تجاوزات کے خلاف آپریشن یا محض ڈرامہ بازی؟

آج کل اسلام آباد اور خیبر پختونخواہ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن زوروں پر ہے۔ سڑکوں کے کنارے، سرکاری زمینوں پر سالوں سے قائم کردہ مضبوط سیمنٹ کی دیواریں، احاطے اور گھر منٹوں میں ملبے کے ڈھیر بنائے جا رہے ہیں۔ سرکاری افسران پریس کانفرنسیں کر کے شیخ شیخ کے دعوے کر رہے ہیں کہ اربوں روپے کی سرکاری اراضی کو قابضین سے واگزار کرا لیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب اتنی دیر سے کیوں ہو رہا ہے؟ اور اسلام آباد جو چند دہائیوں پہلے ایک منصوبہ بند دارالحکومت کے طور پر بنایا گیا تھا، وہاں اتنی بے باک تجاوزات کیسے پنپ گئیں؟

اسلام آباد تو شروع سے ہی ایک منصوبہ بند شہر تھا۔ اسے دارالحکومت بنانے کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنائے گئے، بڑی رقمیں خرچ کی گئیں، محکمے قائم کیے گئے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شہر بھی ان لوگوں کے ہاتھوں کا کھیل بن گیا جو قانون کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ سالوں تک آنکھیں بند رکھی گئیں، قبضوں کو پروان چڑھایا گیا، رشوت کے ذریعے کاغذات بنائے گئے اور سرکاری زمینیں بے دردی سے ہڑپ کر لی گئیں۔ پھر اچانک ایک صبح سگنل ملتا ہے اور غریب عوام پر قہر برسنا شروع ہو جاتا ہے۔

میں انگلینڈ میں رہتا ہوں اور یہاں کے نظام کا مشاہدہ کرتا ہوں۔ یہاں کے شہر صدیوں پرانے ہیں، ونڈسر کیسل گیارہویں صدی سے قائم ہے، لیکن یہاں کسی کی مجال نہیں کہ سرکاری زمین پر بغیر اجازت قبضہ کر لے۔ یہاں کے محکمے صرف ڈھانے کے لیے نہیں، بلکہ روک کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ پاکستان کے برعکس وہ سالوں تک سوتے نہیں رہتے، پھر ایک دن جلوس نکال کر عوام کے گھر اجاڑنے نہیں نکلتے۔

یہ بات سب کے سامنے ہے کہ اسلام آباد میں یہ تجاوزات ایک رات میں نہیں ہوئیں۔ جب یہ زمینیں قبضے میں لی جا رہی تھیں تو CDA، انتظامیہ، پولیس، میڈیا اور بلند آواز والے سب موجود تھے۔ پھر ان کالی بھیڑوں کو کیوں نہیں پکڑا گیا؟ جنہوں نے رشوت لے کر یہ سلسلہ چلنے دیا، جنہوں نے اشرافیہ کے لیے راستے ہموار کیے، انہیں عبرت کا نشان کیوں نہیں بنایا جا رہا؟ کیا صرف غریب ہی مجرم ہیں؟ کانسٹیٹیوشن ون، سینٹور اور ایسی ہی معاملات پر خاموشی کیوں چھائی ہوئی ہے؟

میرا تو یقین ہے کہ یہ آپریشن دراصل قانون کی فتح نہیں، بلکہ ایک اور ڈرامہ بازی ہے۔ سرکاری وسائل کو استعمال کر کے ملبہ اکٹھا کیا جا رہا ہے، پریس کے سامنے شو کیا جا رہا ہے اور عوام کو یہ دکھایا جا رہا ہے کہ حکومت کام کر رہی ہے۔ لیکن جب تک ان اصل مجرموں کا حساب نہیں ہو گا جنہوں نے سالوں تک یہ بھاڑ چلایا، یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ چند مہینے گزرتے ہیں اور پھر وہی زمینیں، وہی قبضے اور وہی کہانی شروع ہو جائے گی۔

اسلام آباد جو ایک شاندار دارالحکومت بننے کے لیے بنایا گیا تھا، آج قبضہ گروہوں اور بدعنوان عناصر کے ہاتھوں زخمی ہو رہا ہے۔ اگر واقعی انصاف کرنا ہے تو صرف غریبوں کے گھر نہیں، بلکہ ان سارے گھڑیالوں کو بھی پکڑا جانا چاہیے جنہوں نے اس شہر کو لوٹا ہے۔ اگر قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے تو پھر اس قانون کا کیا فائدہ؟

اللہ تعالیٰ پاکستان پر رحم فرمائے، حکمرانوں کو انصاف کی توفیق دے اور قوم کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے