اسلام آباد سے گلاسگو(پارٹ2)

سلام کی آوازسنتے ہی پہلو میں دیکھا تو ساجد صاحب کھڑے تھے۔

”میری ابھی آپ سے بات ہوئی تھی“ میں نے موبائل کی طرف دیکھ کر کہا اورساتھ ہی رونا شروع کر دیا۔

”آپ مجھ سے پیسے لے لیں مجھے گلاسگو نہیں رہنا۔سارے گھر ایک جیسے ہیں، مجھے پاکستان واپس جانا ہے۔“میں نے ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا۔ساجد صاحب خاموشی سے سنتے رہے۔

”آپ کافی پریشان لگ رہی ہیں۔ تین چار روز تسلی سے سوچ لیں۔واپس پاکستان نہ جائیں۔“انہوں نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

” واپسی کا ارادہ ہوا تو آپ مجھ سے رہائش کے سلسلے میں رابطہ کر سکتی ہیں۔“ساجد صاحب نے بات جاری رکھی۔

اسی دوران بس آگئی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور بس میں سوار ہوگئی۔ میں مانچسٹر جارہی تھی۔ یعنی ایک اور سفر درپیش تھا۔میں نے سوچ لیا تھا کچھ بھی ہو اب گلاسگو واپس نہیں جانا۔ مانچسٹر گلاسگو سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ رات چاربجے پہنچی تو مزمل بھابھی مجھے لینے کیلئے آئی ہوئی تھیں۔ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔

سفر نے تھکا دیا تھا۔اس رات طبیعت بالکل صحیح نہیں تھی۔تھکاوٹ کی وجہ سے دماغ کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔صبح ناشتہ کیا تو سوچا ہر ہفتے اتنا طویل سفر ممکن نہیں ہوگا۔ یعنی گلاسگو ہی جانا ہوگا۔۔۔وہی گلاسگو جہاں سے واپس نہ جانے کا عہد کرکے نکلی تھی!

رات کا وعدہ صبح کو توڑا اور واپسی کیلئے ناشتے کے بعد ہی گلاسگو کی ٹکٹ دیکھنا شروع کر دی۔ساتھ ہی رہائش کیلئے ایک بارپھر ساجد صاحب سے رابطہ کیا۔ کرایہ طے ہوگیا۔ساجد صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان جا رہے ہیں۔انہوں نے اپنی بیگم سعدیہ کا نمبر دے دیا۔ گلاسگو پہنچی،سعدیہ سے رابطہ کیا اور رہنا شروع کردیا۔ان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا۔بچوں سے مانوس ہوگئی۔

سعدیہ نے مجھے بہت سی اہم جگہیں دکھائیں۔اکثر ہم لمبی واک پر نکل جاتے تھے۔ کالج،یونیورسٹی اور بچپن کی باتیں کرتے۔ گھر سے دور ہونے کے باعث میں اپنی پریشانیاں بھی اس سے ڈسکس کرلیتی تھی۔ مجھے پہلی جاب بھی ساجد صاحب نے لگوا کر دی تھی۔یہ جاب35روز بعد لگی تھی۔

شروع میں کاموں کے سلسلے میں وقت باہر گزرتا اور کچھ وقت گزاری گھر کے باہر دریا کے کنارے ہوجاتی۔روز بروز گھر سے آنیوالی کالز سے مایوسی میں اضافہ ہوتا۔کام کی تلاش میں ناکامی سے اکثر دل خراب رہتا تھا۔سونے پہ سہاگہ کہ میرا واسطہ اپنی پاکستانی کمیونٹی سے جا پڑا۔

معذرت کے ساتھ باہر آنے والوں کو یہی کہوں گی اپنے کمیونٹی کے لوگوں سے دور رہیں۔ کوئی اچھا مل جائے توخوش قسمتی سمجھئے، نہیں تو سب سے زیادہ آپ کی ٹانگ اپنے دیسی لوگ ہی کھینچتے ہیں۔یہ تو سن رکھا تھا کہ دیسی کمیونٹی آپ کو کم تنخواہ پر کام دیتی ہے اور کچھ لوگ تو کام لے کر بھی تنخوا ہ نہیں دیتے۔جن کی شہریت بدل گئی ہے وہ تو خود کو اس دنیا کی مخلوق ہی نہیں سمجھتے مگر نئے آنے والے بھی کسی سے کم نہیں۔۔۔ وہ روایتی انداز میں دوسروں کی ٹانگیں کھینچ کر پردیس میں دیس کی یاد دلاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا۔

یہاں دو سہیلیاں بن گئیں۔ ایک پاکستان میں لاہور سے تھی جبکہ دوسری بوریوالا سے۔۔۔ان کے ساتھ وقت تو اچھا گزرا مگر بعد میں مایوسی ہوئی۔ہمارا رابطہ اپنے کاموں کے سلسلہ میں رہتا تھا اور اکثرگروپ کالز پرباتیں ہوتیں۔ دونوں کو میک اَپ اچھا کرنا آتا تھا۔ میں اکثر دونوں کی تعریف کرتی۔ لوگوں کو سراہنے کی خوبی مجھے پاکستان ائیرفورس اکیڈمی سے ملی تھی۔۔۔۔ لیکن یہی خوبی ایک روز دشمن بن گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن میں لاہور والی مریم کی زیادہ تعریف کر بیٹھی۔ بوریوالا سے تعلق رکھنے والی دوست کو شاید اچھا نہ لگا اور اس نے اندر ہی اندر ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنے کی ٹھان لی۔ وہی مخصوص پاکستانی رویہ۔۔۔۔

اس نے میری اور لاہور والی دوست کے مابین کسی معمولی سی غلط فہمی کا سہارا لیا اور لاہور والی دوست کے سامنے مجھ سے منسوب ایسی ایسی باتیں کر ڈالیں جو میں سوچ بھی نہ سکتی تھی۔۔۔ مجھے پتہ چلا تو میں نے پوچھ لیا کہ یہ سب کیا ہے؟ اس پر بجائے شرمندہ ہونے کے انتہائی بدتمیزی اور بدتہذیبی سے پیش آئی۔۔۔ ایک چوری اوپر سے سینہ زوری۔

انسان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ تو اذیت دیتے ہی ہیں،لہجہ بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے۔۔۔ منہ پر اس قدر جھوٹ اور گھٹیاپن کا لیول پاکستان میں بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ایسے جھوٹ،مکاری اور بہتان تراشی سے خدا کی پناہ۔۔!!

بہرحال دوستی کے اس تجربے نے جہاں انتہائی مایوس کیا، وہیں اپنی کمیونٹی سے متعلق مزید محتاط کردیا۔۔۔ راستے علیحدہ کر کے سب اللہ پہ چھوڑ دیا۔ خیر تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے مگر میں اپنا اچھا اور برا دونوں تجربہ شیر کر دیا۔۔ ایک طرف پردیس کی مشکلات تو دوسری جانب ایسے لوگ جو دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے گندی سیاست اور الزام تراشی کا کیچڑ اچھال کر دکھوں میں اضافے کا سبب بن گئے۔ منیرنیازی سچ کہہ گئے۔

کج اونج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وِچ غماں دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے