سے بچ سکتا تھا۔

مبشر حسین نے کرونا سے بگڑی صحت بحال ہونے کے بعد فوری طور پر کرونا ویکسین لگوانے کے لئے خود کو رجسٹرڈ کروایا اور ہسپتال میں جاکر ویکسین لگوایا۔ ان کا کہنا ہے کہ افواہوں پر یقین رکھنے کی وجہ سے بے احتیاطی بھی ہوگئی اور کرونا ویکسین پر پہلے یقین بھی نہیں آیا۔ تاہم جب کرونا کا خود شکار ہوا تو ایسی ازیت ناک صورتحال سے گزرا جس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں ہے۔ اگر آج بھی کوئی فرد کرونا یا ویکسین کے متعلق افواہوں پر یقین رکھتے ہوئے ان چیزوں کو جھوٹ اور کوئی سازش سمجھتا ہے تو یہ خام خیالی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کرونا وائرس بہت خطرناک بیماری ہے اور اس سے بچنے کے لئے یا اس کا اثر کم سے کم کرنے کے لئے ویکسین لگوانا ناگزیر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے