سیاسی انتہاپسندی

وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار بھٹو نے 70 کی دہائی میں سیاست کو ڈرائنگ روم سے عام آدمی تک رسائی بخشی. ذوالفقار بھٹو کی کرشماتی شخصیت اور عوام رومانس سے عام آدمی متاثر ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا بن گیا.

ذوالفقار بھٹو کے بعد ملکی سیاست میں نواز شریف عوامی مقبولیت پانے والے سیاستدان کے طور پر منظرعام پر آئے. 90 کی دہائی میں نواز شریف اور قائد عوام ذوالفقار بھٹو کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو سیاست میں ایک دوسرے کے بدترین مخالف رہے.

اس سیاسی مخالفت میں مسلم لیگ ن کی طرف سے بینظیر بھٹو کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کر کے محترمہ کی کردار کشی کی گئی. وطن عزیز پاکستان کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے بعد تحریک انصاف تیسری بڑی عوامی مقبولیت رکھنے والی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی.

عمران خان سے والہانہ جذباتی لگاو رکھنے والے تحریک انصاف کے کارکنان عمران خان کے جنون میں اتنے دیوانے ہو چکے ہیں کہ انہیں عمران خان کے علاوہ کسی کی بات سننی ہی نہیں ہے مطلب کہ اپنے قائد عمران خان کی طرح وہ بھی عقل کل ہیں اور ان سے اختلاف رائے رکھنے والوں کی نفرت اور گالی کی ذبان سے خاطر تواضع کی جاتی ہے.

وطن عزیز کی یہ بدقسمتی سمجھیئے کہ پاکستانی بالخصوص نسل نو مذہب میں انتہاپسندی کے بعد اب سیاسی انتہاپسندی کی جانب گامزن ہے. ملک میں اس موجودہ سیاسی انتہاپسندی کی زمہ دار وطن عزیز کی 2 سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف ہیں.

ملک میں جو آج سیاسی انتہا پسندی اور نفرت کی فضا عروج پر ہے اس کا آغاز ن لیگ نے جبکہ انتہا تک پی ٹی آئی لے کر آئی.

ابھی یہ حالت ہے کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی سے وابستگی رکھنے والی جزباتی کارکن نفرت , بدتہذیبی و بداخلاقی میں ایک دوسرے سے آگے ہیں. ملکی سیاست میں جس طرح سے نفرت , بدتہذیبی و بداخلاقی سے جو آج ان دو مذکورہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے جذباتی اور بھولے بھالے کارکنوں کی تربیت فرما رہے ہیں اس کا خمیازہ وطن عزیز کی ریاست پاکستان کو ہی بھگتنا ہوگا.

ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے قائدین سے سیاسی وابستگی کے حوالے سے اتنے جذباتی ہیں کہ قائدین کی ہر غلط صحیح بات کا نفرت اور گالیوں سے بھرپور دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں. دوران بحث و مباحثہ اور سوشل میڈیا پر نفرت و گالی کی سیاست عروج پر ہے.

ملک کے مفاد کے لیئے ضروری ہے کہ اب سنجیدگی سے ن لیگ اور پی ٹی آئی کی قیادت پر یہ بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت میں برداشت کو فروغ دیکر نفرت و گالی کی سیاست کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ وطن عزیز کی سیاست میں روادری اور برداشت پیدا ہو.

مارشل لاء کو سپورٹ کرکے دیکھ لیا تبدیلی نہیں آئی , بھٹو کو سپورٹ کر کے دیکھ لیا تبدیلی نہیں آئی , نواز شریف کو سپورٹ کرکے دیکھ لیا تبدیلی نہیں آئی , عمران خان کو سپورٹ کرکے دیکھ لیا تبدیلی نہیں آئی .

ایک دوسرے کو یوتھیا , پٹواری کہہ کر جنگ لڑنے سے تبدیلی نہیں آئی . آئیں اب ذرا اپنے اخلاق کو ٹھیک کر کے دیکھ لیں شائد تبدیلی آجائے. ایک دوسرے کو عزت دیکر دیکھ لیں شائد تبدیلی آجائے.

دوسروں کو برا ثابت کرنے کی بجائے اپنے اندر کی برائی ختم کرکے دیکھ لیں شائد تبدیلی آ جائے. آئیں پہلے خود کو تبدیل کریں پھر تبدیلی کی آس لگائیں اپنے حصے کی شمع جلائیں یہی مواخات یہی حقیقی تبدیلی ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے