انجنیئر محمد علی مرزا کی شطحیات یعنی بونگیاں

یٹنگ ٹائم
سیلف ٹرِمڈ امام الوقت مرزا صاحب اپنے خطباتِ حجرہ شریف میں فرماتے ہیں کہ حضرت معین الدین چشتی نے نوے لاکھ مسلمان کیسے کر لئے، اتنی تو اسوقت ہندوستان کی آبادی ہی نہیں تھی، اخے جھوٹ ماردے نے، یہ بیان فرسٹ کمنٹ میں درج ہے۔
مرزا صاحب نے ایک اور پریسیڈینٹ بھی سیٹ کیا ہے کہ جس چیز کا کوئی سر پیر نہ ہو اسے شطح کہتے ہیں جس کی جمع شطحیات ہے اور اس کا معنی ہے "بونگیاں مارنا”۔
کبھی فرصت ملی تو شطحیات پر بھی بات کریں گے فی الحال ہم یہ دیکھیں گے کہ ان کا آبادی والا بیان بھی شطحیات کی مجوزہ تعریف میں آتا ہے یا واقعی کوئی علمی کتابی اسٹانس ہے۔
حضرت معین الدین چشتی صاحب بارھویں صدی کی آخری دہائی میں ہندوستان تشریف لائے تھے، ان کا سنِ وفات، 1236، ہے، یوں آپ نے اجمیر شریف میں تقریباً چھیالیس سال تک دین کی تبلیغ کی ہے۔
ہم اپنی گفتگو میں مختلف ادوار کی بات کریں گے لیکن آپ نے بالخصوص یاد رکھنا ہے کہ ہم نے 1236 میں ہندوستان کی آبادی دریافت کرنی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جودھپور یونیورسٹی بھارت کے شعبۂ تاریخ کے پروفیسر کے ایس لال صاحب نے "گروتھ آف مسلمز ان میڈیوال انڈیا” کے نام سے سن تہتر میں ایک کتاب لکھی تھی جس میں قبل مسیح سے لیکر برٹش دور تک کی آبادی ڈسکس کی ہے۔

انہوں نے سن 1000 سے 1800 تک دیگر تاریخدانوں کا مرتب کردہ ڈیٹاسیٹ بھی فراہم کیا ہے اور ایزمپشنل ڈیٹا کو رد کرنے کیلئے ایک ڈاکومنٹری ایویڈینس کی بنیاد پر خود کی ایک میتھڈولوجی بھی متعارف کرائی ہے جو اب تک باقی سب سے معتبر خیال کی جاتی ہے۔

اس دور میں جو سورس دستیاب ہیں وہ عرب تاریخدانوں، جغرافیہ دانوں اور سیر بینوں پر مشتمل ہیں جن میں ابن بطوطہ، البیرونی، علامہ بلاذری، عتبی، بیہقی، ابن الاثیر، المسعودی، ابوالقاسم فرشتہ، ضیاءالدین بارانی، شمس سراج عفیف اور اکبر کا مؤرخ ابوالفضل شامل ہیں۔
ان سب لوگوں نے جو ڈیٹا سیٹ فراہم کیا ہے وہ نظام حکومت کے خدوخال، عوام کی سماجی حیثیت یعنی لائف اسٹائل، خوشحالی، زراعت، صنعت و حرفت، تجارت، شہروں، قصبوں، دیہاتوں اور لشکروں کی تعداد پر مبنی ہے۔

ان معلومات کو دیکھنے سے ایک تصویر یہ بنتی ہے کہ اسوقت کا برصغیر موجودہ ہندوستان یعنی بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے کافی زیادہ بڑا تھا، اس میں چین اور افغانستان کے کئی علاقے بھی شامل تھے، دوسری یہ کہ اس کے شہر اور قصبے گنجان آباد تھے، تیسری یہ کہ زراعت، دستکاری، سپائسز، تجارت اور برآمدات کی بدولت یہ اس قدر خوشحال خطہ تھا کہ اس کے کئی شہر اس دور کے ترقی یافتہ مغربی دنیا کے شہروں کے ہم پلہ تھے جس میں قاہرہ سے مماثلت بھی شامل ہے۔

بطور حوالہ اول دور میں وہ انڈس ویلی کے تہذیبی آثار کو پیش کرتے ہیں اور میڈیوال کے دور میں عمومی طور پر تمام ہسٹورین نے تقریباً ہر دور کو اچھا کہا ہے بالخصوص تغلق، فیروز شاہی اور اکبرشاہی دور کو نمایاں قرار دیا ہے۔

آبادی کے متعلق ڈاکٹر پران ناتھ کے مطابق سن 300 قبل مسیح میں برصغیر کی آبادی 100 سے 140 ملین یعنی دس سے چودہ کروڑ کے قریب تھی لیکن پروفیسر کنگسلے ڈیوس نے اس اکاؤنٹ کو حقیقت سے فروتر قرار دیا ہے، صفحہ 26۔
لوئر سائڈ پر بات کرنیوالا ہسٹورین کولن کلارک ہے جس کے مطابق سن 14 عیسوی میں سات کروڑ تھی، سن 35 سے 800 تک ساڑھے سات کروڑ تھی اور سن 1000 میں اگین سات کروڑ تھی۔
یہ بھائی اگر اگلی تین صدیوں کی بات بھی کرتا تو بھاؤ بڑھائے بغیر بھی 1236 کی آبادی کو سات کروڑ تو ضرور تسلیم کرتا۔
چھ سے آٹھ صدی قبل مسیح کے برہمن لٹریچر میں لکھا ہے کہ اسوقت کھیتوں میں چلانے والا ہل اتنا بڑا تھا کہ اس کو چلانے کیلئے چوبیس بیل جوتنے پڑتے تھے۔
بدھا لٹریچر کے مطابق چار سے سات صدی قبل مسیح کے دور کی سمندری تجارت یعنی ایکسپورٹ بیبیلون تک جاتی تھی اور برصغیر کی اکانومی تقریباً سولہ صدیاں بعد کی ترقی یافتہ مغربی دنیا کے برابر تھی، صفحہ 27۔
وہ سارے دور چونکہ شماریات کو آج کی طرح ریکارڈ کرنے سے قاصر تھے اسلئے مختلف تزکروں کی بنیاد پر زمینی احوال کو جوڑ کے ایک لارجر تصویر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جب اکانومی کا لیول یہ تھا تو اس کے پیچھے ایک بڑی مین پاور کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔
اس کا ثبوت اشوکا کی راجدھانی اور چندرگپت موریا سے ملتا ہے جو تین صدیاں قبل مسیح کے لوگ تھے، موریا کے پاس سات لاکھ کی اسٹینڈنگ آرمی تھی، اتنی بڑی آرمی افورڈ کرنے کیلئے بہت بڑے ریوینیو کی ضرورت ہے اور اتنا ریوینیو دینے والی قوم عددی اعتبار سے بھی وسیع تر ہونی چاہئے۔
پھر 942 عیسوی کی راجدھانی قنوج کے بارے میں المسعودی نے لکھا ہے کہ اس کے پاس چہار اطراف سے دفاع کرنے کیلئے الگ الگ آرمی۔ز تھیں اور ہر ایک آرمی میں سات لاکھ سے نو لاکھ فوجی متعین تھے۔

ازمپشن نکالنے کا طریقہ ہم آلریڈی ڈسکس کر چکے ہیں کہ جہاں ایک سنگل راجدھانی اٹھائیس لاکھ کی آرمی افورڈ کر رہی ہے اس کا ریوینیو کیا ہوگا اور وہ پیسہ فراہم کرنیوالی آبادی کتنی بڑی ہوگی اور پھر اس کیساتھ دیگر راجدھانیوں کو ملا کر دیکھا جائے تو برصغیر کی کل آبادی کتنی بنے گی۔ صفحہ 30۔
جتندرا موہن دتہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ تاریخ فرشتہ کے مطابق برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے وقت مقامی آبادی ساٹھ کروڑ تھی لیکن یہ بات فرشتہ میں مجھے نہیں ملی البتہ فرشتہ نے برصغیر کی زرخیزی، خوشحالی، وسعت اور آبادی کا جو نقشہ کھینچا ہے اس سے باآسانی فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ دو سو سے تین سو ملین یعنی بیس سے تیس کروڑ کے درمیان ہونی چاہئے۔ صفحہ 32۔
دتہ نے ایک بات اور بھی لکھی ہے کہ ترکوں کے دور کی آبادی اکبر کے دور کی آبادی سے کافی زیادہ تھی، صفحہ 32۔
یہاں ترکوں سے مراد ایبک، بلبن، تغلق، التمش ڈائناسٹیز ہیں، اکبر کے دور میں کمی کیوں ہوئی اس کی وجوہات میں وار کلنگ، قحط سالی، وبائی امراض شامل ہیں، پھر بھی اکبر کی رعایا تقریباً 170 ملین یعنی سترہ کروڑ تھی اور اس کے پاس چوالیس لاکھ کی آرمی تھی۔

ابوالفضل نے اکبر اور سلیم کا ایک ڈائیلاگ نقل کیا ہے جس میں سلیم رعایت دینے کی بجائے فورسڈ کنورژن کا کہتا ہے اور اکبر کہتا ہے نہ بیٹا، ہم چھ میں سے ایک ہیں، ایک کی بالادستی کیلئے پانچ پر سختی کریں گے تو زراعت، صنعت، حرفت، سپاہ گری، بیوروکریسی میں مشاق قومیں بددل ہو جائیں گی اسلئے پھلتا پھولتا نظام خراب کرنے سے درگزر کرنا بہتر ہے۔
اکبر کا دور 1600 کے قریب اینڈ ہوتا ہے، اسوقت چھ میں سے ایک بندہ مسلمان ہے تو پھر ان کی تعداد تین کروڑ کے قریب بنتی ہے۔
1236 اور 1600 کا فرق نکالیں تو تقریباً ساڑھے تین صدیاں بنتی ہیں، ہسٹورینز کے مطابق فی صدی گروتھ ریٹ دس فیصد اور حوادث جب کبھی بھی رونما ہوئے ان کا ریٹ منفی بیس فیصد تھا، پھر اس کے اوپر پروجیکٹائل افیکٹ لوڈ کریں مثلاً ایک بندہ مسلمان ہوا تو وہ اپنی فیملی کو بھی لے آیا، پھر ایک دوسرے کو، دو مل کے چار کو لے آئے، یہ سب افیکٹ ملا جلا کے اس عرصے میں نیٹ ستر فیصد گروتھ دے رہے ہیں تو بھی بہت ریپڈ گروتھ سمجھنی چاہئے۔

صوفیاء کے حوالے سے لال صاحب نے کنورژن کا انکار کیا ہے کیونکہ وہ اس کا الزام بادشاہوں کے جبر اور تلوار کی طاقت پر ڈالتا ہے لیکن اس بات کو اسنے بہرحال تسلیم کیا ہے کہ نچلے طبقات کو جب نوبل مسلمانوں کے برابر ہیومن رائٹس ملتے تھے تو وہ مزاحمت کی بجائے کنورژن ہی پسند کرتے تھے اور خوش بھی رہتے تھے بلکہ انعامات اور عہدے بھی پاتے تھے۔
البیرونی کے سو سال بعد الادریسی نے بارھویں صدی کے برصغیر بارے جو نقشہ کھینچا ہے وہ بھی دوسروں سے کچھ مختلف نہیں البتہ یہ نقشہ سندھ، دیبل اور دیگر ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ہے، صفحہ 36۔
اس کے بعد پروفیسر لال نے یہ بتایا ہے کہ محمود کی آمد سے قبل سن 1000 میں یہاں کی آبادی بیس کروڑ تھی لیکن حملوں کے کارن اگلی دو صدیوں میں گھٹ کے پندرہ کروڑ رہ گئی تھی، اس میں قحط سالی اور وبائی امراض پھوٹنے کی وجوہات بھی شامل ہیں۔
لال صاحب کی اس بات کا مطلب ہے کہ بارھویں صدی کے آخری عشرے میں حضرت معین الدین چشتی صاحب کی آمد کے وقت یہاں کی آبادی پندرہ کروڑ تک موجود تھی۔
ہندوستان میں پہلی مردم شماری محمد بن تغلق نے کرائی تھی جب اس کی سلطنت میں قحط سالی آگئی تو عوام تک سرکاری ریلیف پہنچانے کیلئے انہوں نے پوری قوم کی گنتی کرائی تھی لیکن اس کا ریکارڈ کہیں دستیاب نہیں ہو سکا۔

اس دور میں جو باتیں لکھی پڑھی ملتی ہیں وہ شمس سراج عفیف کے ذریعے ملتی ہیں، انہوں نے فیروز شاہ تغلق کا سالانہ ریوینیو جو ریکارڈ کیا ہے وہ چھ کروڑ پچھتر لاکھ ٹنکا تھا، 67,500,000۔ صفحہ 49۔
ٹنکا ان کی کرنسی تھی، اور ٹیکس ریٹ پروڈکشن کی ویلیو کا تیسرا حصہ تھا، اس حساب سے کل پروڈکشن کی ویلیو بنتی ہے:
67٫500٫000 x 3 = 202,500,000 tankas
اب انہوں نے اگلا حساب پیش کیا ہے کہ بیس کروڑ پچیس لاکھ ٹنکا مالیت رکھنے والے اناج کی کوانٹیٹی کیا ہوگی؟
اس وقت ایک ٹنکا میں ساڑھے تین مَن اناج آتا تھا، تو وزن یہ ہوگا۔
202٫500,000 x 3.5 = 708,750,000 maunds
اس میں سے ایک حصہ سرکاری ریوینیو میں چلا گیا ایک حصہ مال مویشی اور زرعی مقاصد کیلئے مختص کر دیں جو کہ اس کام کیلئے کافی سے بھی زیادہ ہے اور بقیہ ایک حصہ انسانوں کی خوراک سمجھ لیں تو اندازاً کتنی آبادی کو کیٹر کرے گا؟

اس کا حساب انہوں نے سن تہتر کی ضروریاتِ خوراک سے لیا ہے جس کے مطابق ایک بندہ سال میں ساڑھے پانچ من گندم کھاتا ہے، یعنی دو سو گرام کی نو روٹیاں روز کی، اس حساب سے اس وقت کی آبادی 43 ملین کے قریب ہونی چاہئے یعنی چار کروڑ تیس لاکھ پیپلز۔
فیروز شاہ کے پاس اسوقت ہندوستان کا صرف پچیس فیصد علاقہ تھا، بقیہ تین حصوں کی آبادی بھی ملائی جائے تو کل ملا کے 172 ملین بنتی ہے۔
فیروز شاہ کا دور 1388 پہ اینڈ ہو جاتا ہے اور ہمیں فگر چاہئے 1236 کا، لعل صاحب نے گروتھ اور ڈیکلائن کا جو چارٹ دیا ہے وہ دس فیصد فی سینچری ہے، آپ پندرہ فیصد کم کر لیں، محمد بن تغلق کے دور میں قحط آیا تھا آپ بیس فیصد اس کے بھی کم کر لیں۔
یہ بُغدا پھیرنے کے بعد بھی 1236 میں ترک سلطنت کے اندر حضرت معین الدین علیہ رحمۃ کے آس پاس کی آبادی سوا تین کروڑ نفوس پر مشتمل ہونی چاہئے جبکہ پورے ہندوستان کی آبادی سترہ کروڑ کے قریب تھی۔

محمود الحسن گنگوہی صاحب نے فتاویٰ محمودیہ جلد چہارم صفحہ 556 پر لکھا ہے کہ لوگ جوق در جوق مسلمان ہوئے تھے لیکن تعداد معلوم نہیں البتہ نوے لاکھ والی بات کسی عیسائی مصنف نے لکھی ہے، عیسائی سے مراد انگریز، اور وہیں سے لوگوں نے کاپی کی ہے۔
مرزا صاحب !
میں ایسی ہِٹ نہیں مارنے والا کہ بال پیویلین سے باہر چلی جائے البتہ یہ ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ شطحیات کا مطلب واقعی بونگیاں مارنا ہوتا ہے؟ اور بونگیاں مارنے والے کو بونگا کہیں گے یا ادب کیساتھ شطحیہ کہیں گے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے