خیبر پختونخوا کو دو ماہ کی لئے 328 ارب روپے کی ضرورت

خیبرپختونخوا کو روا ں مالی سال کے بجٹ اخراجات اور ترقیاتی فنڈز کو استعمال کرنے کےلئے 328 ارب روپے کی ضرورت ہے لیکن صوبائی حکومت کو مئی اور جون کے مہینے میں 148 ارب روپے ملنے کی امید ہے، جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کو 180ارب روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے محکمہ خزانہ کے مطابق صوبائی حکومت کو مئی اور جون کے تنخواہوں اور پنشن کے 90ارب روپے سمیت 328 ارب 40کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔ ضم اضلاع کے ترقیاتی پروگرام اے ڈی پی کے اہداف کے حصول کےلئے 21ارب اور اے آئی پی کےلئے 27 ارب روپے درکار ہیں۔

محکمہ خزانہ کی دستاویزات میں بتایا گیاہے کہ بجٹ اہداف کے حصول کےلئے صوبائی حکومت کو بندوبستی اضلاع کے ترقیاتی کاموں کےلئے 60ارب ،صحت کارڈ اور ایم ٹی آئی ہسپتالوں کی چوتھی سہ ماہی کےلئے 11، 11 ارب روپے کی ضرورت ہے۔دستاویزات میں بتایا گیاہے کہ بجٹ میں فوڈ ریلیف کےلئے 10ارب اور ٹی ڈی پیز کےلئے 17ارب روپے محکمہ خزانہ کی ضروریات ہیں۔ صوبائی حکومت نے رمضان المبارک میں 20ارب روپے کے سستا آٹا سکیم کےلئے جو رقم خرچ کی ہے وہ بھی وفاقی حکومت صوبے کو ادا کریں۔

محکمہ خزانہ کو مفت کتب کی فراہمی کےلئے 8ارب، صاف پانی اور نکاس آب کی کمپنیوں کےلئے 3ارب ، سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور الات کی فراہمی کےلئے 4,4ارب روپے کی ضرورت ہے اس طرح صوبائی حکومت کو 1332ارب روپے کے بجٹ کے اہداف کے حصول کےلئے 328 ارب روپے کی ضرورت ہے۔ محکمہ خزانہ نے اپنے آمدن سے متعلق دستاویزات میں بتایا ہے کہ انہیں مئی اور جون کے مہینوں میں 148 ارب 10کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے۔ آمدن سے متعلق صوبائی حکومت کو سب سے زیادہ 111ارب روپے فیڈرل ٹیکس اسائمنٹ سے ملیں گے۔

اسی طرح دہشتگردی کی مد میں صوبائی حکومت کو مجموعی آمدن کا جوایک فیصد ملتاہے اس میں صوبے کو وفاق کی جانب سے 12ارب 50کروڑ روپے کی ادائیگی ہوجائےگی۔ تیل اور گیس رائلٹی کی مد میں صوبے کو 6ارب 60کرو ڑ اور قبائلی اضلاع کی غیر ترقیاتی اخراجات کےلئے 5کروڑ روپے مل سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت مئی اور جون کے مہینے میں اپنے وسائل سے 13ارب روپے کے امدن حاصل کرسکتے ہیں۔ اس طرح صوبائی حکومت کی ضروریات اور اہداف میں 180ارب روپے کا فرق ہے اور یہ خسارہ اس وقت صوبائی حکومت کو درپیش ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے