لاہور جنرل اسپتال میں زیر علاج خاتون ٹیچر انیلا نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میرے مالی حالات اچھے نہیں ہیں جس کی وجہ سے ٹیوشن پڑھاتی ہوں،میرے شوہر منڈی کے پاس ریڑھی لگاتے ہیں۔
میں دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہوں،مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے ٹیوشن میں آتے ہیں،گذشتہ روز 20 سے 22 بچے ٹیوشن پر آئے تھے۔
بارش سے چھت ٹپکتی تھی جس کی وجہ سے مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا،مجھے نہیں پتہ تھا کہ چھت گر جائے گی۔میری بیٹی کی حالت بہتر ہے وہ اسپتال سے ڈسچارج ہو گئی ہے لیکن میں اس سے ملی نہیں ہوں،یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خاتون ٹیچر کی حالت خطرے سے باہر ہے،ایک دو روز میں اسپتال سے ڈسچارج کردیا جائے گا۔
دوسری جانب لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔