تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی

بجا فرمایا۔ لیکن کس نے کہا کہ ایک ہاتھ سے تالی بجائیے ۔ سب کے پاس دو ہاتھ ہیں۔ آپ بھی شوق سے تالی بجائیے، کس نے روکا ہے۔ اور تالی ہی کیوں، ایک ہاتھ سے اور بھی بہت سے کام ہو سکتے ہیں۔ تھپڑبھی مارا جاسکتا ہے۔ کھلّا بھی دکھایا جا سکتا ہے۔ ہاتھ لہرایا بھی جا سکتا ہے۔ ایک ہاتھ سے ٹھینگا بھی د کھایا جا سکتا اور ُمکہ بھی مارا جا سکتا ہے۔ جب مار پیٹ تک نوبت پہنچ ہی گئی تو دونوں ہاتھوں سے تالی کیا دوہتڑ بھی مارا جا سکتا ہے۔
اصل میں قصہ مار پیٹ کا نہیں صلح صفائی کا ہے۔ تالی کا ذکر صرف دلیل کے لئےہے۔ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ لڑائی جھگڑے میں قصور ایک کا نہیں دونوں فریقوں کا ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں سے بجتی ہے۔ دونوں فریقوں کو قصور وار ٹھہرا ئیں تبھی صلح ہو سکتی ہے۔ اگر ایک کا قصور ہو تو تفتیش اور انصاف تک پہنچتی ہے۔ اس کے لئے لمبی عمر چاہیے۔ یہ کہاوت بھی عام طور پر اس وقت کام آتی ہے جہاں فریقین میاں بیوی ہوں یا ایک تگڑا اور دوسرا نمانا ہو۔
ایسی ہی کہاوت میاں اور بیوی کے بارے میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں،یہاں گاڑی سے مراد موٹر کار نہیں کیونکہ اس میں چار پہیے ہوتے ہیں۔ اس کہاوت میں گاڑی سے مراد بیل گاڑی ہے۔ جس میں دونوں پہیے بے قصور ہوتے ہیں۔ کہاوت میں زور اس بات پر ہوتا ہے کہ قصور ایک کا نہیں دونوں کا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے امیر خسرو کی کہ مکرنی میں ہوتا ہے۔ سہیلی بوجھ پہیلی میں جس بات سے مکرا جاتا ہے، اصل میں جواب وہی ہوتا ہے۔ لیکن جواب دونوں ٹھیک ہوتے ہیں۔
وہ آوے تب شادی ہوئے
اس بن دوجا ہور نہ کوئے
اے سکھی ساجن؟
نہ سکھی ڈھول
بات دور نکل گئی۔ اردو میں تالی کا تعلق سر تال سے ہے۔ تالا تالی سے نہیں تالا قفل کو کہتے ہیں اور تالی کنجی یا چابی کو۔ تالا اور تالی فریقین ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ لیکن ان دونوں کا ایک یا دو ہاتھوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نہ وہ دونوں بجتے بجاتے ہیں۔ وہ صرف کھلتے اور بند ہوتے ہیں اور وہ بھی آپس میں ملنے جلنے سے۔
جس تالی سے بات شروع ہوئی تھی اس کا تعلق ُسر تال سے ہے۔ اب دوہاتھ والی تالی کا تعلق حال و قال کی بزم سے ہے۔ گوروں کے ہاں محفل میں تالی بجانا داد اور ناچنا گانا بے داد اور بے خودی سمجھا جاتا ہے۔ قوالی کی محفل میں تالی کی آواز سنتے ہی یہ بے ادب بے ہنگم ڈانس شروع کر دیتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ تالی صرف قوال دیتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ موسیقی کی تال سے جڑی ہوتی ہے۔ اور اسے بھی تالی بجانا نہیں تالی دینا کہا جاتا ہے۔ گورے کیا جانیں تالی دینا کیا ہے۔ اس محفل میں تالی بجانا اور تالی پیٹنا انتہا کی بے ادبی ہے۔
اب تو ہم بھی تالیوں کی گونج میں تشریف لانا پسند کرتے ہیں اور میزبان بھی اصرار کرتے ہیں کہ تالیاں بجتی رہیں۔ گوروں کے ہاں تالیاں داد کے لئے بجائی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں تالی رسوا کرنے کے لئے بجتی تھی۔ پہلے شاید ہم گورے سے بدلہ لینے کے لئے تالی بجاتے ہوں گے۔ اب توہم خود بھی گورے ہوگئے ہیں۔ اس لئے دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتے ہیں۔ پتا نہیں یہ کس کا شعر ہے لیکن یہاں شیخ جی سے مراد کوئی گورا ہی ہو سکتاہے.
شیخ جی کیا ناچتے ہو بزم حال و قال میں
تالیاں قوال دیں گے تم جو بے تالے ہوے
Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے