کھانا نہیں تو کچھ بھی نہیں

ہماری قوم کھانے پینے کی بہت شوقین ہے، ہم لوگ صبح سے کھانا شروع کرتے ہیں اور رات گئے تک کھاتے چلے جاتے ہیں۔ خصوصاً پنجاب میں تو یہ رواج بہت عام ہے۔ آگے پنجاب میں بھی تین شہر ایسے ہیں جہاں لوگوں نے کھانے میں سپیشلائز کیا ہوا ہے اور یہ شہر لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد ہیں۔ ان شہروں میں صبح کے وقت سری پائے، حلوہ پوری، ہریسہ،لسی کی دکانوں کے گرد خلق خدا یوں جمع ہوتی ہے جیسے لنگر تقسیم ہو رہا ہے۔ دوپہر کو نان چنے کی دکانیں کھڑکی توڑرش لے رہی ہوتی ہیں۔ سہ پہر کو فالودہ، کچوریاں اور تخم ملنگا کے شربت کی شامت آ جاتی ہے۔ رات کو کڑاہی گوشت، تکوں، چرغوں، کبابوں اور چینی کھانوں کی کم بختی آتی ہے۔ پان سگریٹ اور مشروبات کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں۔ ہمارے ہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد خوش خوراک ہی نہیں بسیار خور بھی واقع ہوئی ہے چنانچہ لاہور کے جن ریستورانوں میں ’’پر ہیڈ سسٹم‘‘ شروع کیا گیا تھا ان میں سے کچھ بہت جلد بند ہوگئے اور یہ اسی ٹائپ کے بسیار خوروں کی وجہ سے بند کئے گئے جو عموماً کسی شادی کی دعوت میں شرطیں لگاکر کھاتے ہیں جس کے نتیجے میں تین چار دیگیں کم پڑ جاتی ہیں۔ میں ایک ایسے صاحب کو بھی جانتا ہوں جو اپنے دو آبائی مکان بیچ کر اس رقم سے سری پائے کھاگئے۔ شادی کی مہذب سے مہذب دعوت میں اعلیٰ ترین طبقوں کے لوگ بھی کھانے کے اعلان کو اعلان جنگ سمجھ کر کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور چنگیز خان کی طرح پلیٹوں میں کھوپڑیوں کے مینار بنا دیتے ہیں۔ ان دنوں ہر موقع پر ویڈیو فلم بنانے کا رواج عام ہوگیا ہے حتیٰ کہ دولہا دلہن کے حجلہ عروسی میں داخل ہونے تک کی فلم تیار کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں ہم لوگوں کےحوصلے تو اس سے بھی زیادہ ہیں مگر بزرگ آڑے آ جاتے ہیں تاہم اس ویڈیو فلم کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ حلق میں اٹکے ہوئے لقموں سے پھولے ہوئے گال اور ماتھے پر آیا ہوا پسینہ تک فلم کے فیتے پر منتقل ہو جاتا ہے اور یوں آنے والی نسلوں کے لئے قوموں کے عروج و زوال کے مسئلے کی تفہیم آسان ہو جاتی ہے۔

کھانے پینے کے معاملے میں ہم لوگ خوش خور یا بسیار خور ہی نہیں بڑے صلح کل بھی واقع ہوئے ہیں چنانچہ اور تو اور میں نے بعض علما کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے لیکن مل کر کھاتے ہیں۔ میں ایسے کئی صحافیوں کو جانتا ہوں جو صرف دستر خوان پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ دائیں اور بائیں بازو والوں کو دیکھا ہے کہ جب کھانے کا وقت آتا ہے دونوں اپنے اپنے طریقوں سے کھاتے ہیں ایک دائیں ہاتھ سے لقمہ اٹھاتا ہے اور دوسرا بائیں ہاتھ سے۔ دراصل نظریاتی لڑائیاں نظریات کے خلاف ہوتی ہیں پیٹ کے خلاف تو نہیں ہوتیں۔ جن علما اور صحافیوں کا میں ذکر کررہا ہوں آپ کبھی ان کے پیٹ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھیں کسی کا پیٹ اگر کم ظرف ہے تو وہ سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیرکا، کے مصداق آپے سے باہر ہوتا نظر آ تا ہے، جس کھانے والے کا پیٹ اعلیٰ ظرف ہے وہ اپنےآپ کو انکم ٹیکس کی طرح چھپانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ایک غریب آدمی اس مہنگائی کے دور میں بچت کیسے کرسکتا ہے وہ تو اگر اس دور میں اپنی عزت بچا لے تو یہ بھی بڑی بات ہے ۔تاہم کھانے والوں کا یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے ملک میں غربت اور مہنگائی کے فروغ کے ضمن میں بہت اہم خدمات انجام دی ہیں اور اس کا محرک پیٹ ہے۔

تھانیداروں کے پیٹ تو ان کے سامنے طفل مکتب ہیں ،کھانے پینے کے سلسلے میں ایک اہم بات میں نے یہ بھی بتانی ہے کہ بروقت انتخاب کا مطالبہ جمہوری ہونے کے علاوہ کھانے کی منصفانہ تقسیم کی ذیل میں بھی آتا ہے۔یعنی یہ کام بذریعہ روٹین ہونا چاہیے ،بسا اوقات اس معاملے میں ڈنڈی بھی ماری جاتی ہے جس پر دوسرا فریق ڈنڈا اٹھا لیتا ہے، میرے خیال میں ایسا نہیں ہوناچاہئےکوئی حزب اختلاف میں ہو یا حزب اقتدار میں سب کو اپنی اپنی باری پر کھانا چاہیے۔ ایک بوڑھا شخص بیٹھا کھانا کھا رہا تھا اس کے ساتھ اس کی بیوی بیٹھی تھی مگر وہ کھانے کی بجائے اس کا منہ تک رہی تھی، ایک شخص نے بوڑھے سے کہا تمہیں شرم آنی چاہیے تم اپنی بیوی کے سامنے بیٹھ کر کھا رہے ہو اور تم نے اسے صلح تک نہیں ماری۔ بوڑھے نے کہا کہ معاملہ یہ ہے نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ ہم دونوں کے پاس صرف ایک بتیسی ہے اور میر ی بیوی میری بتیسی کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔ میرے خیال میں کھانے پینے کے ضمن میں باہمی تعاون کی یہ بہترین مثال ہے۔ چنانچہ اگر کبھی میرے ہاں الیکشن میں تاخیر ہو جائے تو دوسرے فریق کو بدگمانی سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ یہی سوچناچاہیے کہ بتیسی فارغ نہیں ہے۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے