ایک ’’ننگ اسلاف‘‘ سے ملاقاتیں

ہمارے ارد گرد بے شمار لوگ ایسے ہیں جو خود پر عاشق ہیں، یہ خود پسند لوگ ہمہ وقت اپنے قصیدے پڑھنے میں لگے رہتے ہیں، ایسے بلند بانگ قصیدے کہ فردوسی بھی سنے تو ان کے سامنے کورنش بجا لائے، میرے جاننے والوں میں بھی ایسے کتنے ہی خود پسند افراد موجود ہیں جن کی ایک بڑی تعداد شاعروں کی ہے، تاہم بنیادی طور پر یہ معصوم لوگ ہیں۔ انہیں دوست بنانے کے لئے آپ کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ صرف ان کا موازنہ میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ سے کرنا ضروری ہے، تاہم موازنے کے دوران ذہن سے یہ خیال نکال کر کہ ایک دن آپ نے اللہ کے حضور بھی پیش ہونا ہے حتمی نتیجہ یہ نکالنا ہے کہ یہ تینوں شاعر اچھے ہیں مگر یہ صاحب عصرِ جدید کے تقاضوں سے واقف ہیں، بس اتنا سا کام کرنا ہے، اس کے بعد یہ لوگ اپنے علاوہ دنیا کی سب سے عظیم ادبی شخصیت آپ کو قرار دیں گے،آپ کے ہزار انکار کے باوجود اپنی بات پر اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک آپ اپنی اس بات پر قائم و دائم ہیں جو آپ نے خوفِ خدا سے بیگانہ ہو کر ان کے بارے میں کہی تھی۔

ان کے مقابلے میں وہ لوگ بہت مشکل ہیں جنہیں اپنے حسن اور اپنی شخصیت کے مقابل کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ ایک صاحب جن سے میں اپنےطور پر جان چھڑانے کی بہت کوشش کرتا ہوں اور اپنی زندگی کے نوے فیصد جھوٹ ان کی ملاقات کی خواہش کے جواب میں بولتا ہوں، مثلاً میں اس وقت ہتیھرو ایئر پورٹ پر لینڈ کر رہاہوں، یا بستر مرگ پر ہوں بس چند سانس باقی ہیں، یا ایک میٹنگ کی صدارت کر رہا ہوں مگر بکرے کی ماں کب تک خیر مناسکتی ہے۔ چنانچہ ایک نہ ایک دن ان کے ہتھے چڑھ جاتا ہوں اور وہ میرے ہاں تشریف لے آتے ہیں، آتے ہی وہ مختلف پوز بنانے لگتے ہیں، کبھی سامنے کی طرف کبھی بائیں اور دائیں کی طرف۔

ان کی پہلی ملاقات میں تو مجھے صرف یہ اندازہ ہوا کہ اپنے حسن کی تعریف کروانا ان کی شخصیت کا حصہ ہے، بعد کی ملاقاتوں سے پتہ چلا ایسا شاید نہ ہو مگر وہ اپنے ہر پوز سے اپنے حسن کی جھلکیاں مجھے دکھاتے ہیں اور تعریف کے طالب ہیں، چنانچہ میں ایک عرصے تک ان کی دلجوئی کیلئے خود کو ان کے حسن کا اسیر ظاہر کرتا رہا ۔ میرے ہر تعریفی جملے کے بعد وہ جیب سے کنگھی نکالتے اور اپنے چند بچے کھچے بالوں بلکہ زلفوں کو سنوارنے لگتے۔ ایک دن کہنے لگے، میرا قد دیکھا ہے، میں نے کہا ہاں دیکھا ہے، بولے ایسا بلند قامت مردآپ نے پہلے کبھی دیکھا ہے؟ میں نے ایک بار پھر ان کی طرف دیکھا ۔ اس چار فٹے شخص کے بارے میں اب میں کیا عرض کرتا، بس میں نے دل پر پتھر رکھ کر انور شعور کا یہ شعر پڑھ دیا؎

صبح وہ جتنی دیر تک باغ میں گھومتا رہا

سر و سمن کھڑے رہے گردنیں خم کئے ہوئے

بعد میں بہت دیر تک دل ہی دل میں انور شعور سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی بات صرف یہیں تک ہوتو انسان کی قوت برداشت اس کا ساتھ دے سکتی ہے مگر جب بات زیادہ بڑھ جائے تو صبر جواب دینے لگتا ہے۔ ایک دن کہنے لگے کبھی ذوالفقار علی بھٹو کا نام سنا ہے؟ میں نے کہا جی سنا ہے بولے دیکھا تو نہیں ہو گا، میں نے عرض کی بس ایک دفعہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی اس پر ان کے چہرے پر ایک عجیب طرح کا احساسِ تفاخر ہویدا ہوا۔ فرمایا مجھ سے مشاورت کے بغیر وہ ایک قدم بھی نہیں چلتے تھے، جنرل ایوب سے بھی میں نے ہی ملایا تھا پھر ان کے خلاف تحریک چلانے کا مشورہ بھی میرا تھا ان کی ساری کابینہ بھی میں نے ہی تشکیل دی تھی ان کے عدالتی قتل کے خلاف احتجاجی تحریک بھی میں نے ہی چلائی تھی ۔اس پر میرا پیمانہ صبر جواب دے گیا میں نے کہا اچھا کیا وہ آپ ہیں میں نے تو سنا تھا کہ بطور احتجاج خودسوزی کے دوران آپ جل کر راکھ ہو گئے تھے۔ اس پر انہوں نے قدرے ناگواری کا اظہار کیا اور بولے خودسوزی کی کوشش میں نے ضرور کی تھی مگر موقع پر موجود لوگوں نے مجھ پر کمبل ڈال کر فوراً آگ بجھا دی اور یوں جل مرنے کی آپ کی خواہش پوری نہیں ہوئی۔

ان کی اس اتنی بڑی درفنطنی کے بعد میں ایک عرصے تک انہیں مسلسل نظر انداز کرتا رہا ان کے فون آنے پر میں کبھی امریکہ ہوتا کبھی یورپ اور کبھی بستر علالت پر ہونے کی اطلاع دیتا مگر کب تک؟ایک دن پھر ان کے ہتھے چڑھ گیا۔ اس بار نواز شریف کو لانے اور گرانے والے بھی وہی تھے عمران خان کو 2018میں برسر اقتدار لیکر آئے پھر اپوزیشن والوں سے عدم اعتماد کی تحریک لانے کا مشورہ بھی انہوں نے دیا اور اب عدلیہ بھی انہی کی مشاورت سے سب کام کر رہی ہے۔ میں ان کی ایسی سب باتیں کڑوا گھونٹ سمجھ کر برداشت کرتا رہا ہوں ایک دن انہوں نے عجیب بات کی، ’’تمہیں پتہ ہے میرے سانس سے بے حد خوشبو آتی ہے۔ ‘‘ میں جلا بیٹھا تھا میں نے کہا مجھے تو کبھی تمہارے سانسوں کی خوشبو نہیں آئی، یہ سن کر وہ میرے قریب آئے اور اپنے سانسوں کی پھوار میرے ناک پر انڈیل دی اتنی بدبودار سانس کہ میرا دم گھٹنے لگا۔میں اس وقت اسلام آباد روانہ ہو رہا تھا میں نے ڈرائیور سے کہا جلدی گاڑی تیار کرو اسلام آباد جانا ہے یہ کہہ کر میں نے اندر سے بیگ اٹھا لیا اور ان صاحب سے اجازت لیکر گاڑی میں بیٹھا تو یہ بھی دوسرے دروازے سے کار میں آگئے اور کہا کیا حسن اتفاق ہے کہ میں بھی اسلام آباد ہی جا رہا تھا اب آپ سے چار پانچ گھنٹے کی ملاقات رہے گی۔مگر ابھی لاہور کی حدود ہی میں تھے کہ ان کے بدبودار سانسوں نے میرا سفر سفرِ آخرت جیسا بنا دیا۔ بالآخر میں نے ڈرائیور سے کہا ’’ میرا حافظہ تو کمزور ہے مگر تمہیں کیا ہوا میں نے آج نہیں کل اسلام آباد جانا تھا گاڑی واپس موڑو۔ ‘‘

پس نوشت:میں کالم کی آخری لائن لکھ رہا تھا کہ یہی موصوف اچانک آ ٹپکے، اگر ان کی آمد کی اطلاع ہوتی تو میں نے پاکستان تو کیا دنیا میں بھی نہ ہونے کا عذر تراش لینا تھا۔ بہرحال آتے ہی کہنے لگے’’تم جانتے ہو کہ میں نے کبھی بڑ نہیں ہانکی، میں اللہ کا ایک عاجز بندہ ہوں میری ساری زندگی نہ صرف یہ کہ عجزو انکسار سے گزری ہے بلکہ میں جب کبھی اپنا نام لکھتا ہوں تو اپنے نام کے ساتھ حاجی نہیں لکھتا حالانکہ میں نے بیس حج اور چوالیس عمرے کئے ہیں بلکہ ہمیشہ ’’ننگِ اسلاف‘‘ لکھتا ہوں‘‘ جس پر میں نے انہیں بتایا کہ بقول ابن انشا ان کے استاد مرحوم بھی اپنے نام کے ساتھ یہی لکھتے تھے چنانچہ ان کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی انہیں ’’ننگِ اسلاف‘‘ کہنا شروع کر دیا۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے