ڈاؤن سائزنگ

پچھلے دنوں ایک فلم دیکھی ،نام تھا Downsizing۔ اس فلم کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ ناروے کا ایک سائنس دان دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی پر بہت پریشان ہے چناں چہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے وہ ایک انوکھا تجربہ کرتا ہے جس میں انسان کو چھوٹا کرکے پانچ چھ انچ کا بنایا جاسکتا ہے، پہلے مرحلے میں یہ تجربہ 35 انسانوں پر کیاجاتا ہے جن میں خود سائنس دان بھی شامل ہے، یہ لوگ تین سال تک ایک جگہ رہتے ہیں، پھر اس تجربے کے نتائج دنیا کے سامنے رکھے جاتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ان لوگوں کی اپنے حجم کی ’’قربانی ‘‘ کی وجہ سے زمین کے وسائل میں کس قدر بچت ہوئی ہے۔ دس برس گزر جاتے ہیں اب انسانوں کو چھوٹا کرنے کی باقاعدہ ایک صنعت وجود میں آگئی ہے ان کے لئے علیحدہ شہر بنا دیئے گئے ہیں جہاں ان بالشت برابر انسانوں کے لئے محلات ہیں، ایکڑوں پر پھیلے ہوئے فارم ہائوسز ہیں اور ایک پرتعیش طرز زندگی ہے جو بطور نارمل انسان ان کی دسترس سے ہمیشہ باہر رہتا۔ اشتہاری کمپنیاں لوگوں کو راغب کرتی ہیں کہ وہ اگر سکڑ جائیں تو یکدم ان کا لائف اسٹائل کروڑ پتیوں والا ہو جائے گا جو شاید عام زندگی میں وہ کبھی حاصل نہ کر پائیں۔ انہی باتوں سے متاثر ہو کر ایک میاں بیوی سکڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اپنے تمام اثاثے بیچ کر وہ اسپتال پہنچتے ہیں جہاں پانچ گھنٹے کے تجربے کے بعد انہیں سکیڑ کر چھ انچ چھوٹا کردیا جائے گا، تجربے کے بعد جب خاوند کو ہوش آتا ہے تو غریب کو پتا چلتا ہے کہ اس کی بیوی نے عین وقت پر اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا تھا۔ اب شوہر چھ انچ کا رہ گیا ہے اور بیوی نارمل قد کی ہے اور اسے چھوڑ کر جا چکی ہے۔ اپنےاچھوتے پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم مجھے بہت پسند آئی ۔ گوکہ آگے چل کر کہانی ذرا سی بور ہو جاتی ہے مگر مجموعی طور پر فلم دیکھنے کے قابل ہے۔

فلم دیکھنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہالی وڈ والے اگر یہ فلم پاکستان میں بناتے تو انہیں زیادہ تردد نہ کرنا پڑتا۔ چپے چپے پر یہاں بالشتیے بیٹھے ہیں، چھوٹے بجٹ میں یہ فلم آسانی سے بن جاتی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بالشت برابر ذہن کے یہ انسان نہ صرف بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں بلکہ ملک کی تقدیر کے فیصلے بھی کرتے ہیں، کوئی بالشتیاگریڈ بائیس میں پہنچ چکا ہے تو کوئی ٹی وی اسکرین پر بیٹھا چنگھاڑ رہا ہے، کوئی لکھاری بنا بیٹھا ہے تو کوئی تجزیہ کار۔ ایسے ہی ایک ذہنی بالشتیے سے میری پرسوں ملاقات ہوئی، مجھے دیکھتے ہی دور سے پکارا اور دوڑتے ہوئے آ کر خواہ مخواہ جپھی ڈال لی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا خود ہی بات شروع کردی کہ میں آج کل ایک بالکل مختلف موضوع پر ایسا ڈرامہ لکھ رہا ہوں جو تہلکہ مچا دے گا، سڑکیں سنسان ہو جایا کریں گی، بازار بند ہو جائیں گے۔ میں نے پوچھا کہ اس میں ایسا کیا ہوگا، فرمایا، بیوی سے غیر مرد کا عشق۔ میںنے کہا قبلہ یہ تو پانچ ہزار سال پرانا موضوع ہے اس میں نیا کیا ہے، کہنے لگے لڑکی نئی ہے۔ اور پھر اس بات پر خوفناک قہقہہ لگایا جو کئی سیکنڈ جاری رہا، بالآخر موصوف خود ہی اپنی آواز سے سہم کر چپ ہوگئے۔

میرا اٹھنا بیٹھنا چوں کہ اسی قسم کے بالشتیوں میں ہے اس لئے مجھے ان کی باتوں پر ذرا بھی حیرت نہیں ہوتی، یہ بالشتیے دیکھنے میں بالکل عام انسانوں کی طرح لگتے ہیں مگر اصل میں ان کے ذہن سکڑ چکے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں اپنی اس Downsizingکا بالکل علم نہیں۔ مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ ان بالشتیوں کی ذہنی اوقات کیا ہے اور انہیں اپنے بارے میں غلط فہمی کیوں کر ہے، دُکھ مجھے اس بات کا ہے کہ ہم لوگ ان ذہنی بالشتیوں کو پہچان ہی نہیں پاتے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم ان کے ظاہری قد کاٹھ اور کروفر سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بالشتیے بڑی بڑی بارعب کرسیوں پر بیٹھ کر حکم چلاتے ہیں۔ کچھ رعونت بھرے انداز میں فائلوں پر دستخط کرتے ہیں اور کچھ ٹی وی پر پکا سا منہ بنا کر سیاسی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ سچ مچ اتنے ہی دانشمند ہیں جتنے شکل سے نظر آتے ہیں مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے، ان سب کی ڈائون سائزنگ ہو چکی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ڈائون سائزنگ جسمانی نہیں ذہنی ہے اسی لئے ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ صرف حکمران طبقہ ہی نہیں بلکہ ہم سب ہی ڈائون سائز ہو چکے ہیں اسی لئے اپنی تقدیر کے فیصلے ہم نے ذہنی بالشتیوں کے ہاتھوں میں دے رکھے ہیں۔ جیسی روح ویسے فرشتے۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے