جمعہ : 11 مارچ 2022 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]روس کی جانب سے مغربی یوکرینی علاقوں پر حملے[/pullquote]

روس نے یوکرین میں اپنی فوجی مداخلت کو وسعت دیتے ہوئے اب مغربی یوکرینی علاقوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق روس کی جانب سے یوکرینی کے مغرب میں متعدد ہوائی اڈوں کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی حملوں میں یہ تیزی ایک ایسے موقع پر سامنے آ رہی ہے جب ماریوپول شہر میں ایک میٹرنٹی ہسپتال پر فضائی حملے میں متعدد خواتین اور بچے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق روس اپنے حملوں میں تیزی کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ یوکرین کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں ہے۔

[pullquote]یوکرینی تنازعے کے فریق تحمل کا مظاہرہ کریں، چینی وزیراعظم[/pullquote]

چینی وزیراعظم لی کیچیانگ نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یوکرینی تنازعے کے فریق برداشت کا مظاہرہ کریں تاکہ یہ بحران ایک انسانی المیہ نہ بن جائے۔ گو چینی وزیراعظم نے اس صورت حال کو ’’انتہائی پریشان کن‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے روس پر تنقید سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین امید کرتا ہے کہ صورت حال دوبارہ امن کی جانب لوٹ جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے مدد اور حمایت فراہم کرنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ لی کیچیانگ نے تاہم روس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی اقتصادی بحالی کا عمل متاثر ہو گا۔

[pullquote]امریکی اتحادی روس کا ’پسندیدہ ترین ملک‘ کا درجہ ختم کر دیں گے[/pullquote]

امریکی صدر جوبائیڈن آج جمعے کے روز یورپی یونین اور جی سیون ممالک کے ہم راہ روس کو تجارت کے لیے دیے گئے ’’پسندیدہ ترین ملک‘‘ کا درجہ ختم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ روس پر دباؤ مزید بڑھایا جائے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر نے روسی تیل کی درآمدات پر پابندیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جوبائیڈن آج روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ دوسری جانب یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اب مزید روسی جوہری ایندھن نہیں خریدے گا۔

[pullquote]ایرانی جوہری مذاکرات میں وقفہ درکار ہے، یورپی یونین[/pullquote]

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیف بوریل نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات میں وقفہ درکار ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے میں تاخیر کی ذمہ داری ’بیرونی قوتوں‘ پر عائد کی۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں بوریل نے لکھا کہ وہ اور ان کی ٹیم امریکا اور دیگر شریک ممالک کے ساتھ رابطے میں رہیں گے تاکہ موجود مشکلات کو حل کیا جائے اور معاہدہ طے پائے۔ یہ بات اہم ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سن 2015 میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے نکلتے ہوئے ایران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ موجودہ صدر جوبائیڈن اس جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔

[pullquote]شمالی کوریا نے سیٹیلائیٹ سائٹ کی توسیع کا اعلان کر دیا، امریکا کی جانب سے مذمت[/pullquote]

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ملک کی ایک اہم سیٹیلائٹ سائٹ میں توسیع کا اعلان کیا ہے، جب کہ امریکا کی جانب سے اسے بین البراعظمی میزائلوں کے تجربے کی نئی کوشش قرار دیتے ہوئے مزید پابندیوں کی دھمکی دی گئی ہے۔ شمالی کوریا کے مطابق 27 فروری اور پانچ مارچ کو کیے گئے تجربات سیٹیلائٹ خلا میں چھوڑنے کے حوالے سے تھے۔ تاہم پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ شمالی کوریا کے نئے بین البراعظمی میزائل نظام کی تیاری کا حصہ تھے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا کی جوہری تجربات کے مقامات پر سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

[pullquote]فلپائن کورونا وائرس کی نئی لہر سے نمٹنے کے لیے تیار رہے، عالمی ادارہ برائے صحت[/pullquote]

عالمی ادارہ صحت نے فلپائن کو متنبہ کیا ہے کہ اس کے ہاں کورونا وائرس کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔ فلپائن نے رواں ماہ کے آغاز پر کئی علاقوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے انسداد سے جڑی تمام تر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فلپائن میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز کی تعداد ایک ہزار سے کم ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں فلپائن کی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز پر کورونا وائرس سے متعلق ہنگامی سطح کو مزید کم کرنے کا اعلان کیا تھا اور یوں کاروباری اداروں کو مکمل طور پر کھول دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ فلپائن میں ابھی فیس ماسک اور سماجی فاصلے کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

[pullquote]قزاقستان کی دو اور ترکی کی ایک فضائی کمپنی نے روس کے لیے پروازیں معطل کر دیں[/pullquote]

قزاقستان کی قومی ایئرلائن ایئرآستانہ اور ترک بجٹ ایئرلائن پیگاسس نے روس کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ماسکو پر عائد عالمی پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ان فضائی کمپنیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ روس کے لیے پرواز کرنے والے طیاروں کی سلامتی سے جڑی غیریقینی کی صورتحال ہے۔ ایئرآستانہ کا کہنا ہے کہ وہ روس کے لیے پروازیں جلد از جلد بحال کرے گی جبکہ پیگاسس کے بیان کے مطابق فی الحال یہ پروازیں 13 مارچ سے 27 مارچ تک معطل رہیں گی۔

[pullquote]یوکرین میں امریکی لیبارٹریوں کی موجودگی کا روسی دعویٰ، سلامتی کونسل میں سماعت[/pullquote]

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج ان دعووں پر سماعت کر رہی ہے، جن میں ماسکو حکومت نے کہا تھا کہ اسے یوکرین میں ’’امریکی حیاتیاتی ہتھیاروں سے جڑی سرگرمیوں‘‘ کے نشانات ملے ہیں۔ امریکا نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین کے خلاف حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے میدان تیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکا روس کو سلامتی کونسل کے ذریعے جھوٹ کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ روس یوکرین میں غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے جواز پیدا کر رہا ہے۔

[pullquote]ملائشیا کی ہتھیاروں کی نمائش میں یوکرین، بیلاروس اور روس شریک نہیں ہوں گے[/pullquote]

روسی، یوکرینی اور بیلاروسی ہتھیار ساز کمپنیاں رواں ماہ ملائشیا میں منعقدہ ڈیفنس سروسز ایشیا نامی ہتھیاروں کی نمائش میں شریک نہیں ہوں گی۔ جمعے کے روز اس نمائش کے منتظمین کی جانب سے ان تین ممالک کی کمپنیوں کی عدم شرکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ملائشیا کی حکومت کی میزبانی میں منعقدہ اس ایونٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ناظم عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے روس اور بیلاروس پر عائد سخت ترین پابندیوں کے بعد ان ممالک کی کمپنیوں کے لیے اس نمائش میں شرکت آسان نہیں رہی تھی۔

[pullquote]راولپنڈی پچ باقاعدہ طور ہر ’اوسط سے کم تر‘ قرار دے دی گئی[/pullquote]

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم پچ کو میچ ریفری نے باقاعدہ طور پر ’اوسط سے کم تر‘ قرار دے دیا ہے اور پاکستان کو ڈی میرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔ اسی پچ پر پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ برابری کی بنیاد پر ختم ہوا تھا۔ پہلے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر صرف 14 وکٹیں گریں تھیں جب کہ 1187 رنز بنے تھے۔ میچ ریفری رنجن مدھوگالے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پانچ روز تک کھیل کے باوجود اس پچ میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئی سی سی کے ضوابط کے تحت اس پچ کو ’اوسط سے کم تر‘ قرار دے رہے ہیں۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے