خاکی اور ’’پاکی‘‘!

مجھ سے محبت کرنے والے لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کی تعداد میں دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں، ان میں سے جن چند لوگوں کو مجھ سے ملنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے وہ بے حد جذباتی ہو جاتے ہیں ،میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ میرے احترام اور مجھ سے محبت کے اظہار میں وہ شرعی حدود کی خلاف ورزی نہ کریں مگر محبت اورعقیدت حدود میں کہاں رہتی ہے ۔چنانچہ میں نے متعدد بار انہیں کہا کہ وہ سجدہ ریز ہونے کیلئے سامنے والی مسجد میں چلے جائیں ۔صرف یہی نہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایک مجھے دیکھتےہی رونے لگتے ہیں اس پر مجھے حیرت نہیں ہوتی کیونکہ خود میں بھی جب آئینہ دیکھتا ہوں تو آبدیدہ ہو جاتا ہوں۔اسی طرح سجدہ ریزی کے خواہشمندوں کے بارے میں ،میں نے بعد میں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ان میں سے دو کمر کی پرابلم کی وجہ سے سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے، ان کی اس حالت سے مجھے خوش گمانی ہوئی کہ شاید وہ سجدہ کرنا چاہتے ہیں ۔

باقیوں کے بارے میں پتہ چلا کہ بہت سے ملاقاتیوں نے مجھ پر جو جعلی نوٹ نچھاور کئے وہ انہیں اصلی سمجھ کر زمین پر لیٹ کر سمیٹنا چاہتے تھے ۔خود مجھے بھی اس حقیقت کا اس وقت اندازہ ہوا جب میں نے ڈھیر ساری خریداری کے بعد ان نوٹوں سے ادائیگی کی تو دکاندار نے پولیس بلا لی اور بتایا کہ یہ شخص عید مبارک والے پانچ پانچ ہزار کے نوٹ چلانے کی کوشش کر رہاتھا ۔تاہم یہ مسئلہ بہت آسانی سے حل ہو گیاجب میں نے پولیس کو کچھ اصلی نوٹ نذر کئے اس کے باوجود متذکرہ سانحہ کے حوالے سے اپنے ان عقیدت مندوں کی محبت میں کوئی شک نہیں کے ممکن ہے کسی فراڈیئے بینکر نے یہ نوٹ انہیں تھما دیئے ہوں ؟

اللّٰہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے حسن ظن کی نعمت سے نوازا ہے ورنہ یار لوگ تو ہر معاملے میں بدگمانی سے کام لیتے ہیں جیسا کہ میں نے آغاز میں آپ کو بتایا کہ دنیا بھر میں اربوں کی تعداد میں میرے چاہنے والے موجود ہیں، صرف پاکستان میں ان کی تعداد تئیس کروڑ ہے گزشتہ روز میرا ایک عقیدت مند ملک کی معاشی صورتحال پر سخت پریشانی کا اظہار کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم لوگ ایک عرصے سے باہر سے مال امپورٹ کرتے ہیں اور ہماری ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، اس نے تجویز پیش کی کہ اگر آپ اپنے عقیدت مند امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک میں ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیں تو آپ سے محبت کرنے والے اس نیک کام کے لئے فی کس لاکھوں روپیہ ادا کرنے کو تیار ہیں ،

مجھے اس کی تجویز بہت معقول لگی اور میں نے سوچا کہ اگرمیرے تئیس کروڑ عقیدت مندوں میں سے صرف ایک کروڑ افراد بھی ایکسپورٹ کریں تو ہم آئی ایم ایف کی ساری شرائط پوری کرکے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں مگر ان سب کو ویزا دلانے کے لئے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کی ضرور ت ہے مگر پھر میں نے سوچا کہ یہ ناممکن بھی نہیں ہے ،جب پاکستان کی محبت میں ایکسپورٹ ہونے کے خواہشمند زر نقد میرے پاس جمع کرائیں گے تو اس کے بعد نیٹ ورک کے قیام میں کوئی مشکل نہیں ہو گی ،چنانچہ کچھ سفارتخانوں کے اہلکاروں سے میری بات چیت شروع ہو چکی ہے مگر مجھے پتہ ہے کہ پاکستان کی محبت میں ایکسپورٹ ہونے کے خواہشمند افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہو جائے گی۔

اب ایک چھوٹا سا مسئلہ درپیش ہو گا اور وہ یہ کہ جب میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد کی ایکسپورٹ کرنے کےلئے فی کس کم از کم بیس لاکھ بھی وصول کروں تو یہ رقم کھربوں تک جا پہنچے گی اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے مجھے یہ رقم حکومتی خزانے میں جمع کرانا ہو گی مگر میں ان شااللّٰہ اس رقم کو تین گنا زیادہ کرنے کے بعد یہ کام کروں گا ،حاصل شدہ رقم کو دو تین گنا زیادہ کرنے کےلئے میں یہ کھربوں روپے مختلف اسکیموں میں انویسٹ کروں گا جس کے نتیجے میں جو منافع ہوگا اس کی گنتی بھی مشکل ہو جائے گی تاہم اس میں ایک رسک بھی شامل ہے اور وہ یہ کہ ساری رقم خسارے کی صورت میں ڈوب بھی سکتی ہے ۔

مجھے اس طرح کے کام کرنے والے ایک پرانے کھلاڑی نے یہ بات سمجھائی ہے چنانچہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ تاہم اس اقدام کے نتیجے میں میری نیک نیتی کی وجہ سے میرے نامہ اعمال میں ایک نیکی بھی لکھی جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ عرصے بعد میری انویسٹمنٹ چار گنا زیادہ منافع بھی دینا شروع کر دے یہ بھی اس کی مرضی ہے اور اس کی رضا کو قبول کرنا بھی نیکی تصور کی جاتی ہے، اس دوران میں اپنا نام بھی ایکسپورٹ ہونے والے محب الوطن پاکستانیوں کی فہرست میں شامل کرکے امریکہ کے کسی ولا میں قیام پذیر ہوں گا جہاں میرے کروڑوں عقیدت مند پہلے سے موجود ہیں، یہ بات تو میں نے شروع میں آپ کو بتا دی تھی کہ پوری دنیا میں میرے اربوں چاہنے والے موجود ہیں۔

ویسے مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے ہاں بہت سے اعلیٰ درجے کے شاعر موجود ہیں بہت بڑے مزاح نگار اور ڈرامہ نویس بھی ہیں، عالم فاضل لوگ بھی موجود ہیں ممکن ہے ایک آدھ میرے جتنا خوبصورت بھی ہو کوئی اکا دکا ایسا بھی ہو جو بولتا ہو تو اس کے منہ سے پھول جھڑتے ہوں مگر یہ اس کی کرم نوازی ہے کہ میرے سامنے ان کی حیثیت زیرو سے زیادہ نہیں، ملک سے محبت اور پاکستانیوں کو ایکسپورٹ کرکے اربوں روپے جمع کرکے قومی خزانے میں جمع کروانے کی میری نیت سے بھی آگاہ ہو چکے ہیں لیکن اگر قدرت کو کچھ اور منظور ہوا تو اس کے سامنے ہم سب بے بس ہیں لیکن میں غرور نہیں کرتا کہ پاکستانیوں کے حوالے سے مجھ ایسے درد مند اور اربوں کھربوں روپے جمع کرنے والے اور بھی ہوں گے۔الحمد للہ اس حوالے سے وہ میرے قریب سے بھی نہیں گزرتے ،میرے اللہ مجھے معاف کر دینا اگر میں نے نادانستہ طور پر بھی اپنے بارے میں خودستائی سے کام لیا ہو میرے عجزو انکساری کا تو یہ عالم ہے کہ میں خود کو ان لوگوں میں سے سمجھتا ہوں جنہیںاسفل السافلین قرار دیا گیا ہے اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ الحمدللّٰہ میں اپنے عقیدت مندوں کی زبان سے جب سنتا ہوں کہ آپ بہت پہنچے ہوئے ہیں تو کبھی اس پر یقین نہیں کرتا ،جب امریکہ پہنچ جائوں گا تو اس وقت خود کو پہنچا ہوا سمجھوں گا فی الحال تو خاکی ہوں اور پاکی ہوں!

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے