خامہ خونچکاں اپنا

کچھ نوجوان خواتین نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں نے حالیہ مہینوں میں پاکستان کے بازاروں، کھیتوں، مدارس اور محلوں میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد اور اس کے سرپرستوں اور عذر خواہوں کے بارے میں کوئی کالم کیوں نہیں لکھا ؟

کاش میرے پاس اس بظاہر آسان اور واضح سوال کا سیدھا سادہ اور بر محل جواب بھی ہوتا . لیکن اس سوال نے درد کے کئی بند کواڑ ضرور کھول دِیئے . میں نے ایک عمر گزار دی ان معاملات پر پالیسی سازوں ، پارلیمان اور کمیونٹی گروپس کے ساتھ سرکھپاتے ہوئے ، میڈیا کے توسط سے بھی ان مسائل پر بات کی، جن پر ایک عرصے تک خاموشی کا قفل تھا اور تھیٹر سے بھی آگہی پھیلانے کی کوشش کی . پھر اب بہت سے نوجوان لوگ ان امور پر کام کر رہے ہیں.کچھ لوگ بہت اچھا کام بھی کر رہے ہیں مگر وہ بہت وائرل نام نہیں ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کا چرچا تو بے تحاشا ہے مگر …میں کسی کی لگن کو جانچنا نہیں چاہتی . یہ بہت مشکل میدان ہے .ہمدلی ، مہارت/سکلز اوراحتیاط کی ضرورت رہتی ہے . فی زمانہ ان پر توجہ کم ہے . سب ہی ایکسپرٹ ہیں . سماجی میڈیا اور ورچوئل میڈیا سے معلومات اور محسوسات پہنچے جارہے ہیں. یہ بھی ٹھیک ہے . الجھن مجھے تب ہوتی ہے، جب کسی اجینڈا کی "بو ” آتی ہے . میں اپنی ذہنی صحت کے قائم رہنے کے لئیے اس طرح کے مکالمے اور فنڈز گزیدہ پروجیکٹس سے کنارہ کش ہو چکی ہوں.میرے لئیے یہ سارا ڈرامہ اعصاب شکن ہے، اس لئیے بھی ان موضوعات سے دور رہتی ہوں.

کئی بار اپنے ہی پرانے کاموں کی نقل دیکھتی ہوں، پزیرائی سمیٹنے والوں کا سٹیٹس سمجھتی ہوں . پہلے جھنجھلاہٹ ہوتی تھی پھر اکتاہٹ ہو نے لگی، اب کچھ بھی نہیں ہوتا . کبھی کبھی "زندہ ” بچ جانے والے بچوں ،بچیوں اور دوسری ،تیسری جنسی شانخت سے منسلک معصوموں کا سوچ کر بہت گھبراہٹ ہوتی ہے. گریہ کرنے کو دل کرتا ہے مگر آنسو خشک ہو چکے ہیں.

زندگی سے یہی سیکھا کہ پرینٹنگ سب سے دقت طلب اور توجہ طلب کام ہے . شادی بھی سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے اور اولاد بھی سوچ بچار کے بعد پیدا کرنی چاہیے .مگر یہ تو تب ممکن ہو جب عورت حقیقی معنوں میں با اختیار ہو . ماؤں کو بہت قربانی دینے کی ضرورت ہے اور سمجھداری سے بچوں کی پرورش کرنی چاہیے . یہ جملے بہت سوں کو کھلتے ہیں . شائد مجھ جیسی عورت پھر فیمنسٹ کہلانے کی بھی مستحق نہیں رہتی . کسی بھلے مانس کی ٹویٹ پڑھی کہ ٹی وی پر طلاق شدہ عورتیں شادی اور گھرداری کی باتیں کرتی ہیں . اصل الفاظ بہت تلخ اور ترش تھے . ایسے کومنٹس سوشل میڈیا پر عام ہیں . سنگل مدرز عمومی طور پر اور وہ جو دھتکاری ہوئی بیوی ہو یا طلاق یافتہ ہو خصوصی طور پر ان کی تکلیف اور کرب کا بہت کم لوگوں کو ادراک ہوتا ہے . بعض ایسی خواتین لیڈرز ہیں جو ان مسائل کو بخوبی مارکیٹ کرتی ہیں.

میں خود ایک ” چائلڈ ابییوز سر و آئیور ” بھی ہوں . اس لئیے بھی لکھا کہ جوانی سے بڑھاپے تک مختلف نَوعِیَّت کا تشدد سہا ہے اور ابھی تک رپورٹ نہیں کر سکی ہوں . میں نے 31 سال کی عمر میں مون سون ویڈنگ فلم دیکھنے کے بعد ایک خاص تناظر میں گھر میں اپنے بارے میں لب کشائی کی . اب تک ابیوزر جو ایک معروف نام تھا ،ادبی اور نوکرشاہی حلقوں میں نام نہیں لے سکی .

برسوں ادب سے محبّت کا اظہار نہیں کر سکی کیوں کہ بچپن میں ہی اس راز کو پا گئی کہ ادب اور ادیب دو مختلف دنیائیں ہیں . ادیبوں سے دور رہنا چاہیے . پھر جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ایسا لگا کہ ہر کسی سے دور رہنا چاہیے. مولوی ، ملا ، استاد ، نوکر ، ڈرائیور ،آجر ،باس…… عورت کہیں بھی کسی کے ہاتھ محفوظ نہیں ہے.بات نا محرم مردوں تک ہی محدود نہیں ہماری بچیاں، لڑکیاں ،لڑکے …. بھی محرم رشتوں کی کمینگی اور جنسی استحصال سے محفوظ نہیں.

میری جیسی بے شمار خواتین جنہوں نے سرنیم کی سہولت کو یا صرف عورت ہونے کو استعمال کرنا نہیں جانا ، سیکھا یا چاہا ان کا المیہ یہ ہے کہ اکثر قریبی جاننے والے ان کو رج کے بے وقوف عورت سمجھتے ہیں یا جو نہیں واقف حال وہ محض تعصب یا جعلی اطلاعات پر یقین کرتے ہیں. ان کے نزدیک ایسی خواتین انتہائی چالاک ، بے شرم اور منافق ہوتی ہیں. ہمارے معاشرتی دستور ہیں کیا ؟-

جنسی اور جذباتی تشدد کو نار ملائز کردیا گیاہے اور ان کے متعلق معلومات کو ممنوع . ریپ کرنے والے کو نہیں بلکہ ریپ ہونے والوں کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے . متاثرہ فرد کی آواز دبانے کو یقینی بنایا جاتا ہے . ایک بوری گندم پر کورٹ کے باہرچھوٹی بچی کے ساتھ ہونے والے مظالم پر سمجھوتہ کر لیا جاتا ہے.

اچھی خاصی پڑھی لکھی خواتین بھی پدر سری رویّے کا مظاہرہ کرتی ہیں .صنفی تشدد ، ہراسگی اور ہر عمر کی عورت کے خلاف بدسلوکی کو ایک افسانہ جانتی ہیں . میرے اپنے حلقے میں بھی ایسی خواتین ہیں.

مرد شادی شدہ ہو کر بچے پیدا کر کے مُعَزَّز ہو جاتے ہیں . مرد داڑھی رکھ کر بزرگی کی بھی سند حاصل کر لیتے ہیں. اگر کوئی بات کی بھی جائے تو یہاں تک سننے میں آتا ہے کہ وہ تو نیک اور شریف ہیں . کون جرح کرے کہ کیا چھوٹے بچے یا بے طاقت لڑکیاں صرف الزامات لگاتے ہیں ؟

میں نے شعوری طور پر خود ترسی سے اجتناب کیا ہے. دکھ درد کبھی نہیں بیچے .غم کو طاقت میں ڈھالا اور خود ریزہ ریزہ وجود کے ساتھ تیس سالوں تک پاکستان کے ہر حصّے میں کمیونٹی کے ساتھ صحت ، تعلیم ،تخفیف غربت جو انسانی ترقی کے بنیادی شعبہ جات ہیں. ان میں صنفی اور پاکستانی عدسوں کے ساتھ خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کے لئیے کچھ نئی راہیں تراشیں اور کچھ کانٹے انگلیوں سے چنے .جیون کی چالیس گرہوں کو بندھے ہاتھوں سے کھولنے کی کوشش مسلسل کے بعد کچھ کچھ اپنے بارے میں بولا یا لکھا کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ میرے بارے میں لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں. ذاتی زندگی کا عکس نازیبا توجہ یا ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں دکھایا . ساکھ اور صداقت ایشوز پر مہارت اور اخلاص سے قائم ہوتی ہے.

اس کالم کا اصل مدعا تو /CSEA چائلڈ سکچوال عکسپلویٹشن اور ابیوز کے حوالے سے اپنے موقف کا بیان ہے . بچپن کے کربناک تجربات کے اثرات دورس ہوتے ہیں . یہ اثرات نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی، ذہنی اور سماجی پہلوؤں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ تشدد اور صدمات کے نتیجے میں بچوں اور بالغوں کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں خوف، بے چینی، ڈپریشن، اعتماد کی کمی، اور تعلقات میں مشکلات شامل ہیں۔

صنفی امتیاز اور طبقاتی امتیاز ہر کسی کے لئیے ایک مختلف پل صراط ترتیب دیتے ہیں، ان کو پار کرنا نا ممکن نہیں ہے مگر ایک مشکل مرحلہ ہے . بیشتر ماہر نفسیات جو غیر اخلاقی پریکٹس کرتے ہیں اور اپنے ذاتی نظریات پر مبنی تبلیغ کو اس کا حصّہ بناتے ہیں، اس پر بھی لکھا ہے اور مزید لکھوں گی . اگر مجھ جیسی خودمختار اور مضبوط عورت بھی اس درد کا مکمّل درماں نہیں پا سکی اور اگر کسی روشن خیال خاندان اور مذہبی تعلیمات سے واقف خاندان میں بھی وکٹم کو بلیم کیا جائے یا یہ طعنہ دیا جائے کہ اس وقت کیوں نہیں بولی یا یہ التجا کی جائے کہ خاموش رہو اور الله پر چھوڑ دو تو یہ اندازہ لگانا ذرا بھی تو مشکل نہیں ہے کہ غریب اور تعلیم سے محروم طبقات اور غیرت کے روایتی غیر انسانی اور نا انصافی کے قائل قبائل ، برادریاں اور خاندان اس پیچیدہ صورت حال سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہوں گے؟

یہ عمر بھر کا روگ ہے . اس کا حل کوئی ایک این جی ا و ،ڈونر کمپنی یا میڈیا کمپین /مہم نہیں ہے بلکہ میں بار بار کہوں گی کہ کسی حد تک تحفظ ذمدار پے رینٹنگ ہے . ( تاہم اگر بدقسمتی نے ستم گری ٹھان لی ہو تو یہ بھی بے فائدہ ہے جیسے کہ ہم باپ بیٹی ، ماموں بھانجی ، چچا بھتیجی اور بہن بھائی کے محرم رشتوں میں incest دیکھتے ہیں اور اس بات کو "دلیری” سے رد کرتے ہیں ). آپ کو زینب نور کا کیس یاد ہوگا . میں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس مقتولہ بچی کے والدین اس کو رشتے داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر عمرہ کرنے کس دل سے چلے گئے تھے ؟

آؤٹ آف ڈی شیڈو انڈیکس نے CSEA کی مد میں پاکستان کو 60 ممالک میں سے 51 ویں نمبر پر رکھا ہے. یہ ادارہ بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خلاف ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے۔ اس انڈیکس کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر ملک میں بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے ہیں، قوانین، پالیسیز، اور ان کے نفاذ کی حالت کیا ہے.پاکستان کی یہ رینکنگ ظاہر کرتی ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

ریاست کی زمداریوں پر کھل کر بات نہیں ہوتی . برسبیل تذکرہ -کرنٹ افیئرز کے ٹی وی شوز کا مقصد عوامی مسائل سے صرف نظر کرنا ہے . میں خوشی سے حیران ہوں گی ،اگر ہمارے نامی گرامی اینکرز کو ایس ڈی جیس (SDGs) اور ان خرابیوں کے باہمی ربط کا کچھ بھی پتا ہو. یہی حال پارلیمان کی اکثریت کا ہے . جو شور موسمیاتی تبدیلیوں کے امپیکٹ پر ہے، وہ ڈونر ڈرون ہے.

بچے الله کی نعمت اور امانت ہیں اور پرورش ایک سنجیدہ عمل ہے . اگر کسی کے ساتھ بھی ایسا ظلم ہو تو اس کو جرم جان کر سزا دلوائیں اور معاشرے کو اس جرم سے نفرت کرنا سکھائیں نہ کہ مظلوم سے جو جرم کا شکار ہوئے. ووکلاء ، جج ، پولیس، ڈاکٹرز ، پیرا لیگل اور پیرا میڈیکس عملے کی بھی انسانی حقوق اور صنفی تعصبات کے حوالے تربیت کی ضرورت ہے . افسوس صد افسوس ! حساس امور پر نتائج افزا ،اقدامات کے لئے جس درجے کی متانت اور لیاقت چاہیے، وہ کسی بھی ادارے کے پاس نہیں .

ڈاکٹر رخشندہ پروین-ایک پاکستانی صحت عامہ اور صنفی امور کی ماہر ہیں اور ایک سوشل انٹراپرینور ہیں. مختلف سماجی ترقی کے سیکٹرز میں کام کرتی رہی ہیں اور کئی جامعات میں پڑھاتی بھی رہی ہیں. وہ پاکستان میں پی ٹی وی کی صبح کی لائیو نشریات اور حالات حاضرہ کے شو کی پہلی خاتون اینکر ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں. صنف کے حوالے سے پی ٹی وی پر بطور نجی پروڈیوسر ان کی سال 1999 کی سیریز جینڈر واچ ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہے . اس کے علاوہ جہیز بطور ایک تشدد اور صنفی تشدد کے خلاف ان کا کام نمایاں اور منفرد رہا ہے . گزشتہ دس سالوں سے وہ اپنی تحریر اور تقریر سے محب وطن بہاریوں خاص طور پر موجودہ بنگلہ دیش میں محصورین کے لئیے بھی ایک آواز بن رہی ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے