موسمیاتی تغیرات کے مزدور طبقے پر اثرات

اس آرٹیکل میں کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تغیرات اور اس کے مزدوروں پر ممکنہ اثرات کا تجزیہ کیا جائے. جس کا مقصد مزدوروں کا موجودہ حالت کے بارے میں جاننا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں متبادل حل تلاش کرنا ہے۔ ہم نے کروناوائرس سے متعلق لاکڈاون میں دیکھا ہے کہ لیبر کمیونٹی مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے بہت متاثر ہوئے تھے. اب اگر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کام کا نہ ملنا یا مزدور کا گرمی کی شدت سے کام پر نہ جانا ایک مسلے کے طور پر اوبر سکتا ہے۔ جس طرح اس سال دیکھنے میں آیا کہ گرمی کی لہر کی وجہ سے کافی فصلوں کو نقصان پہنچ گیا اور پیداوار کی کمی کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے مواقع بھی کم ہوئے.

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ایک بندہ عموماً 15 سال سے محنت مزدوری شروع کرتا ہے اور 65 سال کی عمر تک مزدوری کرتا ہے. یہ عمر کا بہت بڑا رینج ہے. اندازے کے مطابق 140 میلئن تک لوگ اس عمر کے رینج میں ہیں. جبکہ 2050 تک یہ 200 میلئن تک پہنچ سکتے ہیں. جو کہ پاکستانی آبادی کا بیشتر حصہ ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے کے کی صورت میں پاکستان کا ایک بہت بڑے بحران سے مقابلہ ہوگا.

[pullquote]صحت کا مسئلہ[/pullquote]

مزدور کئی تکالیف سے گذرتے ہیں. جس میں صحت کا مسئلہ سب سے بڑا ہے. پاکستان کے حکومت نے حال ہی میں صحت کارڈ کے نام سے پورے پاکستان کیلئے ایک پروگرام شروع کیا ہے. جس کو وقت کے ساتھ ساتھ پزیرائی مل رہی ہے. اگر یہ پروگرام کامیاب رہا تو مزدور طبقے کو کسی حد تک راحت مل سکتی ہے.

[pullquote]بے روزگاری کا مسئلہ[/pullquote]

دوسرا مسئلہ بے روزگاری کا ہے. مزدور اور غریب خاندانوں کیلئے پاکستان میں اس وقت ایک سکیم چل رہا ہے. جس کے تحت سال میں چار دفعہ بارہ ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے دیئے جاتے ہیں. یہ امدادی رقم کروناوائرس کے وبا کے دوران بھی دیا گیا تھا, جو کہ بہت سارے محققین نے نا کافی قرار دیا تھا. اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ لیبر پالیسی میں کچھ ترامیم کرکے دن کے شروع میں اور اختمام پر کچھ ایسے گھنٹے مختص کریں. جب درجہ حرارت کم سے کم ہو اور جس میں مزدور کام کر سکے. یا یہ کہ گرمی کے موسم میں انڈور کام ہوں اور متعدل موسم میں آوٹ ڈور کام ہوں. یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گرمیوں میں آوٹ ڈور کام کا دورانیا مناسب طور پر کم کر دیں.

[pullquote]ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تغیرات[/pullquote]

بہرحال, وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. جس کی وجہ سے موسمیاتی تغیرات میں مزید شدت آرہی ہے. اس وقت ایک عام آدمی بھی موسمیاتی تبدیلی کے حقیقت سے انکاری نہیں ہے. اب سوال یہ ہے کہ اس کے زندگی پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس سے کیسے نمٹا جا سکے.

حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا میں موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے سالانہ 677 بیلئن گھنٹے ضائع ہوتے ہیں. جو کہ 2.1 ٹریلئن امریکی ڈالر کے مساوی ہیں. متاثرہ ممالک میں زیادہ تر ممالک ایشیاء اور افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں. اس میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک جنوب مشرقی ایشاء میں ہیں. جن میں انڈیا, پاکستان, بنگلہ دیش, اور چائنہ سر فہرست ہیں. متاثرہ مزدور میں وہ مزدور شامل ہیں جو کھلے فضا میں کام کرتے ہیں.

زیر نظر آرٹیکل میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ مزدور طبقے پر اس کے کیا اثرات ہیں اور اس ضمن میں حکومت وقت اور عام آدمی کے کون کونسے فرائض بنتے ہیں. تاکہ ہم مزدور طبقے کو بچا سکیں.

[pullquote]پس منظر [/pullquote]

حال ہی میں ایک سروے کے مطابق اس وقت شدید گرمی سے مزدوروں کو نقصانات کا سب سے زیادہ بوجھ جنوب مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے ممالک پر پڑتا ہے۔ قطر اور بحرین فی کارکن سب سے زیادہ گھنٹے کھو دیتے ہیں، اور ہندوستان، اپنی بڑی آبادی کے ساتھ، ہر سال کام کے کل اوقات کی سب سے زیادہ تعداد کھو دیتا ہے۔ مستقبل میں گرمی بڑھنے سے بھارت، چین، پاکستان اور انڈونیشیا سب سے زیادہ معاشی نقصان اٹھائیں گے۔

موجودہ حالات میں، دن کے 3 گرم ترین گھنٹوں کے دوران شدید گرمی کی وجہ سے ہونے والے عالمی مزدوروں کے تقریباً 30 فیصد نقصان ہوتا ہے. پارسنز نامی محقق کا کہنا ہے کہ "جیسے جیسے زمین گرم ہوتی جارہی ہے، دن کے ٹھنڈے گھنٹے بھی گرم ہوتے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مزدور طبقے کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے. پارسنز کہتے ہیں۔ اضافی 4 ڈگری سینٹی گریڈ کے گرمی کے ساتھ، دنیا کے سطح پر اوسطاً 22% مزدورں کے نقصان ہو سکتا ہے. جو کم کرنا پڑے گا. اس کیلئے ایک ممکن حل یہ ہے کہ کام کیلئے دن کے ٹھنڈے گھنٹوں کا انتخاب کیا جائے تاکہ مزدور کی مزدوری بچائی جائے. لیکن ضروری نہیں کہ یہ حکمت عملی ہر قسم کے کام کیلئے موثر ہو.

معاشی نقصانات کے علاوہ، شدید گرمی مزدوروں کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے اور جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔ اور کام کے اوقات میں تبدیلی کے اپنے منفی اثرات ہوں گے: مثال کے طور پر، کام کے اوقات میں تبدیلی نیند کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے بعد کارکنوں کو کام پر چوٹ لگنے کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ گرمی میں اضافہ اور اس پیداواری صلاحیت میں کمی کی وجہ سے مزدوروں, معیشت کی صحت اور بہبود پر پھر منفی اثرات مرتب ہوں گے.

پاکستان کی آبادی اور مزدوروں کا تناسب سے متعلق ورلڈ بنک نے 2021 میں ایک سروے کی تھی. جس کے مطابق پاکستان میں تقریباً 73.78 میلئن لوگ مزدور ہیں. یہ تعداد 2010 میں 55 میلئن تھی. گویا پچھلے 11 سال میں 23.38 میلئن کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے. اس حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر سال اوسطاً دو میلئن مزدوروں کا اضافہ ہوتا ہے. سب سے زیادہ مزدور زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں. 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں زراعت سے منسلک مزدوروں کی شرح کل آبادی کا 39 فیصد ہے. زراعت پاکستان کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کہ اس کا ملکی آمدنی کا 18.5 فیصد حصہ زراعت سے آتا ہے.

حالیہ سروے کے مطابق زراعت سے وابستہ مزدوروں کے فیصد تناسب میں بہت کمی دیکھی جا سکتی ہے. 1991 میں 45 فیصد مزدور زراعت سے وابستہ تھے. جو کہ کم ہو کر 2019 میں 37 فیصد تک آ گئے ہیں. دیکھا جائے تو 1991 کی مقابلے میں 6 فیصد کمی آئی ہے. اس وقت پاکستان کی آبادی 110.8 میلئن تھی. اس حساب سے کل49.86 میلئن لوگ زراعت سے وابستہ رہے.2021 میں آبادی 222.6 میلئن تھی. 39 فیصد کے حساب زراعت سےوابستہ لوگوں کی تعداد 86.81 میلئن بنتی ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ زراعت میں گزشتہ بیس سالوں میں 36.95 میلئن کا آضافہ ہوا. جو کہ 1.84 میلئن سالانہ بنتی ہے. دیکھا جائے تو یہ بات خوش آئند ہے کہ زراعت میں اتنی گنجائش ہے. لیکن دو خدشات بھی ہیں. ایک یہ کہ زراعت سیچوریشن کی طرف جا رہی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ چونکہ زراعت کھلے میدان میں کی جاتی ہے. اس لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے اس پر کئی طرح کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں. جس کی وجہ سے اتنے بڑے پیمانے پر مزدور طبقے کو نقصان اٹھانا پڑے گا.

[pullquote]درجہ حرارت کا اثر[/pullquote]

وہ کارکن جو باہر بھاری مشقت کرتے ہیں پہلے ہی ان کے جسموں پر ایک بڑا دباؤ بھاری مشقت کی صورت میں موجود ہے۔ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے، اس قسم کے کام کو انجام دینا سنگین طور پر غیر محفوظ یا گرم اور مرطوب ممالک میں کرنا ناممکن ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے دن کے گرم ترین اوقات میں وقفہ کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر مزدور دوپہر یا دوپہر کی گرمی میں کام جاری رکھیں گے تو بھی ان سے سست رفتاری سے کام کرنے کی توقع کی جائے گی۔ گرمی سے کام کی رفتار میں کمی ایک فطری عمل ہے.

ہندوستان میں، جس میں اب بھی مزدوروں کا ایک بڑا شعبہ ہے، اس سے سالانہ 100 بلین گھنٹے کا نقصان ہو رہا ہے۔ جبکہ پاکستان میں اس وقت مزدوروں کے 20 میلین گھنٹے موسمی تغیرات کی وجہ ضائع ہو جاتے ہیں.
پاکستان میں یہ نقصان تقریباً 10 میلئن گھنٹے ہیں. لیکن جس رفتار سے ہر سال سالانہ درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے, یہ نقصان 50 بیلئین گھنٹے تک پہنچ سکتا ہے. اس سے ایک طرف کارکردگی میں کمی آئے گی تو دوسری طرف بیروزگاری میں اضافہ ہوگا. جو کہ ایک ترقی پذیر ملک کیلئے بہت بڑا نقصان ہے.

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کام کرتے وقت ضرورت سے زیادہ گرمی، عام طور پر 35º ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت، پیشہ ورانہ صحت کے خطرات پیدا کرتا ہے اور کام کی صلاحیت اور مزدور کی پیداواری صلاحیت کو کم کرتا ہے. ایک اندازے کے مطابق 37 ڈگری سنٹی گریڈ کے قریب جسمانی درجہ حرارت کو برقرار رکھنا صحت اور انسانی کارکردگی کے لیے ضروری ہے، اور کام کے دوران زیادہ گرمی کی وجہ سے بڑی مقدار میں پسینہ آنا پانی کی کمی کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ جسمانی درجہ حرارت اور/یا پانی کی کمی "گرمی کی تھکن”، سست کام، کام کے دوران زیادہ غلطیاں، طبی گرمی کے اثرات (گرمی کی تھکن، ہیٹ اسٹروک، اور یہاں تک کہ موت؛ اور حادثاتی چوٹوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سبب بنتی ہے.

[pullquote]زراعت سے وابستہ مزدوروں پر اثر[/pullquote]

پاکستان ایک کم درمیانی آمدنی والا ملک ہے. یہاں زیادہ تر لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے. پاکستان میں صنعتی سے بھی کافی لوگ وابستہ ہیں, لیکن صنعتی طرقی سست روی کا شکار ہے. اس کے علاوہ ایک تہائی سے زیادہ آبادی قصبوں اور شہروں میں مقیم ہے۔ جبکہ کی آب و ہوا پہلے سے مزدوروں کیلئے حساس پن رکھتی ہے، پھر بھی زمین, پانی اور جنگل کے وسائل پر روزی روٹی اور غذائی تحفظ کے لیے بہت زیادہ لوگ انحصار کرتے ہیں۔

زراعت اب بھی 39 فیصد آبادی کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تقریباً 90 فیصد زراعت کا دارومدار گلیشیئر سے ملنے والے دریا سے آبپاشی پر ہے۔ مختلف اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے کل آبادی کا 39 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے. مزید معاشی نقصان سے لوگوں کی صحت اور صحت کی دیکھ بھال کے متحمل ہونے کی صلاحیت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ صحت پر اثرات, خاص طور پر گرمی کی تھکن، غذائیت کی کمی، حشرات سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے ڈینگی بخار کے ابھرنا، اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ لوگوں کی کام کرنے اور روزی کمانے کی صلاحیت کو مزید کم کر دے گا۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں پاکستان باقاعدگی سے شدید موسمی واقعات پیش آئے ہیں. جن میں کبھی سردی کی لہریں، کبھی طوفان، تو کبھی خشک سالی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ شامل ہیں۔ سردی کی لہریں بلوچستان اور کشمیر جیسے اونچائی والے علاقوں میں ہوتی ہیں، جہاں سردیوں کے مہینوں میں شدید برفباری، بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور اوسط درجہ حرارت سے کم ہونے کے اثرات لوگوں اور مویشیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جنوری 2020 میں، ملک بھر میں ان اثرات سے 106 افراد ہلاک ہوئے، خاص طور پر برفانی تودے جو کہ شدید بارش اور برف باری کے ساتھ ہوئے تھے. اچانک سیلاب بھی ایک عام واقعہ ہے، جو کہ خاص طور پر مون سون کے مہینوں میں دیکھا جاتا ہے.

اس طرح پاکستان کے زیادہ تر علاقوں مین خشک سالی دیکھی گئی ہے. جس میں خوراک اور پانی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ صحت اور صفائی کے نظام پر ممکنہ طور پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پاکستان میں حلال احمر کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018-2019 میں خشک سالی سے 5 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے. جس میں کثیر تعداد غریب کسانوں اور زراعت سے متعلقہ مزدوروں کی تھی.

ایک محتاط ندازے کہ مطابق پااکستان میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوتا رہے گا، جو عالمی اوسط سے زیادہ ہوگا۔ گرمی میں اضافہ کے اثرات شمال برفیلے پہاڑی علاقوں پر سب سے زیادہ واضح ہوں گے. جس کے نتیجے میں پہاڑوں پرموجود برف تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے. جس کے نتیجے میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے کٹاؤ اور دریاوں کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان بھر میں گرمی کی لہریں زیادہ اور شدید ہونے کے امکانات ہیں، اور ’گرم‘ دن اور راتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے. بارشیں بھی معمول کے مطابق نہیں ہوں گے، گرمی کی بارش اگست میں اور موسم سرما کی بارش مارچ میں منتقل ہوتے جا رہے ہیں۔

اس سارے بحث اور اعداد و شمار کی روشنی میں کہنا محال نہین کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں زرعی پیداوار، زمین کی دستیابی اور فصلوں کے موسموں پر اثر انداز ہونے کا امکانات ہیں، جس سے کسانوں کو خاص طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کے صحت اور معاش کے اثرات کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں 80 فیصد سے زیادہ کسان چھوٹے ہولڈرز ہیں اور تقریباً ایک تہائی زمین بارش پر مشتمل ہے. یہ خاص طور پر درست ہے کیونکہ بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی اور موسم میں موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں آب و ہوا کی بے قاعدگیاں پیدا ہوئی ہیں جو زرعی معاش کو چیلنج اور غیر متوقع بنا رہی ہیں۔ اس شعبے کو کم موافقت کی صلاحیت کا بھی سامنا ہے، کیونکہ یہ معاش کی مہارتیں آسانی سے منتقلی کے قابل نہیں ہیں۔ مویشی غریب کسانوں کی روزی روٹی ٹوکری کا ایک لازمی حصہ ہیں – گرمی کے دباؤ، پانی کی کمی اور چارے کی کم دستیابی کے لیے بھی انتہائی خطرے سے دوچار ہیں، اس کے علاوہ کسانوں کو غذائیت اور فوری نقد آمدنی سے محروم کر رہے ہیں

[pullquote]شہری علاقوں کے مزدوروں پر اثر[/pullquote]

شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی نسبت بہت کم کام کھلی فضا میں ہوتے ہیں. اس لئے ہو سکتا ہے کہ درجہ حرارت میں زیادتی مزدوروں کی بڑی تعداد کو متاثر نہ کرے, لیکن پھر بھی مجموعی طوع پر اثرات زیادہ ہوں. کیوں کہ پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ شہری کچی آبادیوں میں رہتے ہیں. جنہیں ‘عارضی آبادی’ بھی کہا جاتا ہے جہاں ہمیشہ سے بنیادی سہولیات کا فقدان رہتا ہے. جس میں رہائش کی سہولیات اور صفائی کی ناقص سہولیات کے ساتھ ساتھ مناسب عوامی بیت الخلاء اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کی کمیاں ہیں. اس لئے وہ انتہائی آب و ہوا کے واقعات جیسے گرمی کی لہر, شہری سیلاب، طوفان، دھول اور شہری گرمی کے جزیرے کے اثرات قابل ذکر ہیں. مثلاً، 2012 میں لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ اور پشاور، تیز رفتار ہواؤں سے متاثر ہوئے تھے. اس طرح پہلے سے موجود کمزوری ان کی صحت اور معاش کو متاثر کرسکتی ہیں اور انہیں مزید غربت میں دھکیل دیتی ہے۔

ذریعہ معاش ان صلاحیتوں، اثاثوں اور سرگرمیوں کا مجموعہ ہے جو آمدنی پیدا کرنے اور زندگی گزارنے کے ذرائع کو محفوظ بنانے کے لیے درکار ہیں۔ ذریعہ معاش متحرک ہیں؛ اور، اندرونی اور بیرونی تناؤ پر منحصر ہے، لوگ اپنی روزی روٹی کو بدل سکتے ہیں، ڈھال سکتے ہیں اور بدل سکتے ہیں۔ کچھ ذریعہ معاش، خاص طور پر، بدلتی ہوئی آب و ہوا کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں، جیسے کہ پاکستان کے تناظر میں سیراب شدہ زراعت، ماہی گیری اور جنگلات۔ آئی پی سی سی (2014) کے مطابق، بہت زیادہ اعتماد ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، آب و ہوا کی تبدیلی، اور آب و ہوا سے متعلقہ خطرہ دیگر تناؤ کو بڑھاتے ہیں، موجودہ کو مزید خراب کرتے ہیں۔ غربت، عدم مساوات کو بڑھاتی ہے، نئی کمزوریوں کو جنم دیتی ہے اور عام طور پر معاش پر منفی نتائج ہوتے ہیں۔

[pullquote]مال مویشی پالنے والے پر اثرات [/pullquote]

مویشی پالنا زرعی جی ڈی پی کا آدھے سے بھی زیادہ ہے. یعنی 53 فیصد ہے اور کل قومی جی ڈی پی میں اس کا حصہ 12 فیصد ہے۔ اس طرح یہ بھی بڑے اہمیت کا حامل ہے. یہ زراعت سے منسلک ایک شعبہ ہے.
مال مویشی پالنے کا دارومدار زراعت کے ساتھ ساتھ آب و ہوا پر بھی منحصر ہے. کیوں کے اکثر مال مویشی رکھنے والے گھاس کے میدانوں اور رینج لینڈز پر انحصار رکھتے ہیں. جو طویل اور زیادہ بار خشک سالی، تیز سیلاب اور درجہ حرارت میں اضافے کے دباؤ میں ہیں۔ مویشیوں کی پرورش سے 30-35 ملین دیہی کسانوں منسلک ہیں. مویشیوں پر موسمیاتی تبدیلی کے براہ راست اثرات میں گرمی کا دباؤ شامل ہے جس کے نتیجے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار کم ہوتی ہے اور تولید میں کمی آتی ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے اس شعبے سے منسلک مزدور اثر انداز ہوتے ہیں. اس کے علاوہ آب و ہوا سے متعلقہ دباؤ کی وجہ مناسب مقدار چارے کا نہ ہونا بھی شامل ہے. دیہی علاقوں میں مال مویشی کے فارم اور غیر فارمی سرگرمیاں شامل ہیں جن میں زیادہ تر خدمات، یومیہ اجرت کی مزدوری ہے.

[pullquote]بیماریوں میں اضافہ [/pullquote]

گرمی سے متعلق بیماری اور اموات پاکستان میں ایک اہم تشویش ہے، جو پہلے ہی گرم موسم گرما کے درجہ حرارت کا تجربہ کر رہا ہے جو گرمی کے مضبوط رجحان سے مزید بڑھ جائے گا۔ بوڑھے خاص طور پر خطرے میں ہیں– ایک اندازے کے مطابق ہر ایک لاکھ میں ساٹھ تک اموات 65 سال سے زیادہ عمر کے مزدوروں میں دیکھی گئی ہے. بوڑھوں کے علاوہ، بچے، دائمی طور پر بیمار، سماجی طور پر الگ تھلگ، اور کچھ پیشہ ورانہ گروپس (مثلاً باہر کام کرنے والے) گرمی سے متعلق منفی صحت کے نتائج کے بڑھتے ہوئے خطرے میں ہیں۔ اس کی تازہ مثال جون 2015 میں کراچی میں گرمی کی لہر ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 1400 اموات ہوئیں۔ کئی دہائیوں سے نظر نہ آنے والے درجہ حرارت تک پہنچنے کے باعث پاکستان میں گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہونے کے ساتھ ساتھ عام ہوتی جارہی ہیں. اس سال کی لہر کافی شدید تھی. جس سے اپریل کے آخر تک پاکستان میں 65 تک اموات ریکارڈ کی گئی. گرمی کا موسم ابھی جاری ہے اور حتمی اعدادوشمار سامنے نہیں آئی, لیکن زیادہ اموات کا خدشہ ہے.

غیر متعدی امراض۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں متعدد براہ راست اور بالواسطہ میکانزم کے ذریعے غیر متعدی بیماریوں کو متاثر کر رہی ہے۔ توانائی کے ذرائع موسمیاتی تبدیلی اور مقامی/گھریلو فضائی آلودگی میں حصہ ڈالتے ہیں، لیکن وہ پاکستان میں پھیلنے والی بہت سی غیر متعدی بیماریوں کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔ بیرونی فضائی آلودگی، جو مقامی اور عالمی سطح پر پائی جاتی ہے، سانس کے انفیکشن، پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر امراض قلب سے اموات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ پاکستان میں سالانہ اوسط ذرات (PM2.5) کی سطح ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ گائیڈ لائن ویلیو سے زیادہ ہے۔ اندرونی فضائی آلودگی، جو گھر یا دیگر اندرونی ماحول میں ہوتی ہے، ٹھوس ایندھن, مثلا کوئلہ، لکڑی، زرعی فضلہ، جانوروں کے گوبر کو جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان میں 93 فیصد گھرانے کھانا پکانے کے لیے ان ٹھوس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ درجہ حرارت میں تبدیلی سے گھریلو حرارتی رویے بدل سکتے ہیں۔اس آلودگی کے نتیجے میں سالانہ 326,000 اموات ہوتی ہیں۔ خواتین اور بچوں کو اندرونی فضائی آلودگی کی وجہ سے بیماری اور اموات کا خاصا زیادہ خطرہ ہوتا ہے کیونکہ وہ عام طور پر گھر کے اندر زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

حشرات سے پیدا ہونے والی بیماریاں صحت پر اہم اثرات مرتب کرتی ہیں اور موسمی حالات (درجہ حرارت، بارش، نمی) کے لیے انتہائی حساس ہوتی ہیں، جو ویکٹرز (جیسے مچھروں) کی زندگی کے چکر پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی ہیں. ڈینگی بخار اس وقت پاکستان میں سال کے تقریباً تین ماہ تک سرگرم رہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان میں ڈینگی بخار کے لیے موزوں نہیں تھا. لیکن بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے یہ پاکستان میں ایک مستقل بیماری کے صورت میں سامنے آرہی ہے. اندازہ ہے کہ اس کی 2070 تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔

2019 میں ڈینگی بخار کا پھیلنا چار ماہ (جولائی تا نومبر) تک جاری رہا اور اس کے نتیجے میں 47,120 کیسز اور 75 اموات ہوئیں. ملیریا کے واقعات کو تاریخی طور پر پاکستان میں سیلاب کے واقعات سے جوڑا گیا ہے۔ ملک میں 2012 کے سیلاب کے دوران، سیلاب کے بعد چار مہینوں کے دوران ملیریا کے واقعات میں 20 لاکھ کیسز کا اضافہ ہوا – سیلاب سے پہلے کے پورے سال میں 1.3 ملین کیسز کے مقابلے میں ڈرامائی اضافہ۔ یہ دونوں بیماری گھر میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے پھلتی ہیں. اور زیادہ تر مزدور طبقہ اس کے گرفت میں اتے ہیں.

[pullquote]پاکستان میں جاری کچھ پروگرام [/pullquote]

اس وقت پاکستان میں انصاف پروگرام اور صحت کارڈ کے علاوہ کچھ پروگرام چل رہے ہیں. جس کا مقصد لوگوں کو روزگار مہیا کرنا, صحت اور تعلیم کے شعبے میں معاونت کرنا ہے. اس کے علاوہ پاکستان مین پاور انسٹی ٹیوٹ 1975 میں وزارت محنت اور افرادی قوت کے منسلک محکمے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ جو کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی چیپٹر بن گیا ہے اور صوبے کی سطح پر کام کر رہی ہے. یہ ادارہ ہیومن ریسورس پلاننگ، ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ، ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کے سرکاری اور نجی شعبے کی تنظیموں کے افسران اور ایگزیکٹوز کو تربیت فراہم کرتا ہے.

[pullquote]پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ ایک بہت ہی اچھا اور دلکش ادارہ ہے. جو ہر سال درجنوں پروگرام شروع کرتی ہے. جس میں چند ایک مندرجہ ذیل ہیں. [/pullquote]

نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام
بلا سود قرض
روزی روٹی سپورٹ اور سمال کمیونٹی انفراسٹرکچر کا فروغ
آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے لیے لچک پیدا کرنا
پروگرام برائے غربت میں کمی
ہائیڈرو پاور اور قابل تجدید پروجیکٹ کی ترقی
چھوٹے گرانٹس پروجیکٹ: چھوٹی تنظیموں کی صلاحیت کی تعمیر
جسمانی طور پر معذور افراد کی بحالی کا پروگرام

وزارت سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی حکومت پاکستان: یہ وزارت جون 2013 سے بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی مدد کرتا ہے.

سرکاری اداروں کے علاوہ مختلف غیر سرکاری ملکی اور غیر ملکی, نیشنل اور انٹرنیشنل ادارے بھی کام کرتے ہیں. جس میں چند ایک کا مختصر تذکرہ دیا گیا ہے.

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ: قومی غیر سرکاری تنظیم جو ایک جمہوری اور موثر مزدوروں کے حقوق کی تحریک کو فروغ دینے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے وقف ہے.

پاکستان ورکرز فیڈریشن: پاکستان میں قومی ٹریڈ یونینوں کی چھتری تنظیم جس کا مقصد قومی، علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی کارکنوں کی نمائندگی کرنا، باوقار کام کو فروغ دینا اور نسل اور جنس سے قطع نظر ملازمت میں مساوی حقوق حاصل کرنا ہے.

[pullquote]انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)[/pullquote]

اقوام متحدہ کی ایجنسی جو لیبر کے مسائل میں مہارت رکھتی ہے۔ اور اس کا مقصد کارکنوں، آجروں اور حکومتوں کو کام پر حقوق کو فروغ دینے، روزگار کے معقول مواقع کی حوصلہ افزائی، سماجی تحفظ کو بڑھانے اور کام سے متعلقہ مسائل پر مکالمے کو مضبوط بنانے کے لیے مساوی آواز دینا ہے.

[pullquote]انڈسٹریل گلوبل یونین: [/pullquote]

دنیا بھر میں کام کے بہتر حالات اور ٹریڈ یونین کے حقوق کی جنگ میں کان کنی، توانائی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں 140 ممالک میں 50 ملین کارکنوں کی نمائندگی کرتا ہے.

[pullquote]انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن: [/pullquote]

دنیا کے محنت کش لوگوں کی عالمی آواز ہے۔ اس کا بنیادی مشن مزدوروں کے حقوق اور مفادات کا فروغ اور دفاع ہے، ٹریڈ یونینوں کے درمیان بین الاقوامی تعاون، عالمی مہم اور بڑے عالمی اداروں کے اندر وکالت کے ذریعے.

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا دفتر: اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ ہے جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کوششوں کی سربراہی کرتا ہے.

[pullquote]آزادی فنڈ:[/pullquote]

امریکی عوامی خیراتی ادارہ جو ان ممالک اور شعبوں میں جہاں یہ سب سے زیادہ رائج ہے وہاں جدید غلامی کے خاتمے کے لیے سب سے مؤثر فرنٹ لائن کوششوں کی نشاندہی اور سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس کا مقصد کمزور آبادیوں کی حفاظت کرنا، غلام بنائے گئے لوگوں کو آزاد کرنا اور دوبارہ انضمام کرنا اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلانا ہے

آسٹریلیا کے تعاون سے ڈاریکٹ ایڈ پروگرام چل رہا ہے جس میں ایک مزدور کو کام شروع کرنے کیلئے چالیس ہزار سے ساٹھ ہزار تک امدادی رقم دی جاتی ہے. یہ ادارہ صحت اور تعلیم میں بھی معاونت کرتی ہے.

[pullquote]ماخذ اور تجاویش[/pullquote]

کام کے نظام الاوقات کو تبدیل کرنا کئی حکمت عملیوں میں سے ایک ہے جو گرمی کے خطرناک حالات سے نمٹنے کے لیے تجویز کی گئی ہیں، جو کہ زمین کے گرم ہونے کے ساتھ بڑھے گی۔ لیکن ابھی تک کسی نے عالمی سطح پر ایسا کرنے کی فزیبلٹی کا اندازہ نہیں لگایا گیا اور نہ کوئی جامع پالیسی سامنے آئی ہے.

اس وقت پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 4.65 فیصد ہے. اس لحاظ سے 10.35 میلئن لوگ بے روزگار ہیں. آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہو ممکن ہے. اس لئے ضروری ہے کہ موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافے کو بھی دیکھا جائے. اور ساتھ ساتھ جو مزدور اس وقت کام کیلئے موجود ہیں ان کے صحت کا بھی خیال رکھا جائے.

موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر، یہ وقت ہے کہ کام کے باقاعدہ اوقات پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اس کیلئے باقاعدہ پالیسی مرتب ہونی چاہیئے. تاکہ مزدور طبقے کو تحفظ مل سکے.

کام کی نوعیت جانچ کر رات کے وقت یا صبح کے ٹھنڈے وقت متعین کرنا کھلے فضا میں کام کرنے والے مزدوروں کو شدید گرمی سے بچا سکتا ہے-

اداروں کی سطح پر دیکھا جائے تو پاکستان میں مزدور طبقے کی فلاح و بہبود کیلئے ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے. لیکن ایسا لگتا ہے کہ بہت کم مزدوروں کو اس کے بارے میں معلومات ہے. اس کیلئے چاھیئے کہ ہر ادارہ باقاعدہ طور پر علاقائی اور ملکی سطح پر ایک ہمہ گیر اگاہی محم چلائے. تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان اداروں سے استفادہ حاصل کرے. ساتھ ساتھ یہ سارے ادارے آپس میں بھی تعاون کریں. تاکہ آنے والے موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ بھرپور طریقے سے لڑ سکے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے