اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے صدر اور متحدہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف نے قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔
گزشتہ روز ایوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف پیش کی تحریک تحریک عدم اعتماد 174 ووٹوں سے کامیاب ہوئی تھی اور اسمبلی قوانین کے مطابق برطرف وزیراعظم کی جگہ نئے قائد ایوان کا تقرر فوری طور پر کیا جانا ضروری ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نئے قائد ایوان کے لیے تقرر کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز 2 بجے طلب کر رکھا ہے اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف ہیں۔
شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی شاہد خاقان عباسی، نوید قمر، خورشید شاہ، محسن داوڑ، ایاز صادق، سعد رفیق اور خواجہ آصف نے جمع کرائے جبکہ شہباز شریف خود بھی دیگر ارکان کے ساتھ سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس پہنچ گئے۔
ہر سیاسی جماعت نے شہباز شریف کے بطور قائد ایوان کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے سید نوید قمر اور خورشید شاہ نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ ن لیگ کی جانب سے ایاز صادق، سعد رفیق اور خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔
ادھر پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر اور ملیکہ بخاری نے بھی وزارت عظمیٰ کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے ہیں۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کاغذاتی نامزدگی جمع کرانے کا وقت دوپہر2 بجے کے بجائے سہہ پہر 4 بجے کر دیا ہے جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال شام 4:30 بجے کی جائے گی۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی میدان کھلا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور نئے قائد ایوان کے لئے سابق وزیرخارجہ اور پی ٹی آئی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ عامر ڈوگراورعلی محمد خان ہیں۔ جب کہ شاہ محمود قریشی کی جانب 4 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔
[pullquote]نئے قائد ایوان کا انتخاب کل ہوگا[/pullquote]
واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اعلان کیا تھا کہ نئے وزیر اعظم کا انتخاب کل (بروز پیر) ہوگا، انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی دوپہر 2 بجے تک جمع کرائی جاسکتی ہے، اور ان کے مطابق وزارت عظمیٰ کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی 3 بجے تک مکمل کی جائے گی اور نئے وزیر اعظم کا انتخاب مورخہ 11 اپریل بروز پیر ہوگا، جب کہ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔