صحافت اور جدیدیت

وہ بات یا تحریک جو لوگوں کی آپس میں دلچسپی کو اپنی طرف مبذول کروانے میں کامیاب ہو جدیدیت کے زمرے میں آتی ہے اور جو اس کو کرانے میں معاون ہو اسے صحافت کہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ مرکزیت کا زمانہ نہیں بلکہ اضافیت کا ہے ۔ جو موضوع ، واحدنی ، مطلق حقیقت اور آزادی کا نعرہ بلند کرتا ہے۔

صحافت اور جدیدیت بدلتے وقت کی ضرورت اور ذہنی ہم آہنگی کا منظم نظام ہے ۔ جس کے ذریعے فرد اور معاشرے کے مابین ربط اور معلوماتی عمل پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ متن اعلیٰ بھی ہو سکتا ہے اور ادنیٰ بھی ، معمولی بھی اور غیر معمولی بھی ، جو خوشی اور غم کا باعث بنتا ہے۔

صحافت اس معاملے میں عوام کی توقعات اور معاشرے کی بنیادی سہولیات کے پیش نظر جدیدیت کا سہارا لے کر نیا معانی ، روپ ، تبدیلی اور انسانی ذہن میں وقت کے ساتھ معانی بدلنے کے عمل کو عیاں کرتاہے۔ لفظ کے سماجی معنی لفظ کے اپنے معنی پر غالب آجائیں تو وہ معنی تبدیل کرنے کی وجہ بنتا ہے۔ اسی اعتبار سے صحافت معاشی معاشرتی سماجی اور سیاسی عمل کے اس ہونے والے تمام صورتحال کو اپنے انداز میں اس معنی پیدا کرنے کی صلاحیت سے آگاہ کرتا ہے۔ جو اس کے ذہنی باطنی اور خیالی میں گھوم رہا ہوتا ہے ۔

پہلا مرحلہ:

اس مرحلہ میں بنیادی طور پر صحافت اور طرز جدیدیت کے مابین باہمی روابط کی استواری اور ٹیکنالوجی کا استعمال جن کے تحت کسی بھی تحریر کے الفاظ اور موزونیت برقرار رہ سکے عمل میں لائی جائے تاکہ جدیدیت کے تقاضے اور ان الفاظ کے پس منظر کی روشنی اس کی مثال کی دوں گا۔

لفظ Signifier اور Signified مثلاً جگنو ایک سگنیفائر ہے، جب اس کا تصور روشنی ہمارے ذہن میں آتا ہے تو وہ سگنیفائیڈ ہو جائے گا ۔ تو تب یہ طے ہوا کہ سگنیفائیڈ تبدیلی کا نام ہے اور صحافت بھی اس تبدیلی کا ایک مرکزی نام ہے جو معاشرے میں اپنے کردار ، انداز اور اسلوب سے تبدیلی کا سبب بنتا ہے جو جدیدیت اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے ۔

کہانی کا موضوع اور مرکزی نقطہ نظر ہے ۔ ” صحافت اور جدیدیت ”

اس تحریر کے ذریعے ہم مل کر جانیں گے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی انداز اور زبان و اسلوب سے کیسے اس میدان میں اپنی قلم نگاری کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں تاکہ انسانی زندگی پر ہونے والے جدید ٹیکنالوجی کے اثرات اور ذرائع کی افادیت جان سکیں ۔ اس کے ساتھ صحافت کا گہرا تعلق ، معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کا ازسر نو جائزہ لیا جا سکے۔ کیونکہ تحریر ، جدید ٹیکنالوجی اور انداز بیان باہم مربوط ہوں تو آج کی ضرویات پوری ہوسکتی ہیں ۔ جس طرح کائنات مختلف اجزا کا مجموعہ ہے ۔ ان اجزاء کے بھی اجزاء ہیں ۔ اسی طرح صحافت کے بھی اجزاء ہوتے ہیں جو صحافت کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور صحافی اہم کردار ہے جو ان اجزاء کو اکٹھا کر کے ایک تصویر اور خاکہ پیش کرتا ہے۔ ان اجزا میں روزمرہ استعمال کی اشیاء ، خیال ، انداز بیان اور باقی چیزیں ہیں۔

دوسرا اہم نقطہ

اس عمل کے لیے اور اس پر عبور حاصل کرنے کے لیے جن مرکزی باتوں کی ضرورت ہے وہ درج ذیل ہیں۔

۱۔ محدود وسائل میں وسیع خیال، ذرائع کا استعمال
۲۔مقامی زبان اور ادب
۳۔روایت ، جدیدیت ، مابعد جدیدیت اور نو جدیدیت کے تقاضے
۴۔ادبیت اور صحافت کا تعلق
۵۔کلچر اور جدید ٹیکنالوجی
۶۔مقامیت اور انداز بیان
۷۔قنوطیت اور رجائیت کا فرق
۸۔ادب اور زندگی کا دامن
۹۔جدیدیت ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی
۱۰۔ویڈیو + آڈیو ریکارنگ کے وقت درست مواد اور الفاظ کا استعمال

مطلوبہ اہداف

ان مراحل کے ذریعے ماضی کے تناظر میں ہونے والے صحافت کے میدان میں ذرائع سے مزید جدیدیت کا بروئے کار لانا اور وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے کا موقع ملے گا ۔ جو اس معاشرے اور لوگوں کی ضرورت بھی ہوگی۔ مزید یہ کہ اس کے عوض اقلیتوں کی آواز کو ہمہ وقت محدود سے وسعت کی طرف گامزن ہونے کا بہترین ملے گا ۔ جو خود آگاہی، مسائل کو منظر عام پر کرنے، الگ زاویہ اور جدیدیت کے پہلووں کی روشنی میں معاشرے میں منفرد مقام جیسے عناصر پورے ہوں گے۔ اس کے علاوہ زبان دانی اور ادب کا باہم اشتراک ملے گا۔

تاثرات

میں اس بات کی امید کرتا ہوں کہ ان مراحل اور عمل کے عوض نہ صرف ذاتی مفادات اور علمی ترقی ہوگی بلکہ مجموعی معاشرتی فضاء قائم ہوگی جو درجہ بدرجہ معاشرے اور فرد کی خود آگاہی میں معاون ہو گی۔ اس کا عوامی مفاد زیادہ اور صحافت کے جدید تقاضے بھی پورے ہوں۔ زندگی اور ادب کو فروغ ملے گا۔ جو نئی نسل کے لیے مشعل راہ بھی بنے گی۔ جو موقع محل ، موزونیت اور اسلوب کی عمدہ مثال ٹھہرے گی۔ جب ایک معنی پیدا ہوتا ہے تو اس میں سے مزید معنی نکلتے ہیں جو متن کے کثیر المعنی اور ایک آزاد کھیل قرار پاتے ہیں جو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اس کو پروان چڑھانے اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلی کا مرکزی کردار صحافت کو جائے گا۔ جو ایک ساخت دے کر سماج اور کلچر کے مابین ربط پیدا کرتا ہے۔اس کے جو نتائج خاص اخیز ہوں گے ان میں ادب ، اشیاء اور عوام کے معانی خیزی کا سلسلہ پیدا ہو گا جو نہ ختم ہونے والا کہلائے گا۔جو ان کے درمیان اس ہم آہنگی کو فروغ دے گا اسے صحافت اور جدیدیت کا امتزاج کہیں گے۔

مزید افادیت

اس عمل اور مراحل کے عوض ایک شناخت ، مقام ، درست سمت کا تعین اور آواز بلند ہوگی۔ جو ماضی سے حال اور مستقبل کا لائحہ عمل پورا کرے گا۔ یہ زبان اور بولی کا امتزاج بن جائے گا، اشیاء کے نام لینے ، قاری اور متن کے رشتہ کی وضاحت واضح ہو گی، حقیقت کا ادارک ، فروغ ذبان و صحافت ملے گا۔

احاطہ

اس کا اثر صرف ایک خطہ اور علاقہ پر نہیں ہو گا بلکہ بین الاقومی سطح پر ہوگا اور عالمی میڈیا کی نظر میں پذیرائی حاصل ہو گی۔ جس کا اطلاق ضروری کہلائے گا۔ نئی سے نئی آئیڈیالوجی اور ذرائع کے ذریعے ذہن کو صاف کرنا اور ان اقدار کو بچانا جو ادب و معاشرے اور انسانی زندگی کا مرکزی حصہ ہے تاکہ آزادانہ شرکت کو پُر جوش ، نشاط انگیز کرکے معمے کا حل تلاش ہو سکے۔

دوسرا اہم مرحلہ

اس لحاظ سے صحافت کو عمل اور رویوں کی منطق کو نمایاں کرنا ہے جو ابتدائی احوال اور ثقافت کو یکجا کرکے معلومات بہم اضافہ کرے۔ یہ جسمانی ، طبعی ، نفسیاتی اور ادبی ہوں گی۔ اس مرحلہ میں جن بنیادی باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا وہ یہ ہیں۔

۱۔مواد کی پرکھ اور تنقیدی جائزہ
۲۔تحقیق اور تنقید کا باہم استعمال
۳۔مقامی سطح پہ تحقیق کا دائرہ کار اور اثر
۴۔لوکل سطح پر تنقید کا مقام و مرتبہ
۵۔تنقید اور جدیدیت و مابعد جدیدیت کا دامن
۶۔روایت اور جدیدیت کے تناظر میں مواد کا انتخاب
۷۔تجزیہ اور افکار

یہ وہ مرکزی اور اہم مراحل ہیں جن کے تحت صحافت کادامن جدیدیت کے ساتھ وفاداری کرنے کے ساتھ ، فرد کی ذاتی زندگی میں شعور کا سلسلہ ایک دم نئی لہر لیے گھومے گا اور وہ پُرجوش انداز اور مشاہدہ کا فن حاصل کرے گا۔

تیسرا اور اہم مرحلہ

اس مرحلہ میں تحریر نگار کو درج ذیل نکات کی طرف توجہ دینا لازم ہو گا تاکہ مسودہ اور تحریر کو ختمی شکل دی جاسکے۔ میری مُراد معنی کے قبطینی فرق اور انٹی تھیس کو سامنے لانا ہے جس سے مراد کثیرالمعنیاتی فضاء کے ہیں ۔

۱۔املا اور فقرات کی درستی
۲۔ موضوع اور الفاظ کی اشتراکیت
۳۔آواز میں اُتار اور چڑھاو
۴۔غیر جانبداری
۵۔مکمل تحقیق اور ثبوت
۶۔موضوع کا تاثراتی عکس
۷۔غیر مبہم تحریر نہ ہو

ان تمام نکات اور مراحل کے ساتھ تحریر اور اس کا عملی نمونہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ تب جا کر وہ تحریر جدیدیت اور اس کے لوازمات کو پورا کرکے صحافت کے میدان میں اپنی جگہ پر براجمان ہو گی۔ یہ تمام کے تمام مراحل اپنی مثال آپ اور مل کر معانی خیزی کی قوتوں کا سراغ لگا کر راہ ہموار کرتے ہیں اور اس کا منظر عام پر آنے کا جو تسلسل وہ صحافی اور صحافت کے میدان کے ذریعے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جو قدیم و جدید ، روایت سے آزادی ، اضافیت ، نئی سوچ کو فروغ ، شعور کی براہ راست کھوج اور ٹھہراو میں ہلچل دینے کا نام ہے۔

نوٹ : اس عمل کو فائنل شکل دینے کے دوران کسی سے مشاورت درکار ہو تو ضرور لے لینی چاہئیے تاکہ مزید پختگی ، اصلاحاتی ، اشاعتی اور دریافتی عمل کو پایہ تکمیل تک لے جانے میں آسانی ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے