آپریشن ’طوفان الاقصیٰ‘ : کیا فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی کا منصوبہ تکمیل کے قریب؟

” حماس کے ساتھ جنگ ​​میں ہم مشرق وسطیٰ کی شکل بدل دیں گے اور جو کچھ ہم کریں گے اسے غزہ کے عوام اگلے پچاس سال تک یاد رکھیں گے“ –

یہ وہ الفاظ ہیں جو اسرائیلی وزیر اعظم بنیمین نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے کے روز فلسطینی مزاحمتی تحریک کی جانب سے شروع کیے گئے بہادرانہ "طوفان الاقصیٰ ” آپریشن کے نتیجے میں اسرائیل پر ٹوٹی آفت کے بعد کہے تھے۔

کیا نیتن یاہو کے الفاظ محض اسرائیلیوں کو خوش کرنے کے لیے ہیں یا یہ دی جانے والی دھمکیوں کی انتہا ہے یا نیتن یاہو کو 6 اکتوبر 1973 کے بعد سے اپنی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ پہنچا ہے یا وہ اسرائیلی ڈیٹرنس سسٹم کو بحال کرنے کی اپنی دھمکیوں میں سنجیدہ ہو چکا ہے یا پھر گزشتہ پچاس سالوں میں پہنچنے والا شدید دھچکے کا نتیجہ ہے ؟

اسرائیل اب غزہ کی پٹی میں جو کچھ کر رہا ہے وہ صریح جنگی جرائم ہیں جنہیں امریکہ کی طرف سے تحفظ اور حمایت حاصل ہے ، جو انسانی قتل عام کے ساتھ ساتھ غزہ کے بنیادی تعمیری ڈھانچے کو صفحہ ہستی سے مٹانے تک پہنچ چکے ہیں-

گزشتہ ہفتہ سے اسرائیل فلسطینیوں کی رہائش گاہوں اور انفرسٹیکچر کو منظم طریقے سے تباہ کر رہا ہے اور ساتھ فلسطینیوں میں خوف پیدا کر کے انہیں خالی کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اسرائیل کے ان جنگی جرائم میں بہت سے مغربی ممالک جنہوں نے ہمیشہ انسانیت کا سر جھکایا ہے شامل ہو کر اسرائیل کے لئے انسانی حقوق کا کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔

جاری جنگ اور اسرائیلی پلان سے واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایک بڑی آبادیاتی تبدیلی لانا چاہتا ہے، جس کی ابتداء بے رحمانہ جارحیت کی صورت میں غزہ کے سکولوں، ہسپتالوں سمیت گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو منہدم کر کے اور اس عمل سے یہاں کے رہائشیوں کو غزہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر کے کی جا چکی ہے ۔

کیا فلسطینیوں پر جاری مظالم کو روکنے کے لئےممکنہ حل ایک متبادل فلسطینی علاقے کا قیام ہے جسے مغرب اور بعض عرب ممالک سپورٹ کریں گے تاکہ مسئلہ فلسطین مکمل طور پر ختم ہو جائے؟ ( سعودی شہزادے محمد بن سلمان کا فاکس نیوز کو دیا گیا حالیہ انٹرویو اس حوالے سے اہم ہے )۔

” طوفان الاقصیٰ “ آپریشن سے پہلے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ تجویز خیالی اور مبالغہ آمیز ہے یا پھر صرف ایک سازشی تھیوری ہے لیکن نیتن یاہو کی دھمکیوں اور پھر غزہ میں بڑے پیمانے پر عمارتوں اور کھیتوں کو منظم طریقے سے مسمار کرنے اور مکینوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بعد یہ صرف سازشی تھیوری نہیں رہی ، بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس کا اب نفاذ ہونا شروع ہو گیا ہے – اس کے لئےمتعدد اسرائیلی ذرائع فلسطینیوں کو مصر بھاگنے پر مجبور یا قائل کرنے کی کوشش میں ہیں –

یہی وجہ ہے کہ مصری ذرائع نے قاہرہ نیوز چینل کو جاری کیئے گئے بیان میں متنبہ کیا ہے ، بیان میں کہا گیا ہے کہ ”نہتے فلسطینیوں کو مصری سرحد کی طرف دھکیلنے اور اسرائیل کی طرف سے اخراج کا مطالبہ کرنے کے خلاف مصر نے تمام فریقین کے ساتھ اپنے رابطے تیز کر دیئے ہیں تاکہ اس تنازعے کو حل کرنے لئے فلسطینی عوام کے بہتے خون کو روکا جا سکے، کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خطرہ ہے جو غزہ کی پٹی کو خالی کرنے اور فلسطینی کاز کو مستقل طور پر ختم کرنے کا باعث بنے گا – جسکی اجازت دینا مصری خودمختاری کے خلاف ہو گا“-

میں سمجھتا ہوں کہ یہ پیشرفت ( فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی اور صحرائے سیناء میں آباد کاری ) سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی ہے جو "طوفان الاقصیٰ ” آپریشن کے آغاز کے بعد سے ہوئی ہے –

اس حوالے سے جو پہلی صہیونی کانفرنس 29 اگست 1897 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل تھیوڈور ہرزل کی سربراہی میں منعقد ہوئی تھی جس کے شرکاء نے یہودیوں کے لیے قومی ریاست کے لیے جگہ کی تلاش پر تبادلہ خیال کیا تھا ، شرکاء نے جن ممالک میں اپنی ممکنہ ریاست کے لئے جگہ دیکھنی تھی ان میں یوگنڈا، ارجنٹائن اور فلسطین تھے جبکہ کچھ نے مصر کے صحرائے سیناء کی تجویز بھی پیش کی تھی ۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس کانفرنس کے 126 سال بعد صیہونیوں نے اپنی ہی تجویز کو الٹ دیا ہے ، یعنی وہ اب فلسطینیوں کو سیناء کی طرف دھکیل کر خود فلسطین پر قابض ہونا چاہتے ہیں –

تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی بارہا کوشش کی ہے، خاص طور پر مغربی کنارے سے، اردن تک جس کو وہ متبادل وطن کہتے ہیں، قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے اور وہ اس پر اصرار کرتے رہے ہیں ۔ یہ فلسطینیوں کے ساتھ 1993 میں اوسلو معاہدے، پھر 1994 میں اردن کے ساتھ عرب معاہدے پر دستخط کے بعد اسرائیل عارضی طور پر خاموش ہوا تھا لیکن اس کے بعد اسرائیلی ہٹ دھرمی دنیا پر آشکار ہوئی کہ اسرائیل بنیادی طور پر کسی بھی حقیقی حل پر یقین نہیں رکھتا۔ مسئلہ بلکہ اس کی پالیسیوں کا نچوڑ فلسطینیوں کے لیے یہ ہی ہے کہ وہ غلاموں کی طرح ایک بڑی جیل ( غزہ ) میں رہیں یا پھر انھیں ان کی سرزمین سے نکال دیا جائے اور جو اس سے انکار کرے اسے قتل کر دیا جائے۔

اسرائیل کا سابق وزیر اعظم یتزاک رابن ہمیشہ کہتا تھا کہ ”جب وہ ایک دن نیند سے بیدار ہو گا تو دیکھے گا کہ غزہ کو بحیرہ روم نگل چکا ہے“ –

اسرائیلیوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ اور ہر دور میں فلسطینیوں کو سیناء میں آباد کرنے کے خیال کو فروغ دیا سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں مصر کے سابق صدر محمد انور سادات نے ایک امریکی صحافی کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو میں اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے اسے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ ’’کیا آپ کو یہ قبول ہے کہ امریکی صحرا کسی بھی دوسرے ملک کے شہریوں کو دے دیا جائے ؟“

اسرائیل کے مغربی اور عرب ہمنواوں کا اب پھر خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینیوں کو سیناء میں بے دخل کرنے کے خیال کو دوبارہ آزمایا جائے تاکہ غزہ کے ڈراؤنے خواب سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے –

اللہ تعالیٰ فلسطینی عوام کی مدد کرے، جنہوں نے 1948 سے اب تک سب سے زیادہ مصائب، پابندیوں، محاصروں اور قبضے کو برداشت کیا ہے اور اب ایک وحشیانہ جنگی مشین کے سامنے تقریباً تنہا ہیں جس کے لئے انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتی –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے