5 جنوری 1949 کشمیر کے 2 کروڑ عوام کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، نہ کے اسے فخر سے منانے کا! کیونکہ یہ وہ دن تھا جب ہندوستان اور پاکستان نے ہمارے وطن کو تقسیم کرنے کا پس پردہ سفارتکاری کے ذریعہ غیر اعلانیہ معاہدہ کیا اور اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو صرف بھارت یا پاکستان سے الحاق سے مشروط کیا۔یعنی آذادی خودمختاری کا حق چھین کےدو آقاوٗں میں سے ایک آقا کو چننے کا۔
تاہم ایک کشمیری عوام کی حیثیت سے میں اور جموں کشمیر کے عوام معاہدے اور قرارداد کو مکمل طور مسترد کرتے ہیں اور مکمل آزادی کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں۔
میرا آج کا یہ مضمون ہمارے مطالبہ آزادی کو محدود و مشروط مسترد کرنے کے پیچھے کی وجوہات پر روشنی ڈالتا ہے۔
5 جنوری 1949 کو ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان پس پردہ دو طرفہ مذاکرات کے بعد اقوام متحدہ سے ایک نئی قرارداد حاصل کی گئی۔ جس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر ڈاکہ ڈالا گیا اور میں حیران ہوں کہ ڈاکہ زنی کی واردات پر ہر سال یوم یکجہتی کہہ کر جشن منایا جاتا ہے۔
افسوس کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور 13 اگست 1948 کی قرارداد میں ہمارے غیر محدود اور غیر مشروط حق خودارادیت کو برقرار رکھنے کے بجائے یہ معاہدہ محض ایک فریب کا کام کرتا رہا ہے۔ یہ کشمیری عوام کی امنگوں پر حقیقی طور راے شماری یا ریفرنڈم کرانے کے بجائے ان سے کشمیر کو دو ملکوں کے درمیان تقسیم اور قبضہ برقرار رکھنے کے لئیے کشمیری عوام ہی کا ووٹ حاصل کرنے کی چال اور سازش ہے۔
تقسیم کی سازش:
حق خود ارادیت کو بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کے لیے ووٹ دینے سے مشروط کردینا اور انڈیپنڈنٹ کشمیر کے آپشن پر پابندی ہمارے بنیادی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کشمیری آبادی کی جامع اکثریت نے مسلسل آزادی کی اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے، اس کے باوجود اس آپشن کو جان بوجھ کر خارج کر دیا گیا۔ یہ ایک ناانصافی ہے کہ دونوں حکومتوں نے کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمارے وطن جموں کشمیر اور ہمارے خاندانوں کو تقسیم کرنے کی سازش کی۔
مکمل آزادی کا مطالبہ:
کشمیری 5 جنوری 1949 کی حق خود ارادیت کو صرف الحاق سے مشروط کرنے والی قراد داد کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے آزادی کے حق کو تسلیم کرنے اور 13 اگست 1948 کی قراداد کے مطابق جموں کشمیر سے فوجوں کا انخلا اور مکمل آزادی کا حق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہم اپنی تقدیر خود طے کرنے اور اپنی سرزمین کے مستقبل کو تشکیل دینے کی آزادی کے مستحق ہیں۔ اس عالمی تسلیم شدہ حق سے انکار کے نتیجے میں 76 سال سے جاری تنازع، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کشمیری آبادی کے لیے بے پناہ مصائب کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ اور اس کی بنیادی ذمہ دار دونوں حکومتیں ہیں۔
بین الاقوامی مداخلت اور ذمہ داری:
عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سنگین ناانصافی کا ازالہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کشمیری عوام کی آواز سنی جائے اور ان کا احترام کیا جائے۔ ہمیں آزادی کا حق دینا نہ صرف ہماری دیرینہ آبادی کے لیے انصاف کا معاملہ ہے بلکہ علاقائی استحکام اور امن کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔ عالمی برادری کو چاہئیے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کی عجلت کو تسلیم کرے اور اس کے عوام کی امنگوں کو ترجیح دے۔
نتیجہ:
کشمیر کے لوگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ان تمام معاہدوں کو مسترد کرنے میں متحد ہیں جو کشمیر اور کشمیریوں کو تقسیم کرتے ہیں ان کے حق آزادی و خود مختاری کو سلب کرتے ہیں۔ ہم کشمیری عوام اپنے غیر مشروط حق خودارادیت اور حق آزادی کو تسلیم کرنے اور احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔