سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کا خاتمہ !!

خیبرپختونخو احکومت کا بچت کےلئے سرکاری گاڑیوں کے مونٹائزیشن کا فیصلہ، موجودہ 40ہزار سے زائد سرکاری گاڑیاں افسران کو فروخت کی جائیں گی۔ گاڑیوں کی مونٹائزیشن کو حکومت کو پہلے سال 10 ارب روپے سے زائد کی آمدن حاصل ہوگی ،دوسری جانب حکومت نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کرے گی۔ حکومت صرف ریسکیو1122، پولیس موبائل اور میونسپلٹی سروسز کےلئے گاڑیوں کو سرکاری حیثیت دے گی۔

کار مونٹائزیشن پالیسی سے متعلق محکمہ خزانہ نے نگران حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں حتمی منظوری نگران کابینہ دے گی۔ پالیسی کے مطابق جس سرکاری آفیسر کے پاس سرکاری گاڑی ہوگی اگر وہ افسر خریدنا چاہے تو دو سے تین سال کی اقساط کی ادائیگی کے بعد وہ گاڑی مذکورہ آفسر کو دی جائے گی ، کارمونٹائزیشن پالیسی کے تحت حکومت گاڑیوں کی دیکھ بال نہیں کرے گی بلکہ اس کی ذمہ داری مذکورہ آفسر کی ہوگی۔

پالیسی کے تحت ایک آفیسر ایک ہی گاڑی خرید سکتا ہے جو افسر جتنے بڑے عہدے پر تعینات ہوگا اتنی ہی بڑی مالیت کی گاڑی خریدنے کےلئے اہل ہوگا۔ قسطوں کی ادائیگی ماہوار تنخواہ سے کاٹی جائے گی۔ پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری افسران کو ڈرائیور کی سہولت نہیں دی جائےگی ، ڈرائیورز کے کیڈر کو ختم کیا جائےگا اور جو افسر ڈرائیور رکھنے کا مجاز ہوگا انہیں ڈرائیور کے بدلے مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت جتنی رقم ادا کی جائےگی پھر یہ ان کی مرضی ہے کہ ڈرائیور رکھے یا خود گاڑی چلائے۔

سرکاری گاڑی کو باقاعدہ طور پر سبز نمبر پلیٹ دیا جائےگا تاہم محکمہ داخلہ نے سبز نمبر پلیٹ پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔پالیسی میں بتایاگیا ہے کہ امدادی ادارے ریسکیو 1122، پولیس موبائل اور میونسپلٹی سروسز کے علاوہ تمام گاڑیوں کی فہرست بنا کر انہیں فروخت کیا جائےگا۔ محکمہ خزانہ کے مطابق سرکاری افسر کو گاڑی چلانے کےلئے فیکسڈ پٹرول یا رقم کی ادائیگی کی جائےگی پھر یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اپنے لئے کتنی رقم یا تیل بچاتا ہے۔

پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ نئے سرکاری افسران کےلئے بھی گاڑی نہیں خریدی جائےگی اگر کوئی افیسر گاڑی خریدنے میں دلچسپی لے رہا ہو تو ان کےلئے بینک آف خیبر سے کار لیزنگ سسٹم کے ذریعے گاڑی خریدی جائےگی ، قسطوں کی ادائیگی مذکورہ ملازم خود کرے گا اور گاڑی کی سود کی ادائیگی سرکاری خزانے سے کی جائےگی۔ اسی طرح تمام سرکاری ڈرائیورز کو دوسرے محکموں میں درجہ چہارم کے ملازمین یا تعلیم یافتہ افراد کو جونیئر کلرک کی حیثیت دی جائےگی۔ محکمہ خزانہ کے مطابق صوبائی حکومت ہر سال سرکاری گاڑیوں کے تیل پر سات سے ساڑھے سات ارب روپے خرچ کرتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے