اقلیتی برادری کے ” فنڈز اور سکیمیں” صرف کاغذی کارروائی تک محدود

پاکستان میں اقلیتی برادری کی حالت زار حکومتی بے حسی کی عکاس ہے۔ اقلیتی برادری کو ان کے جائز حقوق اور وسائل فراہم کرنے کے حوالے سے حکومتی وعدے ہمیشہ باتوں تک ہی محدود رہے ہیں۔ کاغذی سطح پر ہر حکومت فنڈز مختص کرتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ رقم برادری کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوتی۔ اس لاپرواہی کی وجہ سے اقلیتی برادری پاکستان کے مختلف شہروں میں غربت، بے بسی اور خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔

"ملتان میں اقلیتی برادری کی صورتحال”

ملتان شہر میں اقلیتی برادری کی تعداد 15,945 ہے، جن کا ووٹ ہر انتخابات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 2019 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملتان شہر کے چرچوں اور مندروں کی مرمت کے لیے 3 کروڑ 33 لاکھ روپے مختص کیے تھے۔ اس کے علاوہ، ہولی، کرسمس اور دیوالی کے مواقع پر ہر خاندان کو 1 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ میسیحی قبرستان کے لیے 5 کنال زمین دینے کی بھی بات کی گئی تھی۔ اقلیتی علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس لگانے کے لیے 70 لاکھ روپے مختص کیے گئے، لیکن پی ٹی آئی حکومت کے دوران صرف 30 فیصد رقم اقلیتی برادری کی فلاح پر خرچ ہو سکی۔ چرچ اور مندروں کی مرمت پر 90 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، لیکن باقی رقم ریلیز نہ ہو سکی۔

"حلقے کے عوامی نمائندے کیا کہتے ہیں ؟”

اس وقت کے ایم پی اے وسیم خان باروزئی کے مطابق، 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ممتاز آباد کی مرکزی سڑک کی تعمیر پر خرچ کیے گئے، کیونکہ دیگر فنڈز ریلیز نہ ہوئے۔ مندروں اور چرچوں کی مرمت کے لیے محکمہ اوقاف کے فنڈز کو استعمال کرنے کی بات کی گئی، جس کی وجہ سے کئی منصوبے ادھورے رہ گئے۔

"نگران حکومت اور اقلیتی برادری کے مسائل”

جنوری 2023 میں نگران حکومت کے آنے کے بعد اقلیتی علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس اور گھروں کی مرمت کے لیے 2 کروڑ 22 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایات دی گئیں کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، لیکن فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتی برادری صاف پانی تک رسائی سے محروم رہی۔ 2024 کے انتخابات سے پہلے پی پی 217 کے حلقے میں، جہاں ہندو اور میسیحی برادری کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، امیدواروں نے ووٹ مانگنے کے دوران انہیں صاف پانی اور سیوریج سسٹم کی بہتری کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن بعد میں بھی ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

"سماجی تنظیموں کی آواز”

پاکستان زندہ آباد بے سک آرگنائزیشن اور سماج سیوا کی صدر، شاکونتلا دیوی، جو 2008 سے انسانی حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ حکومتیں صرف ووٹ کے لیے اقلیتوں کو استعمال کرتی ہیں۔ 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 50 لاکھ روپے اقلیتی برادری کے 50 گھرانوں کے لیے مختص کیے، لیکن حقیقت میں یہ رقم صرف 20 گھرانوں تک ہی پہنچی۔ چیک تقسیم کرتے وقت بھی کئی افراد کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ ان کے نام رجسٹر میں موجود نہیں۔

شاکونتلا دیوی کے مطابق، 2021 میں اقلیتی بچوں کے لیے وظائف کے اعلان کے باوجود، فنڈز صرف اُن بچوں تک پہنچے جو ٹاپر تھے، حالانکہ یہ رقم تمام بچوں کے لیے تھی جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ برادری کے لوگوں کو حکومت کی جانب سے ہر سال ہولی اور دیوالی پر معمولی رقم دی جاتی ہے، لیکن وہ بھی مکمل طور پر تقسیم نہیں ہوتی۔

"اقلیتی برادری کے حقوق کی پامالی”

شاکونتلا دیوی کے مطابق، اقلیتی برادری کے مندروں کی حفاظت اور مرمت کے حوالے سے حکومت نے متعدد وعدے کیے، لیکن فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے یہ وعدے کبھی پورے نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادری کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے، اور وہ غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ کیا اقلیتوں کا اس ملک میں کوئی حق نہیں؟ اقلیتی برادری کے لیے مختص کیے گئے فنڈز صرف کاغذی کارروائی تک ہی محدود کیوں رہتے ہیں؟

اقلیتی برادری کو ان کے حقوق دینے کے بجائے انہیں صرف ووٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومتیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں، لیکن اقلیتی برادری کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ ان کی بنیادی ضروریات جیسے صاف پانی، سیوریج سسٹم، اور مذہبی عبادت گاہوں کی مرمت تک کے لیے بھی فنڈز کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔

"سرکاری توجہ کی منتظر”

اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی وعدے اور فنڈز صرف باتوں تک محدود رہے ہیں۔ ان کی بہتری کے لیے جو رقم مختص کی جاتی ہے، وہ کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ حکومت کو اقلیتی برادری کے حقوق کی فراہمی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں ایک باعزت زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے