شہریوں کے حقوق اور ذمہ داریوں پر ایک روزہ سیشن کا انعقاد

پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے چارسدہ لائبریری میں ایک روزہ فورم کا انعقاد ہو ا۔ پینل میں اکیڈیمیہ اور یوتھ کے نمائندے شامل تھے ۔ پینل کی ماڈریٹر روزنامہ چارسدہ نیوز کے جائنٹ ایڈیٹر محمد عابد جان تھے ۔ فورم کا موضوع تھا، ” آئین پاکستان کے تناظر میں نوجوانوں کے حقوق اور ذمہ داریاں” .

فورم کا آغاز عابد جان نے کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بارے میں حاضرین کو بریفنگ دی اور ان کے کام پر روشنی ڈالی ۔ اس کے بعد موضوع کی ضرورت ، اہمیت اور اس موضوع کے انتخاب پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں آئین پاکستان میں دئیے گئے اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں جاننا ہم سب کے لیے بے حد ضروری ہے۔ پاکستان کا آئین پاکستانیوں ہی کے لئے بنایا گیا ہے لہذا ہم کبھی بھی اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے ۔ انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس فورم میں شرکت کی اور اپنا قیمتی وقت صرف کرکے حاضر ہوئے ۔

پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے آئین پاکستان میں موجود انسانی حقوق سے متعلق آرٹیکلز پر تفصیلی گفتگو کی ۔ انہوں نے ان آئینی شقوں کے پس منظر ، ان کے حدود و قیود ، ان کے موثر استعمال اور ان شقوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی فردی آزادیوں پر مفصل بحث کی ۔انہوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین پاکستان کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور شروع ہی سے نوجوانوں کو پڑھایا جائے تاکہ انہیں اپنے ملک کی آئین بارے آگاہی حاصل ہو جائے اور اجنبیت اور بیگانگی کی یہ فضا ختم ہو۔ انہوں نے آئین پاکستان کے متن کو آسان اور عام فہم بنانے پر زور دیا ۔

منیجمنٹ کیڈر سے تعلق رکھنے والے محترم ضیاء اللہ جو کہ ایک فعال یوتھ ایکٹیوسٹ بھی ہیں ، نے نوجوانوں کی زمہ داریاں احسن طریقے سے بیان کیں۔ موجودہ دور میں نوجوانوں کو درپیش مسائل ، چیلنجز ، مشکلات اور نوجوانوں کو دستیاب مواقع پر انہوں نے سیر حاصل گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زیادہ حصہ پر مشتمل ہیں۔ اس کے باوجود ان کو وہ مواقع میسر نہیں جن کے وہ حقدار ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز کا ذکر کیا ، کس طرح وہ معاشرے میں آگے بڑھنے کے لئے جد وجہد کرتے ہیں۔ انہیں اقربا پروری ، رشوت ستانی اور بدعنوانی جیسے عفریت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مواقع نہایت محدود ہونے کے باوجود یہ نوجوان ہمت نہیں ہارتے اور آگے ہی آگے بڑھنے کی لگن اور جستجو میں لگے رہتے ہیں ۔ بہت سے نوجوان ملک میں رہنے کو اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے ارباب اختیار کو چاہئے ایسے نوجوانوں کے سروں پر دست شفقت رکھیں اور ان کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی کوشش کریں۔

نوجوان وکیل جلال خان ایڈووکیٹ نے اپنی باری پر آئین پاکستان میں موجود چند دلچسپ قوانین اور آرٹیکلز کا ذکر کیا جسے حاضرین نے بے حد توجہ اور دلچسپی سے سنا ۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 8 سے لے کر 28 تک جو انسانی حقوق اور آزادی سے متعلق ہیں پر بھرپور گفتگو کی اور تقریباً تمام آرٹیکلز کو ایک ایک کرکے وضاحت سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 ہر پاکستانی کو آزادی اظہار کا حق دیتا ہے .

اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں حاضرین نے بے حد دلچسپی لی اور کھل کر سوالات کئے ۔ زیادہ تر حاضرین کے سوالات آئینی دفعات کے متعلق تھے جن کے پینلسٹس نے تشفی بخش جوابات دئیے ۔ طالب علم حمزہ نے کہا وہ شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ انہیں تعلیمی اداروں میں آئین پاکستان کے بارے میں پڑھانا چاہئے ۔ بطور پاکستانی ہم سب کو اپنے آئین سے آگاہی حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ کالج کی سطح تک پہنچنے کے باوجود طلباء کی اکثریت کو آئین پاکستان کی موٹی موٹی شقوں کی بھی شد بد نہیں ہوتی ۔

مدرس کلیم اللہ نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا کہ تقریبا ہر کلاس میں معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کی کتاب ضرور ہوتی ہے، اس کے باوجود یہ ایک المیہ ہےکہ آج تک نصاب میں انسانی حقوق اور آئین پاکستان سے متعلق کچھ بھی مواد شامل نہیں کیا گیا ہے۔ وہ اس بات کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت وقت کو اس جانب توجہ دینی چاہئے تاکہ تمام شہری اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوسکیں اور آئین پاکستان محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہ رہ پائے ۔

ایک اور طالب علم قیصر نواز نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ وہ اکثر اپنے چچا سے، جو کہ ایک سیاسی جماعت میں عہدیدار ہیں ، آئین پاکستان میں دئیے گئے بنیادی بشری حقوق بارے سنتے رہتے ہیں لیکن انہیں کبھی اس دستاویز کو پڑھنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ لیکن اس فورم میں شرکت کرنے کے بعد وہ پرعزم ہیں کہ جلد ہی وہ آئین کا مطالعہ کریں گے کہ اس شرکت نے ان کے اندر کی پیاس کو بڑھا دیا ہے ۔

انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے وسیم خان کا کہنا تھا کہ آج کل ڈیجیٹل شہری کا تصور زور پکڑ رہا ہے ۔ ڈیجیٹل شہری کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے آئینی حقوق وفرائض سے مکمل طور پر آگاہ ہوگا ۔ بطور ایک ذمہ دار شہری وہ اپنے حدود و قیود سے بھی آگاہ ہوگا اور دوسروں کی آزادی سے بھی مکمل طور پر آگاہی رکھے گا۔

فارماسسٹ شیراز احمد کا کہنا تھا کہ ان کے لئے اس سیشن میں شرکت کرنا ایک منفرد تجربہ تھا ۔ اس سے پہلے انہیں اس قسم کے پروگراموں میں شرکت کرنے کا موقع نہیں ملا تھا کیوں کہ ان کے کام کی نوعیت ہی ایسی ہے ۔ لیکن اس سیشن میں شریک ہونے کے بعد انہیں لگتا ہے اس قسم کے آگاہی سیشنز کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اس سے پہلے انہیں آئین پاکستان میں موجود انسانی حقوق سے متعلق آرٹیکلز کا کچھ علم نہیں تھا ۔ اس سیشن نے ان کی معلومات میں بے حد اضافہ کیا ہے ۔ ان کے مطابق وہ آئیندہ بھی اس قسم کے پروگراموں میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سینئر سٹیزن اور ہیڈماسٹر فخر الاسلام کا کہنا تھا بطور ایک معزز شہری کے ہمیں اپنے آئین کے بارے میں اپنے بچوں کو بتانا چاہئے اور اس بات کی باقاعدہ تربیت دینی چاہیے کہ وہ اپنے حقوق و فرائض پہچاننے چاہیے ۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ اس سیشن میں شرکت کرنے کے بعد وہ اور بھی شدت کے ساتھ یہ بات محسوس کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے ادارے کی سطح پر کم از کم ایک پروگرام اس قسم کا ضرور رکھیں گے ۔

بلال احمد جو کہ ایک آن لائن ٹیچر ہیں ، کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ مختلف ممالک کے طلباء کو پڑھاتے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں شروع میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ انہیں دوسروں کے حقوق کا زیادہ تر علم نہیں تھا ۔ بعد میں معاملات درست ہوگئے تھے ۔ سو وہ سمجھتے ہیں نوجوانوں کو اپنے حقوق و فرائض جاننا بے حد ضروری ہے اور وہ اس ضمن میں پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ان کو سراہتے ہیں۔

ایک بات جو بہت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی کہ معاشرے کے اکثر افراد آئین پاکستان میں دئیے گئے انسانی حقوق سے لاعلم تھے ۔ حاضرین کے مطابق یہ مطالعہ کی کمی اور اس قسم کے آگاہی سیشنز کے عدم انعقاد کا نتیجہ تھا ۔ اگر ان کے لئے اس قسم کے سیشنز وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہیں تو کچھ بعید نہیں وہ بہت حد تک ایجوکیٹ ہو جائیں گے اور آئین پاکستان میں دئے گئے اپنے حقوق و فرائض کو بخوبی پہچان سکیں گے ۔

اس سلسلے میں پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے اپنے کالج کی سطح پر ماہانہ بنیاد پر سیشن منعقد کرنے کا وعدہ کیا ۔ جبکہ جلال ایڈوکیٹ نے اس مد میں بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کی کہ جب بھی انہیں اس قسم کے پروگراموں میں گفتگو کے لئے دعوت دی جائے گی وہ فی الفور حاضر ہوں گے ۔

بعد میں حاضرین نے پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا بھی بے حد شکریہ ادا کیا ،جس کی بدولت ان کے لئے اس قدر معلوماتی سیشن کا انعقاد ممکن ہوا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے