قلم ہاتھ میں ،خوف دل میں،مقامی صحافیوں کی کھٹن زندگی

خیبرپختونخوا میں خبر دینا کسی امتحان سے کم نہیں ،جان کا خطرہ،بےروزگاری کا ڈر ، معاشی بدحالی و ہراسانی کا خوف جیسے چیلنجز میں کیسے صحافی عوام کی آواز بن سکتا ہے۔

بے شمار رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود مقامی صحافی کیسے کام کرتے ہیں چند ایک کی کہانی ان کی زبانی سنتے ہیں۔

ایک دھمکی جو صرف صحافی نہیں، پورے خاندان کو دی گئی

سکیورٹی خطرات کی شدت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایک صحافی، جس کا نام سکیورٹی خدشات کے باعث ظاہر نہیں کیا جا رہا، کو براہ راست دھمکی دی گئی۔
صحافی کے مطابق اسے کہا گیا.

اپنے بچوں کا بندوبست کرلیں، آپ کے بعد ان کو کون پالے گا؟

یہ الفاظ صرف ایک صحافی کو خاموش کرانے کی کوشش نہیں تھے بلکہ اس کے خاندان کو خوف میں مبتلا کرنے کا پیغام بھی تھے۔

صحافی کے مطابق اس وقت اسے وہ ادارہ جاتی مدد اور تحفظ حاصل نہیں ہو سکا جس کی اسے ضرورت تھی۔ بالآخر اسے اپنے پیشہ ورانہ کام سے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔

یہ واقعہ ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے، جب صحافی کو دھمکی ملتی ہے تو اس کے ساتھ اور اس کے خاندان کے ساتھ کون کھڑا ہوتا ہے؟

صحافیوں کو دھمکیاں اور حملے

دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق جب بھی کوئی رپورٹ درج کی جاتی ہے تو ضرور تحقیقات کی جاتی ہیں لیکن بہت سے صحافی انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنے خلاف ہونے والی دھمکیوں کو پولیس ریکارڈ یا ایف آئی آر کا حصہ بنانے سے گریز کرتے ہیں۔ جب کہ ان کے پاس کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ کتنے صحافیوں نے رپورٹ درج کیا ہے کیونکہ مختلف نوعیت کی ایف آئی آر مختلف تھانوں میں درج کی جاتی ہے۔

بنوں سے تعلق رکھنے والے صحافی احسان خٹک کے گھر پر 12 فروری 2026 کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی ۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔ احسان خٹک، جو اے آر وائی نیوز کے نمائندے اور بنوں پریس کلب کے سابق صدر ہیں، انہیں دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئی تھیں۔ پولیس نے انہیں اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کے ساتھ تحقیقات شروع کی۔

رپورٹنگ پر دھمکیاں

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے مطابق جون 2026 میں چارسدہ کے صحافی کفایت اللہ یوسفزئی کو مبینہ قتل کی دھمکیاں ملیں ۔ صحافی نے ایک سرکاری ہسپتال میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹنگ کی تھی، جس کے بعد انہیں دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی۔

پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کا تحفظ کا مطالبہ

احسان خٹک کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کے بعد بنوں پریس کلب نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا۔

میڈیا واچ ڈاگ رپورٹ

فریڈم نیٹ ورک کی جون 2026 کی رپورٹ میں ملک بھر میں صحافیوں کے خلاف نو مختلف نوعیت کے واقعات درج کیے گئے، جن میں قانونی کارروائیاں، گرفتاریاں، حملے اور دھمکیاں شامل تھیں۔ رپورٹ میں چارسدہ کے صحافی کفایت اللہ یوسفزئی کو ملنے والی دھمکی کا بھی ذکر ہے۔

طعنوں، دھمکیوں سے کامیابی تک: خالدہ نیاز کی جدوجہد

معاشرتی پابندیاں، ہراسانی اور دھمکیاں خالدہ نیاز کا راستہ نہ روک سکیں۔ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی یہ صحافی آج شال نیوز میں منیجنگ ایڈیٹر ہیں اور 13 قومی و بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں۔

’’تم لڑکی ہو، اتنی دیر سے گھر کیوں آتی ہو؟ نوکری چھوڑ دو یا شام سے پہلے گھر پہنچ جایا کرو!‘‘

یہ وہ الفاظ ہیں جو خالدہ نیاز کو اکثر گھر دیر سے پہنچنے پر سننا پڑتے تھے۔ لیکن ان کے لیے صحافت محض ایک ملازمت نہیں، بلکہ اپنی شناخت بنانے اور ان آوازوں کو سامنے لانے کا ذریعہ تھی جنہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

خالدہ کے لیے صحافت کا سفر آسان نہیں تھا۔ تعلیم کے حصول سے لے کر پیشہ ورانہ زندگی تک انہیں معاشرتی دباؤ، ہراسانی، کم تنخواہوں اور ملازمت کے عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

جب سچ بولنے پر سوال اٹھے

خالدہ خواتین اور بچوں کے حقوق، مذہبی اقلیتوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے مسائل اجاگر کرنے پر انہیں یہ سوال بھی سننا پڑا کہ وہ کس ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہیں۔

ان کے صحافتی سفر کا ایک مشکل ترین تجربہ اس وقت پیش آیا جب وہ تیراہ میں فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والی خواتین کے مسائل جاننے کے لیے جمرود پہنچیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ خواتین کو اپنے مسائل بیان کرنے پر آمادہ کرنا انتہائی مشکل تھا۔ جب کچھ خواتین بات کرنے پر رضامند ہوئیں تو وہاں موجود بعض افراد نے انہیں دھمکیاں دیں اور موبائل فون پر ریکارڈنگ بھی کی، کیونکہ ان کے بقول یہ عمل مقامی روایات کے خلاف تھا۔

یہ صرف ایک رپورٹنگ کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ اس حقیقت کی عکاسی بھی تھی کہ خواتین صحافیوں کے لیے بعض علاقوں میں سچ تک پہنچنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔

خالدہ نیاز کی کہانی محض کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ ان خواتین کی نمائندگی کرتی ہے جو معاشرتی پابندیوں، دھمکیوں اور محدود مواقع کے باوجود اپنے خوابوں سے دستبردار نہیں ہوتیں۔
خالدہ نے ثابت کیا کہ راستے میں رکاوٹیں کتنی ہی کیوں نہ ہوں، عزم مضبوط ہو تو اپنی پہچان بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم، خواتین صحافیوں کی کامیابی کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں؛ انہیں محفوظ ماحول، معاشی تحفظ اور مساوی مواقع بھی درکار ہیں۔

رانی عندلیب: فیلڈ رپورٹنگ کا خطرہ

خواتین صحافیوں کے لیے فیلڈ میں خطرات کی ایک اور مثال رانی عندلیب کا تجربہ ہے، جن پر جنوری 2025 میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

رانی عندلیب کا تعلق مہمند ضلع ہے اور پشاور میں رہائش پذیر ہیں ۔وہ بتاتی ہیں کہ پولیس کا جو رویہ تھا اس کو پڑوسی ملک کی فلم والی پولیس یاد آئی ، لیکن وہ اس تلخ یاد پر بات نہیں کرنا چاہتی اور آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔

ایک خاتون صحافی پر ایسا حملہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ فیلڈ رپورٹنگ کا خطرہ صرف خبر یا پیشہ ورانہ دباؤ تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات صحافی کی زندگی تک پہنچ جاتا ہے۔

جب کوریج کے دوران بھی روک دیا جائے

مقامی صحافیوں کے لیے مسئلہ صرف خطرناک علاقوں میں جانے کا نہیں۔ بعض اوقات صحافی کو کوریج کے دوران ہی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔

ایک کوریج کے دوران وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی کوریج سے صحافی کو روکنے کا واقعہ بھی اسی وسیع مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب رانی عندلیب کو ناصرف کوریج سے روک دیا گیا بلکہ وزیر اعلٰی خیبر پختون خوا کے پرسنل گارڈ نے رانی کو دھکا بھی دیا ۔ وہ بتاتی ہیں کہ سوال کا جواب دینا یا نہ دینا سی ایم کی مرضی تھی لیکن ایک زمہ دار کرسی پر بیٹھ کر اس حرکت کا بہت دکھ ہوا۔ ایسے واقعات صحافیوں کے لیے رسائی، آزادی اور پیشہ ورانہ خودمختاری کے سوالات پیدا کرتے ہیں۔

پریس کلب کی رکنیت اور صحافتی کارڈ: ایک خاموش رکاوٹ

مقامی اور فری لانس صحافیوں کے لیے ایک اور عملی مسئلہ پریس کلب کی رکنیت اور صحافتی شناختی کارڈ کا نہ ہونا ہے۔

بعض اوقات پریس کلب کی ممبرشپ یا کسی تسلیم شدہ میڈیا ادارے کا کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے صحافیوں کو اہم تقریبات، سرکاری سرگرمیوں یا حساس مقامات کی کوریج کے دوران رسائی اور شناخت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ صورتحال خاص طور پر ان رپورٹرز کے لیے مشکل ہے جو مستقل طور پر کسی بڑے میڈیا ہاؤس سے وابستہ نہیں ہوتے ۔

یوں معاشی عدم تحفظ صرف تنخواہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ صحافی کے خبر تک پہنچنے کے حق کو بھی متاثر کر سکتا ہے.

خبر کی قیمت، معاوضہ کتنا؟

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی محمد فہیم گزشتہ 19 برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور تقریباً 11 سے 12 برس سے فیلڈ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے مقامی صحافیوں کے لیے معاشی عدم تحفظ اور سکیورٹی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔

محمد فہیم کے مطابق صوبے میں صحافیوں کے لیے ملازمت کے مواقع محدود ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی رپورٹر سے پورا بیورو چلانے کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ تنخواہوں کے پیکیج انتہائی کم ہوتے ہیں۔ بعض اداروں میں تنخواہیں کئی کئی ماہ تاخیر کا شکار رہتی ہیں۔

ان کے مطابق جب صحافی پہلے ہی کم آمدن، ملازمت کے غیر یقینی مستقبل اور ادارے کی محدود معاونت کا شکار ہو تو طاقتور حلقوں سے متعلق حساس موضوعات پر آزادانہ رپورٹنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

خطرہ زیادہ، معاوضہ کم

آمنہ سالارزئی باجوڑ سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک مقامی صحافی ہیں کے مطابق مقامی اور قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے رپورٹرز کو ایک طرف حساس اور خطرناک موضوعات پر رپورٹنگ کے لیے فیلڈ میں جانا پڑتا ہے، جبکہ دوسری طرف ان کی محنت کے مقابلے میں مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔

وہ کہتی ہیں کہ قبائلی علاقوں سے خبریں اور اسٹوریز تو مانگی جاتی ہیں، لیکن ان اسٹوریز کی تیاری پر آنے والے اخراجات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
سفر، موبائل فون، انٹرنیٹ اور دیگر فیلڈ اخراجات اکثر رپورٹر خود برداشت کرتا ہے۔

بعض جگہوں پر تنخواہیں تاخیر سے ملتی ہیں، جبکہ ملازمت کا تحفظ بھی موجود نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی آسان نہیں کیونکہ بہت سے رپورٹرز کو خدشہ ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کم معاوضے یا دیگر مسائل پر سوال اٹھایا تو ان کی ملازمت ہی ختم نہ ہو جائے۔

جب روزگار کا خوف صحافت پر اثر انداز ہو

خالدہ نے مزید بتایا کہ ایک صحافی جو اپنے گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، سفر، موبائل اور انٹرنیٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی ملازمت پر منحصر ہو، اس کے لیے طاقتور لوگوں کے خلاف یا حساس معاملات پر رپورٹنگ کرنا آسان نہیں ہوتا۔

معاشی عدم تحفظ اس طرح صرف گھر کے بجٹ کو متاثر نہیں کرتا؛ یہ صحافی کے فیصلوں اور پیشہ ورانہ آزادی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اگر صحافی جانتا ہو کہ ایک سخت رپورٹ کے بعد اس کی ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے تو خبر اور روزگار کے درمیان انتخاب ایک مشکل ذاتی فیصلہ بن جاتا ہے۔

خواتین کی کم نمائندگی

پشاور پریس کلب میں مرد ممبران کی تعداد 482 جبکہ خواتین ممبران کی تعداد 12 بتائی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع کے 13 پریس کلبوں میں صرف ایک خاتون پریس کلب کی رکن بتائی جاتی ہے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کی رکنیت 583 جبکہ خواتین صحافیوں کی تعداد 13 بتائی جاتی ہے۔

یہ اعداد و شمار اس سوال کو بھی سامنے لاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں خواتین صحافیوں کے لیے فیلڈ میں داخل ہونے،موجود رہنے اور فیصلہ سازی کے عمل میں نمائندگی حاصل کرنے کے مواقع کتنے ہیں۔

حکومت کے اعلانات اور زمینی حقیقت

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ 2026-27 کے ترقیاتی پروگرام میں صحافیوں کی پیشہ ورانہ استعداد اور فلاح، میڈیا کالونیوں اور پریس کلبوں کی بہتری کے لیے بڑے مالی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ورکنگ جرنلسٹس کے لیے آسان شرائط پر بلاسود قرضوں اور جرنلسٹس ویلفیئر اینڈومنٹ فنڈ میں اضافے کے اعلانات بھی سامنے آئے ہیں۔
لیکن اصل سوال اعلان نہیں، عملدرآمد کا ہے۔

جب رپورٹنگ کے ساتھ قانونی خطرہ بھی جڑ جائے

صحافیوں کے لیے مشکلات میں ایک اور پہلو قانونی ماحول کا بھی ہے۔ کیونکہ خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور ہونے والی قانون سازی میں اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ، اشاعت اور نشریات سے متعلق مختلف پابندیاں اور خلاف ورزی کی صورت میں سزائیں شامل کی گئی ہیں۔ ان حالات میں صحافیوں کے لیے ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے جب ایک مقامی رپورٹر پہلے ہی معاشی مشکلات، سکیورٹی خطرات اور ادارہ جاتی عدم تحفظ کا سامنا کر رہا ہو تو کیا قانونی پیچیدگیاں اس کے لیے آزادانہ رپورٹنگ کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں؟

یہ سوال خاص طور پر مقامی صحافیوں کے لیے اہم ہے کیونکہ ان کے پاس بڑے میڈیا اداروں کی طرح ہمیشہ قانونی ٹیم یا ادارہ جاتی تحفظ موجود نہیں ہوتا۔

برطرفیاں اور پیشہ چھوڑنے پر مجبور صحافی

خیبر پختونخوا میں میڈیا کے معاشی بحران نے بھی صحافیوں کو متاثر کیا ہے۔ سرکاری اشتہارات کی عدم ادائیگی، میڈیا اداروں کے مالی مسائل اور اخراجات میں کمی کے نتیجے میں متعدد صحافیوں کی ملازمتیں ختم ہوئیں۔ یہ کہنا ہے پاکستان ٹیلی وژن کا سینئر نیوز ایڈیٹر محمد عرفان خان کا۔

وہ بتاتے ہیں کہ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع اور سابق قبائلی علاقوں کے صحافی اس صورتحال سے متاثر ہوئے۔ بعض صحافیوں نے معاشی مشکلات اور عدم تحفظ کے باعث صحافت چھوڑ کر متبادل روزگار اختیار کیا۔

صحافی کو خبر سے پہلے اپنی سلامتی کیوں سوچنا پڑتی ہے؟

خیبر پختونخوا کا مقامی صحافی صرف خبر کے پیچھے نہیں بھاگ رہا؛ وہ بیک وقت روزگار، شناخت، رسائی، سلامتی اور پیشہ ورانہ آزادی کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔

جب فیلڈ کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے پڑیں، تنخواہ کم یا غیر یقینی ہو، ملازمت کا تحفظ نہ ہو، پریس کلب کی رکنیت یا میڈیا کارڈ نہ ہونے سے کوریج مشکل ہو، دھمکی ملنے پر ادارہ جاتی مدد محدود ہو اور حساس رپورٹنگ کے ساتھ قانونی خطرات بھی موجود ہوں تومحمد عرفان خان کےبقول ’صحافی کے لیے آزادانہ کام کرنا ایک مسلسل امتحان بن جاتا ہے‘

آزادی صحافت صرف یہ نہیں کہ صحافی کو بولنے کی اجازت ہو۔

آمنہ سالارزئی کہتی ہیں کہ آزاد صحافت کے لیے ضروری ہے کہ صحافی محفوظ بھی ہو، اسے مناسب معاوضہ بھی ملے، اس کی ملازمت محفوظ ہو، اسے فیلڈ میں رسائی حاصل ہو اور خطرے کی صورت میں اس کے ساتھ ادارہ جاتی اور قانونی مدد موجود ہو۔کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں کہ صحافی خبر پہنچا سکتا ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کا مقامی صحافی جب خطرے میں ہو تو اس کے ساتھ کون کھڑا ہوتا ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے