نیم وزیر!

پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں گزرے دن ناقابل فراموش ہیں، بھرپورجوانی، کالج کا خوبصورت ماحول، صف اوّل کے اساتذہ، ہر قسم کی آلائشوں سے پاک خوبصورت پاکستان اور ہم شرارتی لڑکوں کا ٹولہ! (خود کو لڑکا کہنا کتنا اچھا لگ رہا ہے) اورینٹل کالج کو رکشوں والے اور تانگوں والے ’’کڑیاں دا کالج‘‘ کہتے تھے اور صحیح کہتے تھے کیونکہ یہاں لڑکیاں ہی لڑکیاں زیر تعلیم تھیں ہم لڑکے تو آٹے میں نمک کے برابر تھے مگر کالج کے پرنسپل اور صف اوّل کے اسکالر ڈاکٹر سیّد عبداللہ نے خواتین کیلئے پردے کا خصوصی انتظام کیا ہوا تھا۔ کلاس روم میں لڑکیاں ایک طرف اور لڑکے دوسری طرف بیٹھتے تھے اور انکے درمیان میں لکڑی کی پارٹیشن ہوتی تھی مگر بقول برادرم روحی کنجاہی ؎

حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی

اور فرق پڑ بھی کیسے سکتا تھا خصوصاً جب طرفین ظالم سماج کو خاطر میں ہی نہ لاتے ہوں!

یہ داستان پھر کبھی سہی، اس وقت تو میں نے آپ کا تعارف اپنی ایک کلاس فیلو سے کرانا ہے۔ اس کا نام وزیر بانو تھا مگر اس کی عدم موجودگی میں ہم اسے نیم حکیم کے وزن پر نیم وزیر کہتے تھے کیونکہ اس کی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔ شکل و صورت نارمل اسکے ہاتھ پائوں ٹانگیں سب کام کرتے تھےصرف دماغ کام نہیں کرتا تھا اور ستم ظریفی یہ کہ اس کا سارا انحصار اپنے دماغ پر تھا۔ اسے کالج کا پُرسکون ماحول پسند نہیں تھا چنانچہ وہ اس میں ہلچل پیدا کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ کرتی رہتی تھی۔ دوستوں میں غلط فہمیاں پیدا کرتی تھی اور پھر اس ’’جنگ ِ پلاسی‘‘ کے مزے لیتی تھی۔

اسکے دماغ کی سب سے بڑی کجی یہ تھی کہ اس کے خیال میں کالج کا سارا نظم و نسق اسکے حوالے ہونا چاہئے تھا اسے اپنی ان صلاحیتوں پر بے پناہ اعتماد تھا، ان صلاحیتوں پر جنکی کسی کو ہوا بھی نہیں لگی تھی۔ ایک دفعہ وہ کالج کے الیکشن میں بھی کھڑی ہوئی وہ جس پینل کی امیدوار تھی، اندر خانے اسی پینل کے خلاف کام کر رہی تھی اور مخالف پینل کو یقین دلا رہی تھی کہ اگر وہ اسے کامیاب کرانے میں مددگار بنیں تو کامیابی کی صورت میں انکے مخالفوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی مگر ہماری یہ نیم وزیر بہت جلد دونوں گروپوں کے سامنے ایکسپوژہو گئی، چنانچہ جب الیکشن کا رزلٹ سامنے آیا تو وہی نتیجہ نکلا، جو نکلنا تھا یعنی موصوفہ کو ایک ووٹ بھی نہیں ملا تھا۔

ویسے سچی بات یہ ہے کہ میں اس بے وقوف لڑکی کو مزید بے وقوف بنا کر بہت مزے لیا کرتا تھا۔ میں اورینٹل کالج کے لان میں برگد کے درخت کے نیچے آبیٹھتا تھا، جب کوئی کام نہیں ہوتا تھا، کام سے مراد پڑھائی نہیں بلکہ الٹی سیدھی حرکتوں سے جب فراغت ملتی تھی تو میں برگد تلے آبیٹھتا اور فکر ِسخن کرتا۔ ان دنوں میرے ’’فکر ِ سخن‘‘ کا محور سامنے سے گزرنے والے کسی بھی کلاس فیلو کی ہجو کہنا ہوتا تھا اور میری یہ ہجو دیکھتے ہی دیکھتے پورے کالج میں وائرس کی طرح پھیل جاتی تھی۔

ایک دن میں نیم وزیر کو ’’خراجِ عقیدت‘‘ پیش کرنے کیلئے برگد تلے بیٹھا فکر ِسخن میں مشغول تھا، موصوفہ کی نظر مجھ پر پڑی تو سیدھا میری طرف تشریف لائیں اور بولیں ’’انکل جی، آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟‘‘ یہ ’’عقل کل‘‘ اپنے تمام کلاس فیلوز کو ’’انکل جی‘‘ ہی کہتی تھی، اس کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اپنے دل میں موجود ان کیلئے جو احترام ہے، وہ اس کا اظہار کرتی ہے۔ میں نے کہا ’’بس تمہارے بارے ہی میں سوچ رہا تھا کہ اتنی بے پناہ صلاحیتوں کی مالک خاتون کی قدر نہیں ہو رہی۔ تمہیں تو اس ملک کا وزیر اعظم ہونا چاہئے تھا‘‘۔ بولی ’’بس دعا کریں، جو بات آپ نے کہی ہے وہ ہر زبان پر ہے‘‘۔ اس دوران اس کی نظر میرے سامنے دھرے کاغذ پر پڑی۔ اس نے پوچھا ’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’بس کچھ شعر ویعر کہہ رہا تھا‘‘ اس نے کہا ’’تو کیا مجھے نہیں سنائیں گے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’کیوں نہیں‘‘ اور پھر اپنی نامکمل ہجو کے شعر اسے سنائے۔

عقل سے پیدل، بھاگے فرفر نیم وزیر

خود کو سمجھے سب سے بہتر نیم وزیر

ٹھوکر مار کے گزرے گا ہر اہل وطن

بنو گے جب تم راہ کا پتھر نیم وزیر

جب سے میں نے تجھ کو دیکھا، سوچتا ہوں

کیسا ہو گا تیرا شوہر نیم وزیر

اس کو باہر آنے دو، مت روکو اس کو

اچھا انساں ہوگا تیرے اندر نیم وزیر

وزیر بانو عرف نیم وزیر نے جب میرا یہ کلامِ بلاغت نظام سنا تو غصے میں آ گئی اور کہا ’’یہ شعر تم نے میرے بارے میں کہے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’اے ذہین و فطین لڑکی، یہ تم نے کیسے سوچا؟‘‘ بولی ’’وزیر بانو میرا نام ہے‘‘ میں نے کہا ’’اے پاگل لڑکی، میں وزیر کی نہیں، نیم وزیر کی بات کر رہا ہوں‘‘ پوچھا ’’تو یہ نیم وزیر کون ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ابھی جو الیکشن میں نائب صدر منتخب ہوئی ہے۔ نائب صدر پورا صدر تو نہیں ہوتا نا، وہ تو آدھا ہوتا ہے، جس کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہوتا۔‘‘ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی اور پھر اس نے میرے یہ شعر موٹے فونٹ میں ٹائپ کرا کر سارے کالج کی دیواروں پر چسپاں کرائے۔

میرے خیال میں اس بے وقوف خاتون کا ذکر کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے حالانکہ میں نے ابھی اپنے دورِ طالب علمی کے اور بہت سے واقعات سنانا تھے، اپنے یونیورسٹی فیلوز ضیاء شاہد، گلزار وفا چوہدری، عبداللطیف اختر، سرفراز سیّد، امجد اسلام امجد، احقر نظامی اور کتنے ہی دوسرے ’’تلنگوں‘‘ کا ذکر کرنا تھا۔ان میں سے صرف سرفراز سید الحمدللّٰہ زندہ ہیں اور ہاں ایک کلاس فیلو عبدالغنی فاروق جو ابھی چند روز پہلے اللّٰہ کو پیارے ہوئے ہیں بھی تھے جو ہم سب سے مختلف تھے وہ کالج میں نظریں جھکا کر چلتے بس جس سے ٹکرانا ہوتا اس سے جا ٹکراتے سو یہ سارے ذکر اذکار پھر کبھی سہی، بس آج کے کالم کا ماحول وزیر بانو عرف نیم وزیر ہی کو سمجھیں اور اسی پر گزارا کریں۔

آج کے عہد کے بڑے شاعر ظفر اقبال کی تازہ غزل

ناقابل بیاں کو بیاں کرنے آیا ہوں

کیسی ہے بات اور کہاں کرنے آیا ہوں

اک بے کراں سکوت سے لیتا ہوں سارے کام

خاموشیوں کو اپنی زباں کرنے والا ہوں

پہلے ہی کام راس وہاں اصل میں نہیں

جو اپنی خوش دلی سے یہاں کرنے آیا ہوں

کچھ اس میں ڈوبنے کی سہولت بھی چاہئے

دریا رُکا ہوا ہے، رواں کرنے آیا ہوں

کرنے کا سارا کام پڑا ہے اسی طرح

ان بوڑھی ہڈیوں کو جواں کرنے آیا ہوں

آخر بھرا پرا کوئی گھر چھوڑنے کے بعد

دل ہے کسی کا جس کو مکاں کرنے آیا ہوں

میں خود بھی دستیاب نہیں جس میں بیش وکم

اس دشت بے کسی میں اذاں کرنے آیا ہوں

کیا کچھ لٹا چکا ہوں میں اللّٰہ کی راہ میں

اور جو بچا ہے نذر بتاں کرنے آیا ہوں

جو ہو نہیں سکا تھا وہاں مجھ سے اے ظفر

کس کارکردگی پہ یہاں کرنے آیا ہوں

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے