شناخت کی لڑائی انتخابی میدان میں لے آئی ہے

ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی عام انتخابات کی تیاریاں ضورو شور سے چل رہی ہیں۔ جہاں تمام سیاسی پارٹیز جوش و خروش کے ساتھ الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہیں اس بار خواجہ سراؤں کی جانب سے بھی پچھلے انتخابات کی نسبت اس بار الیشکن میں بھر پور طریقے سے حصہ لینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اسی حوالے سے ملتان سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الحاج سید نے بھی انتخابات کے میدان میں ایک بار پھر اترنے کا فیصلہ کیا ہے ، جس پہ خواجہ سراؤں کی برادری کی جانب سے جشن منایا جارہا ہے اور نرگس کی بھر پور طریقے سے حمایت کی جارہی ہے۔

70 سالہ الحاج سعید نرگس اس بار این اے 148 سے سید یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں انتخابات میں اتریں گی انکا کہنا ہے کہ انکا سیاسی سفر کبھی بھی آسان نہیں تھا اور نہ ہی ہے خواجہ سراؤں کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ لوگ انہیں خواجہ سرا سمجھنا تو دور کی بات انسان ہی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ 12 سال کی عمر میں ہی انہیں انکے گھر والوں نے اپنانے سے انکار کر دیا تھا پھر وہ خواجہ سراؤں کے ڈیرے پہ آکر رہنے لگی، اسکے بعد انہوں نے اپنی تعلیم بھی چھپ چھپ کر حاصل کی۔

نرگس کا کہنا تھا کہ انہوں نے بی اے یہ ہی سوچ کر کیا تھا کہ ایک دن معاشرے کی سوچ ضرور بدلوں گی 2013 کے انتخابات میں بھی این اے 151 سے انتخابات میں حصہ لیا تھا مخالف حریفوں میں سابق یوسف رضا گیلانی کے صاحب زادے سید عبدالقادر گیلانی اور سابق وفاقی وزیر سکندر حیات بوسن تھے۔

2103 کے انتخابات میں جب میں نے اپنی مہم کا آغاز کیا تو مخالف پارٹیوں کے بڑے بڑے لیڈرز کے منہ سے یہ سنا کہ کیا اب ہجڑے ایوانوں میں بیٹھے گے ؟ کیا اب لیڈر ناچ کر دیکھایا کریں گے ؟ کیا اب ہمارے مد مقابل یہ لوگ آئیں گے ؟ یہ لفظ ایسے چھبتے تھے جیسے کسی نے تیر مار ڈالا ہو مگر ہم تو بچپن سے ہی بہادر ہیں ہمیں یہ سب برداشت کرنا اور سہنا آتا ہے لیڈر صرف لیڈر ہوتا ہے چاہے وہ خواجہ سرا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ فیصلہ انصاف کا اور لوگوں کی بھلائی کا ہونا چائیے۔ اس سے کیا فرق پڑھتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے کی جنس کیا ہے ؟؟؟ 2013 میں مخالف پارٹیوں کی نظر میں ضرور ہاری تھی مگر میں اس دن جیت گئی تھی میرے لیے 1490 ووٹ حاصل کرنا جیت تھی اور آنے والے انتخابات میں دوبارہ میدان میں اتری ہوں یقیناً اس بار کے نتائج مخالف پارٹیوں کو ضرور حیران کریں گے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والی خواجہ سراؤں کی 55 سالہ سربراہ سلما کاکی کا کہنا تھا کہ ہماری جیت تو 2009 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہوئی تھی۔ جب ہماری جنس کو شناخت ملی تھی اور ہمیں شناختی کارڈ بنوانے کا اختیار حاصل ہوا تھا۔ اسکے بعد ملک بھر میں بسنے والے 5 لاکھ خواجہ سراؤں نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا اور انتخابات میں اپنا حصہ ڈالا تھا جبکہ چند حلقوں سے خواجہ سرا الیکشن کے لیے بھی کھڑے ہوئے تھے۔ البتہ آج بھی ہمارے لوگوں کو شناختی کارڈ بنوانے کے لیے مشکل کا سامنا ہے۔ ہمارے 22 خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ ابھی تک نہیں بن سکیں ہیں۔ ہمیں ہماری جنس کی پہچان دلوانے کے لیے بھی لڑائی لڑنی پڑھتی ہے۔ ہسپتالوں کے دھکے کھانے پڑھتے ہیں۔ ان ہسپتالوں کے جہاں عام آدمی کے لیے بیڈ تک میسر نہیں تو وہ ہمارے شناختی کارڈ کے لیے طعبی معائنے کا وقت کیسے نکالیں گے ؟

اسے میں ہمارے کسی اپنے کا انتخابات میں کھڑے ہونا ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہم چاہتے ہیں خواجہ سراؤں کے لیے بھی نشستیں مختص کی جائے تاکہ ہمارے مسئلے بھی ایوانوں تک پہنچ سکیں ہم بھی انسان ہیں۔ ہمیں بھی آزادانہ طریقے سے رہنے کا اس ملک میں حق ہے۔ ہمیں سیاسی پارٹیاں صرف الیکشن کے لیے ہی کیوں استعمال کرتی ہیں بعد میں ہمیں بھول کیوں جاتی ہیں ؟؟

جنوبی پنجاب میں خواجہ سراؤں کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم وسیب سنوارون کے پروگرام منیجر کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو ووٹ کی آگاہی دینا بھی بہت ضروری ہے۔ انہیں بھی پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح طریقے سے استعمال کریں۔ آج ہمارے خواجہ سرا ڈاکٹر بھی ہیں، پی ایچ ڈی بھی ہیں اور استاد بھی ہیں مگر کیا انہیں انکے پیشے کے مطابق اجرت اور عزت ملتی ہے؟ نہیں آج بھی انکے ساتھ معاشرے میں زیادتی کی جاتی ہے۔ انکی جنس کی بنیاد پہ ان سے انکا حق چھینا جاتا ہے۔ کیا ہر محکمے میں خواجہ سراؤں کے لیے بھی مخصوص سیٹ نہیں ہونی چائیے ؟؟؟ کیا آج بھی خواجہ سرا پبلک ٹرانسپورٹ عام لوگوں کی طرح استعمال کر سکتے ہیں؟ کیا کبھی ایوانوں میں خواجہ سراؤں کے قتل انکے حقوق کے لیے بات کی گئی ؟؟؟ کیوں خواجہ سراؤں کے لیے مخصوص نشست نہیں میسر ؟؟؟

ہمارے حکمران چاہتے ہیں کہ بس یہ تالی بجا کر بھیک مانگیں۔۔۔ نہیں آجکا خواجہ سرا اپنے حق کے لیے ضرور تالی بجائے گا بھیک کے لیے نہیں لوگوں کا خواجہ سراؤں کے ساتھ برا روایہ اسی دن ختم ہو جائے۔ جس دن اس ملک میں خواجہ سراؤں کے رہنے سہنے کے معتلق قانون بنا دئیے جائے انتخابات میں خواجہ سرا جب ووٹ ڈالنے جاتے ہیں تو ان کو طعنے دیے جاتے ہیں تالی بجا بجا کر انکا مذاق بنایا جاتا ہے۔ کیا انتخابات میں سیکیورٹی خواجہ سرا ووٹرز کا خیال کرتی ہے ؟؟؟ لوگوں کو بتانا ضروری ہے کہ یہ بھی انسان ہے اور یہ انکا بھی ملک ہے ۔ انہیں آزادانہ طریقے سے رہنے کا اس ملک میں حق ہے۔

ڈائیریکٹر الیکشن کمیشن بابر ملک کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بنا کسی تفریق کے خواجہ سراؤں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں خواجہ سراوں کے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 ہزار 29 ہے اور سب سے زیادہ تعداد پنجاب میں ہے۔

اس وقت پنجاب میں رجسٹرڈ خواجہ سرا ووٹرز کی تعداد 2200 ہے جبکہ 2018 میں یہ ہی تعداد ایک ہزار 356 تھی جبکہ الیکشن کمیشن کے ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 7 کڑوڑ سے زائد ہے جبکہ یہ تعداد 2018 مین 6 کڑوڑ 6 لاکھ تھی۔ یہ خواجہ سراؤں کے لیے ایک مثبت تبدیلی ہے یعنی انکے شناختی کارڈز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن نادرا سے ڈیٹا وصول کر کے ووٹرز کو رجسٹرڈ کرتا ہے اور اس سال الیکشن کمیشن کی جانب سے خواجہ سراؤں کی کاغذات نامزدگی ہو یا پھر ووٹرز کا ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار سب کو آسان ترین بنایا گیا ہے۔ خواجہ سراؤں کے اندراج کے لیے فارم 21 پہ الگ خانہ بنایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے خواجہ سراؤں کو نظر انداز بلکل بھی نہیں کیا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے