معاشرے میں قبولیت کی جدوجہد،خواجہ سراء سابق وزیراعظم کے مدمقابل انتخابی میدان میں

ضلع ملتان میں سب سے پہلے حلقہ این اے 148 سے خواجہ سراء حاجی سعید نرگس نے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ حاجی سعیدنرگس اسی حلقہ سے سال 2018ء کے انتخاب میں بھی حصہ لے چکی ہیں ۔ دلچسپ امر یہ کہ گزشتہ انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ممبر قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی کا مقابلہ کیا جبکہ آنے والے انتخابات میں عبدالقادر گیلانی کے والد سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے علاوہ سابق ممبر قومی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہڑ کے مدمقابل ہوں گی۔

نرگس کا کہنا ہے کہ اُن کی جدوجہد اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی سماج میں اُن کی برادری کی قبولیت کے لیے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی خواجہ سراؤں کی سماجی حثیت ان جماعتوں نے بھی قبول نہیں، جو سب کے حقوق کے لئے اعلانات کرتی ہیں ، انہیں اپنا امیدوارنہیں بنایاجاتا ہے ،اس لئے وہ آزادحثیت میں انتخاب میں حصہ لیتی ہیں لیکن اگر کوئی جماعت انہیں امیدوار بنانا چاہے تو بن سکتی ہیں۔انہوں نے انتخابی اخراجات کے حوالے سےپریشانی کا اظہارکیاکہ وہ معاشی طور پر کمزور ہیں ،تاہم خواجہ سراء برادری ان کے لئے چندہ اکٹھاکرکے اخراجات کرے گی۔

حاجی سعید نرگس کا کہنا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں لوگوں نے انھیں ووٹ دینے سے ذیادہ مذاق کا نشانہ بنایا لیکن وہ اپنی برادری کے حقوق کے لئے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی اور نہ ہی امیدواروں کی خرید و فروخت کا حصہ بنیں گی۔ انہوں نے اپنے حلقے میں انتخابی مہم کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کہا، "مجھے ایک موقع دیجیے۔ آپ کا دیا ہوا ووٹ میری شناخت بنے گا” وہ دوسری بار قومی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ۔ نرگس جانتی ہیں کہ اس حلقے میں بااثرگیلانی، قریشی اور مخدوم خاندان کی موجودگی میں اُن کی جدوجہد بے سود ہے لیکن وہ پھر بھی ٹرانسجینڈر کمیونٹی کو سوسائٹی میں شناخت اور قبولیت دلوانے کے لیے زور و شور سے اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسلامی جمہوری ریاست میں سب کو برابری کے حقوق دینے اور آزاد زندگی جینے کا رول ماڈل پیش کیا گیا لیکن بدقسمتی سے ہم مذہب کے احکامات اور ملک کی بنیاد کے اصولوں سے روگردانی کر کے نہ صرف اقلیت میں موجود طبقات کے حقوق غصب کرگئے بلکہ ان کے حقوق کی پرواہ نہیں کرتے ہوئے ان اقلیتی طبقات کو صرف فرائض کی انجام دہی پر مجبور کئے رکھا اور یہ اس مذہب کے ماننے والوں اور اس ملک کے رہنے والوں کے لئے ایک بدنما داغ ہے کہ دوسرے ممالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے ہمیں ہماری میراث انسانیت کا نہ صرف درس دینے کی کوشش کی بلکہ ہمارے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو حقوق دینے اور ان کے لئے کام کرنے کا پہلے پہل کہا اور پھر معاشی معاملات کے بدلے ایسی شرائط عائد کیں کہ ہم مذہبی اقلیتوں، خواتین، بچوں، قیدیوں اور خواجہ سراء افراد کے لئے قانون سازی کرنے پر مجبور ہوئے ۔

مقامی سماجی تنظیم کی کوآرڈینیٹر سدرہ بلوچ نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں سال 2022ءکے سیلاب میں امدادی سرگرمیوں کے دوران جہاں دیگر طبقات مشکلات کا شکار نظر آئے وہیں خواجہ سراء افراد کی حالت زار بہت دل گرفتہ تھی کہ سیلابی علاقوں میں خوشی کی تقریبات ختم ہونے کی وجہ سے خواجہ سراؤں کی آمدن کے زرائع ختم تھے اور کوئی انہیں متاثرہ انسان تک سمجھنے کو تیار نہیں تھا،جنہیں نہ تو امداد دی جاتی تھی اور نہ ہی امداد لینے والوں کی قطاروں میں کھڑا ہونے دیا جاتا تھا بلکہ تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

قیام پاکستان کے تقریباً 53 سال بعد تک خواجہ سراء افراد کے حقوق کے لئے کوئی خاص آواز ہی بلند نہیں کی گئی ۔ سال 2001ء میں خواجہ سراء افراد کو ان کے حقوق دلانے کے لئے کام کا آغاز کیا گیا ۔ جس کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے مایوس ہو کر سال 2009ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے پر خواجہ سراؤں کی سماجی حیثیت کے بارے میں ایک درخواست پر حکومت کو یہ حکم دیا تھا کہ ملک میں رہنے والے خواجہ سراؤں کے بارے میں کوائف اکٹھے کرنے کے لیے ان کا اندراج کیا جائے۔ عدالت کے اس حکم پرحکومتی سطح پر خواجہ سراؤں کے اندراج کے لیے صر ف صوبہ پنجاب میں کام شروع کیاگیا۔ یہ کام صوبائی محکمہ سماجی بہبود کے ذمہ تھا۔ محکمے نے ایک فارم ترتیب دیا ہے جو صوبے کے تمام اضلاع میں محکمے کے ضلعی افسروں کو تقسیم کیا گیا۔ فارم انگریزی اور اردو زبان میں تیار کیا گیا اور اس میں خواجہ سراؤں کے بارے میں مختلف نوعیت کی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے اٹھارہ ’ کالم‘ بنائے گئے ۔ تاہم محکمہ کو صرف 500 فارم ہی وصول ہوئے جبکہ اس وقت محکمہ شماریات کی جانب سے ملک 50 میں ہزار اور پنجاب میں 30 ہزار کے لگ بھگ خواجہ سراء بتائے گئے ۔

ملک میں سال 2017 ء میں کی گئی آخری مردم شماری کے جاری نتائج کے مطابق پاکستان میں خواجہ سرا ء برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 10313 ہے،لیکن اس کمیونٹی کے بڑے ان اعداد و شمار کو نہیں مانتے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے تحت 16 اکتوبر 2022ء کو جاری کی گئی خواجہ سراؤں پر پشاور میں حملے کی ایک رپورٹ اور پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رِٹ پٹیشن نمبر1277/اے/2021 رخسار بنام حکومت خیبرپختوانخواہ میں 22 ستمبر 2022ء کو دئیے گئے فیصلے میں خواجہ سراء برادری کی تعداد 18 لاکھ بتائی گئی ہے۔

پاکستان میں خواجہ سراء افراد کے لئے پہلی مرتبہ باقاعدہ قانون سازی سال 2018ء میں کی گئی،جب پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانون منظور کرایا گیا اور اسے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 ء یا خواجہ سرا ء افراد (تحفظ حقوق) ایکٹ 2018ء کا نام دیا گیا ۔

اس قانون کے نفاذ کے بعد پاکستان میں جہاں تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، کام کی جگہوں، دوسرے عوامی مقامات اور وراثت کے حصول میں حقوق کو قانونی تحفظ دیا گیا ،وہیں مذکورہ قانون کے تحت اپنی جنس کا انتخاب اور اس شناخت کو سرکاری دستاویزات بشمول قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس میں تسلیم کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ ووٹ دینے یا کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا حق دینے کا پابند بناتا ہے۔اسی قانون کے تحت خواجہ سراء افراد نے سال 2018ء کے انتخابات میں نہ صرف پہلی بارحق رائے دہی استعمال کیا بلکہ اپنی شناخت کے تحت انتخابی عمل کا بھی حصہ بنے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ملک بھر سے 3 ہزار 29 خواجہ سرا ءووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ آئندہ عام انتخابات میں مزیدخواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا۔ سال2018 ءکے انتخابات کی نسبت رجسٹرڈ خواجہ سراء ووٹرز کی تعداد میں ایک ہزار 116 کا اضافہ ہوا۔اس وقت سب سے زیادہ رجسٹرڈ خواجہ سراء ووٹرز صوبہ پنجاب میں ہیں، پنجاب میں رجسڑڈ خواجہ ووٹرز کی کل تعداد 2200 ہے،سال 2018 ءکے انتخابات میں پنجاب میں رجسٹرڈ خواجہ سرا ءووٹرز کی تعداد ایک ہزار 356 تھی۔ واضح رہے کہ مذکورہ تمام خواجہ سراء ایکس کارڈ کی بنیاد پر رجسٹرڈ ہوئے اور ذیادہ تر ووٹرز آن لائن سسٹم کے تحت خود رجسٹرڈ ہوئے۔

خواجہ سراء بلال عرف بلالی نے بتایا کہ نادرا سے ایکس کارڈ بنوانے کے لئے پہلے سوشل پروٹیکشن اتھارٹی سے رجسٹریشن کےعمل سے گزرنا پڑا ،جس میں گرو کی تصدیق ضروری ہے اور اس کے بعد معمول کی کارروائی میں کارڈ بنادیا جاتاہے۔بلالی نے بتایا کہ گزشتہ انتخابی عمل میں ان کے ووٹ مردانہ پولنگ اسٹیشن میں درج کئے گئے تھے، جہاں انہیں لوگوں کے مذاق اور حرکات کا نشانہ بننا پڑاجس کی پولیس کوشکایت کی گئی تو انہوں نے بھی مذاق ہی بنا ڈالا، اس لئے آئندہ انتخابات میں انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن جنس کی تفریق کے بغیر تمام اہل افراد کو ووٹ ڈالنے کا حق دیتا ہے، خواجہ سراؤں کو اپنا ووٹ رجسٹرڈ کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرپور اقدامات کئے گئے ، پولنگ ڈے پر بھی خواجہ سراؤں کو ووٹ ڈالنے کے لیے الیکشن کمیشن اقدامات کرے گا۔ اس کے لئے پہلے خواجہ سراؤں کے نمائندگان کے ساتھ اجلاس منعقد کئے جائیں گے اور ان کی تجاویز کی روشنی میں اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

جنوبی پنجاب میں ہیوی ٹریفک وہیکل لائسنس حاصل کرنے والی پہلی خواجہ سراء شاہانہ عباس عرف شانی ضلع مظفر گڑھ سے تعلق رکھتی ہے اور وہ بھی آئندہ قومی انتخابات میں بطور امیدوارحصہ لینے کے لئے پرجوش ہے۔اس حوالے سے شاہانہ شانی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خواجہ سراؤں نے سال 2009ء سے اپنے حقوق کے حصول کے لئے باقاعدہ اور منظم جدوجہد شروع کی ہے اور معاشرے میں ان کا وجود اور حقوق تسلیم کرنے والے بہت تھوڑے سہی لیکن موجود ضرور ہیں۔ اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ عوام جس طرح روایتی سیاستدانوں سے مایوس ہو چکے ہیں ،ہم سیاست کے میدان میں بھی آئیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے عوام کے لئے بھی جدوجہد کر کے ان کو بھی حقوق دلائیں اور اپنے علاقوں کی پسماندگی دور کرکے ترقی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ راستہ کٹھن ضرور ہےلیکن ایک روز پاکستان میں بھی خواجہ سراء بطور عوامی نمائندے اسمبلیوں میں موجود ہوں گے۔

خواجہ سراؤں کے حوالے سے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کےفرحان احمد کے مطابق سپریم کورٹ نے سال 2009ء میں خواجہ سراؤں کے اندراج کا حکم دیا تو اس کے بعد خواجہ سراء اس خوف سے روپوش ہوگئے کہ اب ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی۔اس طرح اب تک بھی گرواپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئےخواجہ سراؤں کی سوشل سیکورٹی اور نادراو الیکشن کمیشن میں اندراج میں رکاوٹ ہیں کیونکہ انہیں خوف رہتا ہے کہ خواجہ سراء تعلیم یافتہ یا برسرروزگار ہونے کے ساتھ خود امداد حاصل کرکے خودمختار ہوجائیں گے،جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی آمدنی ختم ہوجائےگی بلکہ ان کی خواجہ سراؤں پراجارہ داری بھی ختم ہوجائے گی، تاہم خواجہ سراؤں کے اصل اعداد و شمار جاننے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے اور ان تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اصل اعدادو شمار سامنے آئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں جو مردم شماری ہو اس کا حصہ خواجہ سراؤں کو بھی بنایا جائےتاکہ اس طرح ان کی ملک میں تعداد کے بارے میں درست اعداد وشمار حاصل ہوسکیں۔

خواجہ سراؤں کی ایک تنظیم کی رضوانہ ناصرنے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سال 2009ء سے خواجہ سراء افراد کے حقوق کے لئے کوششیں جاری ہیں اور سال 2011ء میں پہلی مرتبہ ان کی رجسٹریشن کے احکامات بھی دئیے لیکن بہت سی وجوہا ت کی بناء پر سال 2018ء میں قانون بنا اور ان کی رجسٹریشن و دیگر حقوق کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ساتھی ممالک بھارت اورسری لنکا کی طرح پاکستان میں خواجہ سراء بھی پارلیمنٹ کا حصہ بن کر اپنی کمیونٹی کے لئے فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے